نواز شریف کے یو ٹرن اور ترپ کا پتہ

ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ میاں نواز شریف اپنی خاموشی کو اس وقت کے انتظار میں مفاہمتی انداز سے چلا رہے ہیں جب سیاسی حالات اس نقطے پر پہنچ جائیں کہ ریٹائرمنٹ اور انتخابات کی تاریخیں قریب قریب ہوں۔

بین الاقوامی محاذ پر لیڈران کے ساتھ براہ راست اور ذاتی رابطے اور ملک میں تیز رفتار معاشی ترقی، یہ دو خصوصیات میاں محمد نواز شریف کی ہر نشست میں موضوع گفتگو بنتی ہیں (اےایف پی/ فائل)

کیا میاں محمد نواز شریف نے یو ٹرن لے لیا ہے؟ کیا ان کا بیانیہ چپکے سے بدل گیا ہے؟ کیا وہ شہباز شریف کو سامنے لا کر پیپلز پارٹی کی طرح مک مکا کی سیاست کی راہ اختیار کر چکے ہیں؟ ظاہرا تو کچھ ایسا ہی لگتا ہے۔

میاں نواز شریف طویل عرصے سے خاموش ہیں۔ ملک کو درپیش خطرات ہوں یا بجٹ کی وہ دستاویز جس کو ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا گیا، میاں محمد نواز شریف کو متوجہ کرنے میں ناکام ہیں۔ میاں صاحب وہ سیاست دان ہیں جو بطور وزیر اعظم معیشت اور خارجہ امور کو اپنا خاصا بتلاتے ہیں۔

بین الاقوامی محاذ پر لیڈران کے ساتھ براہ راست اور ذاتی رابطے اور ملک میں تیز رفتار معاشی ترقی، یہ دو خصوصیات میاں محمد نواز شریف کی ہر نشست میں موضوع گفتگو بنتی ہیں۔ مگر اس وقت یہ اہم موضوعات بھی ان کو متحرک نہیں کر پا رہے۔

پھر شہباز شریف کی سیاسی سٹیج پر آمد۔ اگر مسلم لیگ ن کی اس آمد سے پہلے کی سیاست اور آمد کے بعد کی پالیسی کے لیے کوئی استعارہ ڈھونڈنا ہو تو بجٹ لڑائی کے دوران علی اعوان اور پرویز خٹک کے رویوں سے بہتر مثال نہیں مل سکتی۔ شہباز شریف سے پہلے مسلم لیگ ن سیاسی طور پر علی اعوان قسم کی توانائی کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ یعنی کچھ کہنے کو نہ بھی ہو گلا پھاڑ کر بولنا اور وہ بھی نتائج کی پرواہ کیے بغیر۔

لیکن اب شہباز شریف کی قیادت میں پرویز خٹک کے احتجاج کی سی کیفیت ہے۔ پیچھے کھڑے کاغذ کے ایک چوتھائی حصے کو زمین سے اٹھا کر گھما کر ایسے پھینکتے ہیں کہ جیسے ایٹم بم کا حملہ کر دیا ہو۔ جس تحمل سے شہباز شریف نے خود کو اور جماعت کے ممبران کو پڑنے والی گالیاں برداشت کی ہیں اس سے تو یہی لگتا ہے کہ اب نواز شریف نے وہ راہ اپنا لی ہے جس پر بے عزتی محسوس کرنا یا لاپرواہ بہادری کا مظاہرہ کرنا ناقابل معافی سیاسی گناہ کے برابر ہے۔

شہباز شریف خود کو سیاسی گہما گہمی اور ہنگامے سے کچھ ایسے دور رکھنا چاہتے ہیں کہ ان کی جماعت کو درپیش مشکلات کے سانپ ازخود مرتے رہیں اور ان کی قیادت کی لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ جبھی تو انہوں نے اپنی جماعت کی طرف سے جاری ہونے والے میگزین پر اپنی فلسطینی قسم کی تصویر لگوانا پسند کیا۔ منہ پر ماسک چڑھائے، گلے میں مخصوص فلسطینی پٹکہ ڈالے، بیت المقدس کے پس منظر میں کھینچوائی ہوئی یہ تصویر ان کو دور بلندیوں کی طرف متوجہ دیکھاتی ہے۔ جیسے کوئی بین الاقوامی رہنما دنیا میں بڑے طوفانوں کا حل سوچنے میں مصروف ہو۔

کمال یہ ہے کہ اس میگزین کے 12 صفحات میں ایک لفظ بھی فلسطین پر نہیں ہے۔ مگر ظاہر ہے اصل مسئلہ لکھے کا نہیں تصویر کا ہے۔ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے، اور میاں شہباز شریف اپنی قیادت میں اپنی جماعت کو کچھ ایسا ہی دیکھانا چاہتے ہیں۔ یعنی زمینی حقائق سے پرے، گالم گلوچ سے پردہ کرنے والی اچھی سوچ کی حامل تابعدار نیک پروین یا نیک پرویز۔

اب ان خصوصیات سے تو ملک میں انقلاب آنے کو رہا۔ جب ڈنڈے گولی کی سرکار حملے کر رہی ہو، جو کہ مسلم لیگ ن کا سرکاری بیانیہ ہے، تو پھر  شہباز کبوتر بن کر اڑان نہیں بھر سکتا، آسمان پر منڈلانے والے طاقتور پرندے اس کو ادھیڑ کر رکھ دیں گے۔ مگر ایسے ہی ہو رہا ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ یہ سب کچھ نواز شریف کی منشا کے بغیر ہو۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان کی منشا اب میاں منشا کی طرح مقتدر حلقوں سے عملی اور مسلسل رابطے میں ہے۔ ایک خاموش معاہدہ ہے جس کو عمل میں لایا جا رہا ہے۔ جس کے تحت بجٹ کو منظور کروانا، سڑکوں کو ٹھنڈا کرنا، نعروں کو بند کمروں کے اجلاس میں قید کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

ن لیگ کے بہت سے کارکنان اور مقامی رہنما یقینا یہ سوچ رہے ہوں گے کہ انہوں نے ان تمام جلسے جلوسوں کا اہتمام کیوں کیا جس میں مریم نواز شرکت کر کے دل کو گرما دینے والی تقاریر کیا کرتی تھیں۔ وہ ساری تیاری، وہ جذبے اور جنون کی تلقین، وہ حکومت کو گرانے کی امیدیں، وہ پیچھے نہ ہٹنے کے عہد، وہ سب خلفشار اور تڑپ تھی۔ آخر کیا ضرورت تھی اس بے فائدہ، بے مقصد ابال کی، اگر آخر میں گالیاں کھا کر اسمبلی سے خطاب ہی کرنا تھا؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ ووٹ کی کیسی عزت ہے کہ مقدس رشتوں کی اسمبلی میں بےعزتی ہو رہی ہے اور میاں محمد نواز شریف کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے؟ کیا وہ تبھی نیند سے اٹھتے ہیں جب ان کی اولاد کے بارے میں بات کی جاتی ہے؟ کیا ان کے خاندان کے علاوہ باقی سب قابل بےعزتی ہیں؟ ان سوالوں کے جواب پانا آسان ہیں اگر آپ یہ ذہن میں رکھیں کہ میاں نواز شریف نے جی ٹی روڈ سے لندن تک کا سفر کرنے میں کتنے موڑ کاٹے۔

اگر آپ ماضی میں ان کا اقتدار میں سے زبردستی نکالے جانے کو قبول کرنے سے پہلے ’میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘ والا خطاب یاد کریں۔ تقریر تو خوب تھی مگر انجام بخیر نہ ہوا۔ اس کے بعد ڈکٹیشن لینے کا تو پتہ نہیں لیکن حالیہ ایکسٹینشن ضرور دی۔ اور اب میاں شہباز شریف کے ذریعے ایسی دھیمی پالیسی پر گامزن ہیں کہ پیپلز پارٹی بھی شرما رہی ہے۔

ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ میاں نواز شریف اپنی خاموشی کو اس وقت کے انتظار میں مفاہمتی انداز سے چلا رہے ہیں جب سیاسی حالات اس نقطے پر پہنچ جائیں کہ ریٹائرمنٹ اور انتخابات کی تاریخیں قریب قریب ہوں۔ جب امریکہ کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد کا منظرنامہ واضح ہو چکا ہو اور اندرونی طور پر کسی ادارے کا سربراہ اس پوزیشن میں نہ ہو کہ اپنی من مانی کر سکے۔

اس سوچ کے مطابق میاں نواز شریف لمبی تان کر سو نہیں رہے لمبی چھلانگ کے لیے پر تول رہے ہیں۔ ان کے پاس ملک واپس آنے کا ایک ایسا ترپ کا پتا ہے جو وہ صحیح وقت پر کھیل کر بازی جیتنا چاہتے ہیں۔ اب یہ دل کو تسلی دینے کے لیے اہتمام ہے یا حقیقتا نواز شریف کی پالیسی؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

فی الحال تو بےعزتی ہے، تقریریں ہیں اور سوچوں میں گم شہباز شریف۔ آج کی پاکستان مسلم لیگ ن کی موجودہ سیاسی فطرت کے یہی تین عناصر ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ