برطانیہ کے امیگریشن قوانین لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں؟

ہوم آفس پر الزام ہے کہ اس نے مبینہ طور پر ظالمانہ اور غیرانسانی رویہ اپناتے ہوئے ہسپتال کے بستر پر کوما میں موجود ایک بھارتی خاتون کو جبری ملک بدری کا حکم دیا۔

31 سالہ بھارتی خاتون  بھوانی ایسپاتھی گذشتہ برس ستمبر میں ایک آپریشن کے نتیجے میں ڈیڑھ ہفتے کے لیے کوما میں چلی گئی تھیں۔تصویر: بھوانی ایسپاتھی

برطانیہ کے ہوم آفس پر الزام ہے کہ اس نے مبینہ طور پر ظالمانہ اور غیرانسانی رویہ اپناتے ہوئے ہسپتال کے بستر پر کوما میں موجود ایک بھارتی خاتون کو جبری ملک بدری کا حکم دیا۔

31 سالہ بھوانی ایسپاتھی گذشتہ برس ستمبر میں ایک آپریشن کے نتیجے میں ڈیڑھ ہفتے کے لیے کوما میں چلی گئی تھیں۔

انہیں کوما کی ہی حالت میں ہوم آفس کی جانب سے خط موصول ہوا، جس میں کہا گیا کہ ان کے برطانیہ میں قیام میں توسیع کی درخواست رد کر دی گئی ہے اور انہیں جبری طور پر ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

بھوانی کے 33 سالہ جرمن منگیتر مارٹن مینگلر نے ہوم آفس کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی، جس میں انہوں نے ڈاکٹرز کی جانب سے جاری کردہ میڈیکل رپورٹس بھی منسلک کیں۔ ان رپورٹس میں تصدیق کی گئی تھی کہ بھارتی خاتون کی حالت سنگین ہے اور اس صورتحال میں سفر کرنے سے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔    

دوسری جانب ہوم آفس کا کہنا تھا کہ بھارت میں یہاں کے معیار کا علاج دستیاب نہ ہونے کی صورت میں بھی وہ برطانیہ میں مزید قیام کی اہل نہیں ہیں۔

وکلاء اور سیاستدانوں کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اس معاملے سے برطانیہ کے امیگریشن قوانین میں سفاکیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ کیسے حکومت غیرملکی افراد کو موت کے منہ میں دھکیل سکتی ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن ہوم آفس کی جانب سے ایسی امیگریشن درخواستوں کے مسترد کیے جانے کو ظالمانہ قرار دیتے ہیں اور بھوانی کا کیس اس کی تازہ ترین مثال ہے۔

بھوانی 2010 میں سٹڈی ویزا پر برطانیہ آئی تھیں، وہ کروہن (پیٹ) کی بیماری میں مبتلا ہونے سے پہلے آرٹ انڈسٹری میں کام کرتی رہی ہیں۔

بھوانی، جو تارکین وطن کی حمایت اور کروہن بیماری کے حوالے سے ایک مہم چلا رہی تھیں، نے کہا کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسی صورتحال میں، جب بھارت میں اس بیماری کی ادویات بھی دستیاب نہیں ہیں، ان کی درخواست مسترد کر دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا: ’میں یہ سب سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ اگر وہ (حکام) میری حالت دیکھ لیں تو میرا نہیں خیال کہ وہ زبردستی مجھے طیارے میں سوار کرا دیں گے۔ میرے پورے جسم پر نالیاں لگی ہوئی ہیں۔‘

مشرقی لندن میں رہنے والی بھوانی پہلے سٹڈی اور ورک ویزے پر برطانیہ میں مقیم تھیں لیکن اس غیر معمولی مرض میں مبتلا ہونے کے بعد انہوں نے انسانی بنیادوں پر اپنے قیام میں توسیع کی درخواست دائر کی، جسے برطانوی حکام نے ستمبر 2018 میں اُس وقت مسترد کر دیا تھا جب وہ بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال کے بستر پر تھیں، اس کے دو ماہ بعد ان کی اپیل بھی رد کر دی گئی۔

بھوانی کو گذشہ ماہ اُس وقت دوبارہ ہسپتال میں داخل کرانا پڑا جب ان کی آنتوں میں بیماری مزید پیچیدہ ہو گئی تھی۔ وہ ابھی بھی ہسپتال میں ہیں جہاں ان کا موسم گرما میں ایک اور آپریشن کیا جانا ہے۔

اس سے پہلے ایک پاکستانی شخص کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 38 سالہ نصراللہ خان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں ان کا ٹرانسپلانٹ نہیں ہوسکتا تھا کیوں کہ ان کے ویزے کی معیاد ختم ہو گئی تھی۔ نصر اللہ بعدازاں رواں برس فروری میں انتقال کرگئے تھے۔

ایک اور واقعے میں امریکی خاتون کو، جن کے دو معذور برطانوی بچے ہیں، گذشتہ ماہ ملک بدری کی دھمکی دی گئی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کو اپنے دونوں معذور بچوں کو تنہا چھوڑ کر واپس امریکہ جانا تھا تاہم ہائی کورٹ کے حکم پر اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا گیا۔

بھوانی اور ان جیسے دیگر افراد برطانیہ کے سخت اور ’ظالمانہ‘ امیگریشن پالیسی کا شکار بن کر موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔

جیسا کہ وہ خود کہتی ہیں: ’اگر مجھے برطانیہ چھوڑنا پڑا تو یہ میری زندگی کے لیے خطرہ ہوگا۔ بھارت میں مجھے اس مرض کی کوئی ادویات بھی دستیاب نہیں ہوں گی۔ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی شخص مرنا چاہے گا۔‘

لیبر پارٹی کی شیڈو ہوم سیکرٹری ڈیان ایبٹ نے کہا کہ اس طرح کے معاملات نے کنزرویٹیو حکومت کے تحت ہوم آفس کی طرف سے روا رکھے جانے والے ’ظالمانہ‘ اور ’بے حس‘ سلوک کا پول کھول دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک حکومت انسانیت دشمن پالیسیوں کو ختم نہیں کرتی، ایسے بے بس لوگوں کی مصیبتیں جاری رہیں گی۔

مشترکہ کونسل برائے فلاح تارکین وطن کے قانونی ڈائریکٹر چائی پٹیل کا اس حوالے سے کہنا ہے: ’بھوانی کی ملک بدری کا حکم ایک ایسے وقت میں جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا جب وہ کوما میں تھی، اس سے ہوم آفس کے ’غیر انسانی‘ اور ’ظالمانہ‘ رویے کا اظہار ہوتا ہے لیکن اس میں تعجب کی بات نہیں کیوں کہ یہاں حکام کو ایسی ہی تربیت دی جاتی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اس فیصلے کا فوری طور پر جائزہ لیا جانا چاہیے اور بھوانی کو اس ملک میں رہنے کی اجازت دی جانی چاہیے جو اب ان کا گھر بن چکا ہے اور انہیں یہاں وہ طبی دیکھ بھال فراہم کی جا سکتی ہے جس کی انہیں بے حد ضرورت ہے۔‘

چائی پٹیل کے مطابق: ’ایسے لوگوں کو، جو اس ملک کو اپنا گھر سمجھتے ہیں، ہمدردی اور احترام دینے کی ضرورت ہے، لیکن اس وقت قانون ہوم آفس کو اجازت دیتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیل دے۔ یہ قانون ضرور بدلنا چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا