پی ڈی ایم اجلاس میں پیپلز پارٹی پر غور و خوص نہیں ہوا: فضل الرحمان

حکومت مخالف تحریک پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے حوالے سے کوئی غور و خوص نہیں کیا گیا۔

اس موقع پر مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور نائب صدر مریم نواز سمیت پی ڈی ایم میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ موجود تھے

حکومت مخالف تحریک پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے حوالے سے کوئی غور و خوص نہیں کیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے حکومت مخالف جلسوں اور مظاہروں کے پروگرام کا بھی اعلان کیا ہے۔

اس موقع پر مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور نائب صدر مریم نواز سمیت پی ڈی ایم میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ موجود تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے حوالے سے سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان اتنا ہی کہا کہ ’اجلاس میں پیپلز پارٹی کے حوالے سے کوئی غور و غوص نہیں کیا جس کا مطلب یہ کہ وہ ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی چاہیں تو پی ڈی ایم سے رجوع کر سکتے ہیں۔‘

اسی حوالے سے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز سے بھی سوال کیا گیا کہ نواز شریف نے اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کرتے ہوئے کیا کہا جس پر مریم نواز نے کہا کہ ’بار بار ایک نان ایشو کو ایشو نہ بنایا جایا۔ ہم نے جو کہنا تھا کہہ دیا۔‘

پیپلز پارٹی کا ردعمل:

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور احمد نے ان کی جماعت کو پی ڈی ایم سے نکالے جانے سے متعلق سوال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’پیپلز پارٹی کے فیصلوں پر عمل کر کے ہی اپوزیشن کا اتحاد تحریک انصاف حکومت کو ٹف ٹائم دے پایا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ضمنی انتخابات ہوں یا سینیٹ الیکشن، یہ تمام پیپلز پارٹی کی وجہ سے ہی ممکن ہوا کہ دونوں صورتوں میں حکومت کو پیچھے ہونا پڑا۔‘

چوہدری منظور احمد  نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی تحریک انصاف حکومت سے عوام کو چھٹکارا دلوانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان مزید کہا کہ اجلاس کے دوران حکومت مخالف بڑے احتجاجی جلسے اور عوامی رابطے کا نظام بنایا گیا ہے۔

اس حوالے سے انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’چار جولائی کو سوات میں بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا جبکہ 29 جوالائی کو کراچی میں جلسہ کیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’14 اگست کو یوم آزادی کے موقع پر اسلام آباد میں بڑا مظاہرہ ہوگا جس میں پاکستان، کشمیر اور مسجد اقصیٰ کی آزادی کے موضوعات شامل ہوں گے۔‘

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا کہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں جن موضوعات پر غور و خوص کیا گیا ان میں سب سے پہلے خطے کی ’تشویشناک صورتحال‘ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان اور خطے کی صورتحال پر پارلیمان کا مشرکہ اجلاس بلایا جائے اور ان کیمرہ اجلاس میں متعلقہ ادارے حقائق سے آگاہ کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ’پی ٹی آئی حکومت کی کرپشن اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف بھرپور قانونی چارہ جوئی کی جائے گی جس کے لیے قانونی ماہرین کی ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے۔‘

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق ایک پارلیمانی سیمینار کے انعقاد کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ ’اس کا مقصد حکومت کو بجٹ سے متعلق ٹف ٹائم دینا ہو گا۔‘

انہوں نے اسلام آباد میں صحافیوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ ان صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے ان کے گھروں پر جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست