قومی اسمبلی سارجنٹ نے اماں کو کیا کہانی سنائی

’بھولی اماں! میں قومی اسمبلی کے سارجنٹ کی وردی پہنتا ہوں، وہ وردی کوئی اور ہوتی ہے جو ان میں بیچ بچاو کرا دیتی ہے۔ میں چودہ گریڈ کا سارجنٹ، وہ وزیر مشیر۔‘

ایک کہانی قومی اسمبلی کے سارجنٹ نے اپنی اماں کو سنائی(انڈپینڈنٹ اردو)

 

یہ تحریر آپ یہاں مصنفہ کی آواز میں سن بھی سکتے ہیں


کہانیاں، کہہ مکرنی، حکایتیں، روایتیں، افسانے۔ یہ سب سنانے والوں کے دم سے وجود پاتے ہیں۔

کہانی کہنا اور سننا انسان کی سرشت میں ہے، اسے اچھا لگتا ہے یہ جاننا کہ کسی کی بیتی آخر کیسے بیتی۔ یہ بتانا کہ جو اس نے دیکھا تو کیا دیکھا۔

ایسی ہی ایک کہانی قومی اسمبلی کے سارجنٹ نے اپنی اماں کو سنائی۔ وہ کہانی نویس نہیں مگر اندھا بھی نہیں۔ جو وہ ملک کے مقدس ایوان میں ہوتا دیکھ رہا ہے یہ کہانی کسی کو تو سنانی تھی۔

سارجنٹ بیچارہ منگل کی شام قومی اسمبلی سے اپنی ڈیوٹی نمٹا کر گھر پہنچا تو ایک آنکھ کا پپوٹا سوج رہا تھا۔ بازو پر ایک لمبا سا کٹ لگا تھا جیسے کاغذ کا تیز دھار والا کنارہ کبھی چمڑی کاٹ دیتا ہے۔

وہ بغیر ہاتھ دھوئے بائیک کی چابی دیوار پہ ٹنگا کر سیدھا کھانے کی میز پہ آگیا جہاں فوج سے نچلے رینک میں ریٹائرڈ ابا پہلے ہی ٹرے میں کئی سوال سجائے بیٹھے تھے۔ وہ روٹی توڑتا جاتا، ابا کے سوال در سوال آتے جاتے۔

سارجنٹ نے روٹی کے نوالے سے بینگن کا بھرتہ سمیٹا کہ ساتھ ابا کا سوال آگیا: ’بیٹا یہ اسمبلی میں مارا ماری شروع کس نے کی تھی؟‘

اس نے نوالہ منہ کے ایک کلے میں بھر لیا اور مختصراً کہا ’کچھ نہیں، پتہ تو ہے آپ کو لڑائی ہوجائے تو پھر کہاں پتہ لگتا ہے کہ پہلے کس نے مارا۔سب شامل تھے۔‘

سارجنٹ نے کچھ لقمے سکون سے اتار لیے، باپ کا کوئی سوال نہ آیا۔ اسے پتا تھا کچھ بولا تو ابا نے ایوان کی تقدیس پر طنزیہ لیکچر دینا ہے۔گھر میں ایسی بحث کا انجام تلخی ہوتا ہے جس سے وہ بچنا چاہ رہا تھا۔

کھانے سے ہاتھ اٹھاتے اٹھاتے ابا گویا ہوئے ’بیٹا ہسپتال سے میڈیکل کرا، اور حکام بالا کے علم میں لا کہ اسمبلی میں دوران ڈیوٹی زخمی ہوا۔ ایسے واقعات فائل میں لگیں تو ریکارڈ رہتا ہے اور ترقی میں کام آتے ہیں۔‘

سارجنٹ جھلایا: ’اوہ ابا! یہ تو اب اسمبلی کا معمول ہے، اسمبلی سکیورٹی برانچ والے کس کس کو ترقی دیں گے، سارے سارجنٹ ہی حکومت اور اپوزیشن کے بیچ سینڈوچ بنے ہوتے ہیں۔‘

اماں ہاتھ میں کچے آٹے کا گرم پیڑا لیے صوفے پہ بیٹھی تھی کہ کب سوال جواب کا کھانا ختم ہو تو بیٹے کی آنکھ کے اوپر والی ہڈی پر آمبہ ہلدی چوٹ سجی کی سینکائی کرے۔

ادھر ابا نے خبروں کا چینل کھول لیا، معروف اینکر آنکھیں مار مار کر شرارتی سوال پوچھ رہا تھا اور سیاسی مہمان ایک دوسرے کو الفاظ کی مار مار رہے تھے۔ لڑتے مرغے دیکھنے کا شوق ابا کو اس دن زیادہ ہوگیا تھا جب بیٹا قومی اسمبلی میں گارڈ بھرتی ہوا۔ اب اسے محفلوں میں ناک اونچی رکھنے کے لیے اندر کی خبر دینا ہوتی ہے۔

ماں نے سینکائی کرتے ہوئے بچے کا موڈ بہتر دیکھا تو پوچھ لیا، ’بیٹا اسمبلی میں ہوا کیا ہے، وہاں تو سارے پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں؟‘

سارجنٹ جیسے آنکھوں دیکھی کہانی سنانے کے انتظار میں تھا، ایک دم پھٹ پڑا۔ ’کون پڑھے لکھے؟ وہ جو اسمبلی کی سیٹوں پہ بیٹھتے ہیں؟ وہ جو اوباش لڑکوں کی طرح آواز کستے ہیں؟ وہ جو غنڈوں کی طرح تاک تاک کر ایک دوسرے کا نشانہ لیتے ہیں؟ وہ جو پاکستان کے پیسوں سے لی گئی کتابوں کو پھاڑتے ہیں، پوری پوری کاپیاں ایک دوسرے پہ اچھالتے ہیں۔ اماں ہم تو یہ تماشہ آئے روز دیکھتے ہیں۔ یہ اپنی گلی کے لڑکے بھی ان سے زیادہ سمجھ دار ہوں گے۔‘

’بیٹا یہ اسمبلی والے تو ایک دوسرے کے جانی دشمن لگتے ہیں۔ عمران خان کو کچھ کرنا چاہیے، کیا فائدہ خون خرابہ ہو جائے۔‘ اماں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

سارجنٹ تلخی سے مسکرانے لگا، ’اوہ مری پیاری اماں! تو ترامڑی کی تنگ گلی کے پانچ مرلے مکان میں بیٹھی ہے، تو سیاست نہیں جانتی۔ یہ جو آج مرنے مارنے پہ آئے ہوئے تھے نا انہیں ہم ایک دوسرے کے کمروں سے نکلتے دیکھتے ہیں، اسمبلی کی راہداریوں میں آتے جاتے یہ ایک دوسرے پہ جملے پھینکتے ہیں، ہنستے ہیں۔ اماں تو نے بس کچھ سین دیکھے، ہم تو پوری فلم دیکھتے ہیں مگر ان کی شاندار پرفارمنس پہ تالی بھی نہیں بجا سکتے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اماں نے ہاں میں ہاں ملائی، ’ٹھیک کہہ رہا ہے۔ آج ترے باپ نے ویڈیو دکھائی، اسمبلی والے ماں بہن بیٹی کی ننگی گالیاں دے رہے تھے۔‘

سارجنٹ جھینپ کر منمنایا۔ ’وہ کوئی دکھانے والی ویڈیو تھوڑا ہی ہے۔۔۔ اماں وہاں تو بلو رانی کی آوازیں لگتی ہیں، ایک وزیر کا نام وزیر اعظم کے نام سے جوڑا جاتا ہے، کوئی عورت خطاب کو کھڑی ہو تو پیچھے سے عجیب عجیب سی آوازیں نکالتے ہیں۔ ہاتھ پہ ہاتھ مار کر دانت نکوستے ہیں۔ اماں وہ میڈم دیکھی ہیں جو ابھی کچھ دن پہلے ن لیگی ممبران خواتین کے بینرز چھین کر پھاڑ رہی تھیں؟ وہ تو اسمبلی کی میز پہ پاوں رکھ کر بیٹھتی ہیں۔اور کیا کیا بتاوں۔‘

ماں نے بیٹے کی پیشانی پہ گرم پیڑے کو ذرا دبا کر تاکید کی، ’بیٹا یہ تو ہوتا رہے گا، آئندہ تو نے ان سیاست دانوں کا بیچ بچاو کرانے میں اپنے آپ کو بھی بچانا ہے۔ بچ گیا، آنکھ پھوٹ جاتی تو۔‘

سارجنٹ کی ہنسی نکل گئی۔ ’بھولی اماں! میں قومی اسمبلی کے سارجنٹ کی وردی پہنتا ہوں، وہ وردی کوئی اور ہوتی ہے جو ان میں بیچ بچاو کرا دیتی ہے۔ میں چودہ گریڈ کا سارجنٹ، وہ وزیر مشیر۔ میں غیر مسلح گارڈ، وہ اسمبلی کے معزز ممبر۔ یہ کالج کے لڑکے نہیں کہ انہیں گتھم گتھا ہونے سے روکا جائے، جیل کے قیدی نہیں جو گروپ بنا کر بھڑ جائیں اور ہم لاٹھی کے زور پر انہیں اپنی اپنی بیرکوں میں جانے کا کہیں۔ کلاس ٹیچر نہیں جو وزیروں کی جیبوں سے نکلے باجے اور سیٹیاں چھین لوں۔

’اماں میں تو قومی اسمبلی کا سارجنٹ ہوں، مجھے یہ اختیار نہیں کہ مقدس ایوان میں پاگل بھینسے کی طرح ٹکراتے شیطانوں کو نکال باہر کروں، نہ ہی میری نوکری یہ اجازت دیتی ہے کہ کون غلط کون صحیح اس کی نشاندہی کروں۔ ہم تو اپنی نوکری اور وردی کے ہاتھوں مجبور ہیں، مگر عوام تو نہیں۔‘

نوٹ: یہ کالم ایک حکایت کی طرز پر لکھا گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں تعینات سارجنٹ کی نظر سے ایوان کی ہنگامہ خیز کارروائی دکھانے کی ایک کوشش ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ