امریکہ اور چین کو آم بھیجے ہی نہیں تو واپسی کا سوال کیسا: پاکستان

پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ میڈیا میں پھیلائی جانے والی خبریں کہ امریکہ اور چین نے پاکستانی آموں کا تحفہ قبول نہیں کیا درست نہیں کیونکہ پاکستان نے ایسا کوئی تحفہ بھجوایا ہی نہیں۔

پاکستان میں پیدا ہونے والے آم کی قسم ’سفید چونسہ‘ دنیا بھر میں اپنی لذت کی وجہ سے مشہور ہے   (اے ایف پی فائل)

پاکستانی وزارت خارجہ نے بھارتی میڈیا میں چلنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پاکستان نے بطور تحفہ 32 ممالک کو آم بھجوائے لیکن امریکہ اور چین نے یہ تحفہ کرونا ایس او پیز کی بنیاد پر واپس بھجوا دیا۔

دفتر خارجہ نے اتوار کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ’ہم نے میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں کہ پاکستانی آم گذشتہ ہفتے غیر ملکی معززین کو تحفے کے طور پر بھجوائے گئے۔ ہم ان غلط اور گمراہ کن رپورٹس کو مسترد کرتے ہیں۔‘

 پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد خفیظ نے کہا کہ ’بھارتی میڈیا نے غلط اور غیر ذمہ دارانہ خبریں چلائیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ہر برس صدر مملکت بہترین اور معیاری آم چند مخصوص ممالک کو بھیجتے ہیں۔ یہ آم اچھی شہرت اور تجارتی سفارت کاری کے فروغ کے لیے اچھی ساکھ کے طور پر بھیجے جاتے ہیں۔‘ 

ان کا کہنا تھا کہ رواں برس بطور تحفہ مختلف ممالک کو آم بھجوانے کا عمل ابھی منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہے، یعنیٰ آم ابھی بھجوائے گئے نہیں۔

ان کے بقول ابھی فہرست مرتب کی جا رہی ہے اور وزارت خارجہ ممالک کی فہرست ان کے قرنطینہ کے حالات، صفائی ستھرائی، پروازوں کی دستیابی اور کرونا وائرس کے پیش نظر ایس او پیز کو مد نظر رکھ کر تیار کرے گی۔

گذشتہ برس بھی 17 دوست ممالک کو صدر پاکستان نے بطور سوغات آم بھجوائے تھے جس کا بنیادی مقصد پاکستانی آموں کو متعارف کروانا اور اس کی تجارت بڑھانا ہے۔

 

 

تحفہ واپس کرنے کی خبروں کا آغاز کہاں سے ہوا؟

انڈپینڈنٹ اردو کے مشاہدے میں سامنے آیا کہ سوشل میڈیا پر اس معاملے کے حوالے سے  خبریں زیادہ تر بھارتی صارفین کے ویریفائیڈ اکاؤنٹس اور ذرائع ابلاغ کے کچھ ویریفائیڈ اکاؤنٹس سے پھیلائی گئیں۔

امریتا بھنڈر نامی صارف نے اپنے مستند اکاؤنٹ سے ٹویٹ میں لکھا کہ امریکہ اور چین نے پاکستان کے آم واپس کر دیے۔

اس ٹویٹ میں انہوں نے ’ان شارٹس‘ نامی ایک ویب سائٹ کی خبر کا حوالہ دیا تھا۔

اس کے علاوہ ’نیو انڈین ایکسپریس‘ سے منسلک صحافی پرابھو چاولہ اپنے ٹویٹ میں ’انڈین ایکسپریس‘ کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے اسی قسم کی بات کی۔ 

 

 

آشو نامی ایک اور سوشل میڈیا صارف نے ’ہندوستان ٹائمز‘ کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے اسے مکمل ’بے عزتی‘ قرار دیا۔ 

 

 

پاکستان میں سفارتی ذرائع کے مطابق ’سوشل میڈیا پر پاکستانی آموں کے حوالے سے منظم اور منفی تضحیک آمیز مہم چلائی گئی اور بھارتی ذرائع ابلاغ نے خبر اس انداز میں نشر کی جس کا مقصد پاکستان کی سفارتی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔‘ 

آموں کی برآمد میں اضافہ

دوسری جانب تحفے تو نہیں مگر کئی ممالک میں پاکستان کے برآمد کردہ آم ضرور پہنچ گئے ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ 18 ٹن سندھری آم ہفتے کو چین پہنچے جو وزارت تجارت کے توسط سے بذریعہ پاکستانی برآمد کنندہ بھجوائے گئے۔

 

چین میں پاکستانی سفیر معین الحق نے جوابی ٹویٹ میں کہا کہ ’چین کی مارکیٹ میں پاکستانی آموں میں دلچسپی بڑھ گئی ہے۔‘

 

#Pakistani #Mangoes getting a warm welcome in #Japan - looking forward to an exceptional season. Increasing share of agricultural products is going to drive our #export #diversification #strategy. pic.twitter.com/BzVfksLAL9

 

سنگاپور کی مارکیٹ میں پاکستانی آموں کی کھیپ پہنچنے پر ترجمان دفتر خارجہ نے ٹوئٹر اکاؤنٹس سے تصویر شائع کی اور کہا کہ سنگاپور کی مارکیٹ میں پاکستانی آم دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے۔

تجارت کے حوالے سے دفتر خارجہ نے بتایا کہ گذشتہ برسوں میں آم کی برآمدات 7.8 کروڑ ڈالرز تھیں۔ اب یہ برآمدات بڑھ کر سال 20-2019 میں 10.4 کروڑ ڈالرز ہو چکی ہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان