بحریہ ٹاؤن کراچی: ہنگامہ آرائی کے بعد 90 افراد گرفتار

پولیس نے اتوار کو ہنگامہ آرائی کے بعد 90 گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حالات قابو میں ہیں اور واقعے کی تحقیقات شروع ہو چکی ہیں۔

کراچی میں بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف اتوار کو ہونے والے احتجاجی دھرنے میں ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس نے 90 افراد کو گرفتار کر لیا۔

’عرب نیوز‘ کے مطابق کراچی ایسٹ کے ڈپٹی انسپیکٹر جنرل ثاقب اسماعیل میمن نے 90 گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صورت حال قابو میں ہے، ٹریفک بحال ہوگئی ہے اور ہنگامہ آرائی کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ 

احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کے باعث بحریہ ٹاؤن کے مرکزی دروازے سمیت متعدد عمارتوں کو آگ لگ گئی تھی، جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے موقعے پر پہنچ کر دھرنا شرکا سے علاقے کو خالی کروا لیا۔

خیال رہے کہ سندھ ایکشن کمیٹی نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے مرکزی دروازے کے سامنے اتوار کو دھرنے کا اعلان کیا تھا۔

سندھ ایکشن کمیٹی کے اس احتجاجی دھرنے میں شرکت کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں اور علاقائی تنظیموں نے حامی بھر رکھی تھی۔ 

اس احتجاجی دھرنے کی کال کے باعث سندھ بھر سے آنے والے قافلوں کو پہلے ہی پولیس حیدرآباد ٹول پلازہ پر روکنا شروع کر دیا تھا۔

تاہم بعد میں سوشل میڈیا پر اچانک سے چند تصاویر اور ویڈیوز گردش کرنے لگیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بعض مشتعل مظاہرین بحریہ ٹاؤن کراچی میں عمارتوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

بحریہ ٹاؤن کراچی کے مرکزی دروازے کے باہر موجود نامہ نگار امر گرڑو نے بتایا ہے کہ مرکزی دروازے کو لگنے والی آگ بھجا دی گئی ہے اور اس دروازے کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

نامہ نگار امر گرڑو کے مطابق بحریہ ٹاؤن کراچی کے باہر بڑی تعداد میں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موجود ہیں جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہنگامہ آرائی کے دوران دو سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

ان ویڈیوز میں نجی املاک، گاڑیوں اور عمارتوں کو جلتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے تاہم اس موقع پر سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور علاقے کو احتجاجی دھرنے کے شرکا سے خالی کرا لیا گیا ہے۔

وہاں موجود صحافی ممتاز جمالی نے نامہ نگار رمیشہ علی کو بتایا کہ اس احتجاجی دھرنے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے شامل تھی جن میں قوم پرست جماعتوں کے ساتھ ساتھ کئی سیاسی اور سماجی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ احتجاجی دھرنے کے لیے دوپہر ایک بجے تک مظاہرین کی بڑی تعداد بحریہ ٹاؤن کے مرکزی دروازے کے باہر پہنچ چکی تھی۔

ممتاز جمالی نے مزید بتایا کہ ’اس موقع پر وہاں پولیس موجود نہیں تھی تو ہم نے آہستہ آہستہ اندر جانا شروع کیا۔ جیسے ہی ہم اندر داخل ہوئے تو اندر موجود عمارتوں میں اچانک سے آگ بھڑک اٹھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اس کے فوراً بعد ہی سکیورٹی اہلکاروں نے شیلنگ شروع کر دی مگر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آگ لگی کیسے۔ ہم نے مظاہرین میں سے کسی کو آگ لگاتے نہیں دیکھا بلکہ بعض مظاہرین نے کہا کہ پولیس نے آگ لگائی ہے۔‘

اس موقع پر انڈیجینس رائٹس الائنس کے گل حسن کلماتی نے اس حوالے سے اپنے فیس بک پیج پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’بعض شرپسند عناصر نے اس احتجاج کو ترتشدد بنانے کی کوشش کی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’سندھ ایکشن کمیٹی کے جانب سے آج بحریہ ٹاؤن کے خلاف دھرنا دیا گیا، دھرنے کے دوران کچھ شرپسند لوگوں نے توڑ پوڑ کی آگ لگائی۔‘

انہوں نے اس معاملے سے اظہار لاتعلقی کرتے ہوئے اس واقع کی مذمت کی اور کہا کہ ’ہم اس عمل کی مذمت کرتے ہیں، ان پرتشدد واقعات سے انڈیجینس رائٹس الائنس کا کوئی تعلق نہیں یہ شرپسند عناصر ہیں جنہوں نے توڑ پھور کی ہے۔ ان عناصر کا انڈیجینس رائٹس الائنس سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہماری جدوجہد پرامن ہے۔‘

دوسری جانب سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما قادر مگسی کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پرامن احتجاج کو ختم کرانے کے لیے سازش کر کے بحریہ ٹاؤن کے اندر سے آگ لگا دی گئی ہے۔‘

انہوں نے دعوی کیا کہ ’پولیس کی جانب سے فائرنگ اور شیلنگ کی گئی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان