ایرانی جوہری معاہدے پر اسرائیل کے لہجے میں تبدیلی کس بات کا اشارہ؟

ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر کھلی مخالفت کے باوجود اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اس مسٔلے پر امریکہ سے بات چیت جاری رکھے گا۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن (دائیں) اور اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز (اے ایف پی)

ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر کھلی مخالفت کے باوجود اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اس مسٔلے پر امریکہ سے بات چیت جاری رکھے گا۔

واشنگٹن کا دورہ کرنے والے اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے اپنے امریکی ہم منصب لائیڈ آسٹن سے ملاقات سے قبل صحافیوں کو بتایا کہ ایران کا جوہری پروگرام اور دیگر اقدامات اسرائیل کے ’وجود کے لیے خطرہ‘ ہیں اور ’ایران کو روکنا یقینی طور پر اسرائیل اور دیگر ممالک کے ساتھ امریکہ کی بھی مشترکہ سٹریٹجک ضرورت ہے۔‘

لیکن موجودہ اسرائیلی وزیراعظم کے 12 سالہ اقتدار کو ختم کرنے کی کوشش کرنے والے اپوزیشن بلاک میں شامل گینٹز نے بن یامین نتن یاہو کے برعکس ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے معاہدے میں امریکہ کی واپسی کے لیے بائیڈن انتظامیہ کی کوششوں کی کھلم کھلا مخالفت کرنے سے گریز کیا۔

پینٹاگون میں اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ بیٹھے گینٹز نے کہا: ’ہماری بات چیت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بہت ضروری ہے کہ کوئی بھی معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنے کے اپنے مقصد کو موثر انداز میں پورا کرے۔‘

اسرائیلی وزیر دفاع نے مزید کہا: ’یقیناً خطرے کا پیمانہ دیکھتے ہوئے اسرائیل کو ہمیشہ یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ اپنے دفاع کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہو۔‘

اسرائیلی عہدے دار نے واضح کیا کہ ایرانی جوہری معاہدے پر اسرائیل کے لہجے میں تبدیلی کا خاص مقصد ہے۔ انہوں نے بند دروازوں کے پیچھے کھلی بات چیت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم صرف نجی بحث میں اس اہم سٹریٹجک معاملے پر بات چیت کریں گے، نہ کہ میڈیا پر اس حوالے سے اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا جائے۔‘ اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان بائیڈن انتظامیہ کی اس پالیسی سے مماثلت رکھتا ہے جس میں نئی امریکی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ معاملات طے کرتے وقت ’پرسکون سفارت کاری‘ پر کاربند رہنے پر زور دیا ہے۔

وزیر اعظم نتن یاہو طویل عرصے سے ایران کے ساتھ کسی بھی جوہری معاہدے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

2015 میں اوباما انتظامیہ نے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے اور اسی سال امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے اپنے خطاب میں نتن یاہو نے اس معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک ’بہت ہی برا سمجھوتہ‘ ہے۔

نتن یاہو نے حالیہ دنوں میں بھی اس معاہدے کی کھلی مخالفت جاری رکھتے ہوئے اصرار کیا کہ اس معاہدے سے ایران کے لیے جوہری ہتھیار بنانے کی راہ ہموار ہوجاتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب صدر جو بائیڈن نے جوہری معاہدے میں واپسی پر زور دیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔

ادھر یورپی مذاکرات کاروں نے اس ہفتے جنیوا میں امریکہ کو معاہدے میں واپس لانے کے لیے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا خیر مقدم کیا۔

گینٹز نے، جن کے بارے میں توقع ہے کہ حکومت کی تبدیلی کی صورت میں بھی وہ وزیر دفاع کی حیثیت سے اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے، امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان اور وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے بھی ملاقات کی۔

جمعرات کو ہونے والی ان کی ملاقاتوں میں حماس کے ساتھ ہونے والی تازہ تصادم کے تناظر میں اسرائیل کی سکیورٹی اور اس حوالے سے امریکی وعدوں پر بات چیت کی گئی۔

گینٹز نے کہا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے لیے ایک جامع سفارتی منصوبہ بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ شیئر کریں گے، تاہم انہوں نے اس کی کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ گینٹز کے واشنگٹن دورے کا ایک اہم مقصد امریکی فوجی امداد اور اسرائیل کے ’آئرن ڈوم‘ کو بحال کرنے میں مدد حاصل کرنا ہے۔

امریکی حکام نے مالی اعانت سے متعلق فوری اعلان نہیں کیا، تاہم آسٹن نے بتایا کہ صدر بائیڈن نے ’اسرائیل کے آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام کو بحال کرنے کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے، جس نے کئی اسرائیلیوں کی جانیں بچائیں۔‘

آسٹن نے مزید کہا کہ ’ہم اسرائیل کی فوجی برتری کو برقرار رکھنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ وہ اپنا دفاع کر سکے۔‘

تاہم  گذشتہ ماہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ہونے والی شدید لڑائی سے بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی میں تقسیم کا انکشاف ہوا ہے۔ پارٹی میں ترقی پسندوں اور کچھ دوسرے لوگوں نے اسرائیل سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا کیونکہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی ہلاکتیں بڑھ گئی تھیں۔

بلنکن نے گینٹز سے ملاقات سے قبل صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ اسرائیلی سلامتی پر تبادلہ خیال کرنے کے علاوہ  اس جنگ میں غزہ میں تباہ ہونے والے مکانات اور سروسز کی تعمیر نو میں مدد کے بارے میں بھی بات کرے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا