دلت ریپرتعلیم کے لیے 36 ہزار پاونڈز جمع کرنے میں کامیاب

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر کے کئی صارفین نے سومت ٹوآکسفورڈ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے چندہ دیں۔

سومت ساموس نے آکسفورڈ یونی ورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے 36 ہزار پاونڈز جمع کیے ہیں۔ (سومت ساموس یوٹیوب)

بھارت میں دلت برادری سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ ریپ گلوکار کا برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا خواب اس وقت پورا ہوا جب وہ کالج کی فیس ادا کرنے کے لیے 36 ہزار پاؤنڈز جمع کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

ریپ گلوکار سومت ساموس توروک کا تعلق بھارت کی مشرقی ریاست اڑیسہ (اوڈیشہ) کے ضلع کوراپت سے ہے۔

وہ ذات پات کے امتیاز کے خلاف دلت برداری کے سرگرم رکن اور ایک طالب علم ہیں جنہوں نے نومبر 2020 میں ماڈرن ساؤتھ ایشیئن سٹڈیز میں ایم ایس سی کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی کے سینٹ اینٹنیز کالج میں داخلے کی درخواست دی تھی۔ رواں برس جنوری میں انہیں کورس کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔

ایک سال کے تعلیمی پروگرام کی بنیادی فیس 25 ہزار نو سو پاؤنڈز ہے جس میں رہائش اور کھانے پینے کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔

توروک کے والد جو علاقے میں ایک پرائمری سکول میں استاد ہیں اپنے بیٹے کے لیے چار ہزار پاؤنڈز سے زیادہ رقم کا انتظام نہیں کرسکتے تھے۔

توروک کے دوستوں نے انہیں حوصلہ دیا کہ وہ لوگوں سے فنڈ جمع کرنے کی بھارتی ویب سائٹ ’ملاپ‘ کے ذریعے یکم جون کو فنڈ جمع کرنے کی مہم چلائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

توروک نے ویب سائٹ پر تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا:  ’میرا آپ کے ساتھ رابطہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس موقعے سے فائدہ اٹھانے کے لیے میرے پاس تمام راستے بند ہوگئے تھے۔ کورس کی کُل فیس، کالج کمیونٹی کی فیس اور کالج ڈپازٹ کی مد میں مانگی جانے والی کل رقم 26 ہزار 240 پاؤنڈز بنتی ہے۔ یہ رقم 27 لاکھ 13 ہزار 480 بھارتی روپے کے برابر ہے۔‘

انہوں نے لکھا کہ ’مجھے اپنے پاس یہ رقم موجود ہونے کا مالی اعلامیہ 30 جون 2021 تک جمع کرانا ہے۔ اب جبکہ فیس میں اضافہ ہوگیا ہے تو میں امید بندھے ہوں کہ میں پارٹ ٹائم کام کر کے وہاں اپنی رہائش اور دیگر اخراجات پورے کرسکوں گا۔ لیکن میں اس ابتدائی مدد پر شکر گزار رہوں گا۔ کوئی بھی تعاون مدد گار ہوگا۔ کوئی بھی اس مہم کو پھیلا سکے اور اپنے نیٹ ورکس میں اسے عام کرسکیں یا پھر کسی اور طریقے سے مدد کرسکیں تو میں اخلاص کے ساتھ آپ کا شکرگزار ہوں گا۔‘

بھارتی فن کار نے انڈین ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: ’میرے بھارتی اور پاکستانی دوست جو آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں انہوں نے پورے عمل میں میری مدد کی۔ یکم جون کو فنڈز جمع کرنے کی مہم کے ابتدائی چار سے پانچ گھنٹوں کے دوران بھارت، برطانیہ اور امریکہ سے تقریباً 1500 افراد نے 37 لاکھ روپے (36 ہزار پاؤنڈز) کے عطیات دیے۔‘

توروک کا مزید کہنا تھا: ’اگرچہ مجھے مزید چند لاکھ روپے کی ضرورت ہے لیکن آکسفورڈ کے طلبہ نے یونیورسٹی کی انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ فیس کی کچھ رقم معاف کردے۔‘

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر کے کئی صارفین نے سومت ٹو آکسفورڈ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس مقصد کے لیے چندہ دیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی سکالر اور مصنفہ گرمہرکور نے لکھا:  ’سومت ساموس ریپر، سکالر، ذات پات کے خلاف سرگرم کارکن کو ماڈرن ساؤتھ ایشیئن سٹڈیز کی تعلیم کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا ہے۔ ہم ان کی ٹیوشن فیس کے لیے25 لاکھ روپے کے فنڈز جمع کرنا چاہتے ہیں۔ سومت کو آکسفورڈ یونیورسٹی بھیجنے کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوجائیں۔‘

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک اور فارغ التحصیل طالبہ اور صحافی حاجرہ مریم نے لکھا: ’ہمیں# سومت ٹو آکسفورڈ کو عملی شکل دینی ہوگی۔ ذات پات کے خلاف سرگرم بھارتی کارکن سومت کو اسی پروگرام میں داخلہ ملا ہے جس میں سینٹ اینٹنیز کالج میں مجھے ملا تھا۔ ایسے دور میں جب ہم تعلیم کے میدان میں تضادات سے نمٹ رہے ہیں۔ لوگوں سے فنڈ اکٹھا کرنا ہے اس کا مستقبل ہے۔‘

بھارت میں دلت برادری سب سے زیادہ پسماندگی کا شکار ہے۔ ماضی میں انہیں ’شودر‘ کہا جاتا تھا۔ اگرچہ بھارت میں ذات اور نسل کی بنیاد پر امتیاز کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا ہے لیکن پسماندہ ذاتیں اب بھی اونچی ذات کے لوگوں کے ہاتھوں امتیازی سلوک اور جبر کا شکار ہیں۔ یہ نچلی ذاتیں تعلیم اور ملازمت میں مساوی مواقع کے لیے اب بھی جدو جہد کر رہی ہیں۔

توروک کے لیے فنڈ اکٹھے کرنے کی مہم میں یہاں حصہ ڈالا جا سکتا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل