’دل ٹوٹنے‘ سے لوگ مر کیوں جاتے ہیں؟

سائنسدان اس بات کی وجہ جاننے میں ایک قدم مزید آگے بڑھ چکے ہیں کہ دل ٹوٹنے کی صورت میں بعض لوگ مر کیوں جاتے ہیں۔

دل کا ٹوٹ جانا جسے ’ٹیکٹ سوبو سنڈروم‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی علامات وہی ہوتی ہیں جو دل کے دورے کی ہوتی ہیں(فوٹو: پکسابے)

سائنسدان اس بات کی وجہ جاننے میں ایک قدم مزید آگے بڑھ چکے ہیں کہ دل ٹوٹنے کی صورت میں بعض لوگ مر کیوں جاتے ہیں۔

طویل عرصے تک جاری رہنے والا دباؤ اور تناؤ کا سبب بننے والے واقعے سے گزرنا ایسی حالت کا سبب بنتا ہے، جسے دل شکستگی کے طور پر جانا جاتا ہے۔

دل کا ٹوٹ جانا جسے ’ٹیکٹ سوبو سنڈروم‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی علامات وہی ہوتی ہیں جو دل کے دورے کی ہوتی ہیں اور اس میں سینے میں درد اور سانس لینے میں دشواری شامل ہوسکتا ہے۔

یہ کیفیت کئی طرح کی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے اور اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ برطانیہ میں سالانہ تقریباً 2500 لوگوں کو متاثر کرسکتی ہے۔

اس سے متاثر ہونے والے افراد میں زیادہ تر وہ خواتین شامل ہوتی ہیں، جنہیں ماہواری آنا بند ہو جاتی ہے اور بعض صورتوں میں یہ کیفیت مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔

اس تحقیق کے لیے برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن (بی ایچ ایف) نے فنڈ فراہم کیا ہے اور یہ کارڈیو ویسکیولر ریسرچ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دباؤ کی سطح میں اضافے سے جڑے دو مالیکیولز دل شکستگی کی کیفیت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

امپیریل کالج آف لندن کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق مائیکرو آر این اے 16 اور 26 اے (چھوٹے مالیکیولز جن کا تعلق اس بات سے ہے کہ جینز کو کس طرح ڈی کوڈ کیا جاتا ہے) اس کیفیت میں مبتلا ہونے کے امکان میں اضافہ کر دیتے ہیں۔

لیبارٹری میں کام کے دوران محققین نے انسانی اور چوہوں کے دل کے خلیوں کا معائنہ کیا ہے اور اس بات کی جانچ کی ہے کہ وہ دو مالیکیولز کا سامنا کرنے کے بعد ایڈرینالین (اندرونی اعضا کے کام کو باقاعدہ بنانے والے ہارمون) کے مقابلے میں کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

جب محققین نے اس دل کے خلیوں کا معائنہ کیا جس پر مائیکرو آر این اے کو آزمایا گیا تھا تو انہوں نے دیکھا کہ خلیے ایڈرینالین کے معاملے میں زیادہ حساس ہوگئے تھے اور ان میں سکڑنے کی صلاحیت ختم ہونے کا امکان بڑھ گیا تھا، اس لیے دل شکستگی کی علامات سے وابستہ تبدیلیوں کا ایڈرینالین کی کم سطح پر مشاہدہ کیا گیا۔

 مائیکرو آر این اے 16 اور 26 اے کو ڈپریشن، بے چینی اور دباؤ کی سطح میں اضافے سے جوڑا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ ڈرامائی دھچکے کے بعد طویل عرصے تک جاری رہنے والا دباؤ ایسے اثرات پیدا کرسکتا ہے جو دل شکستگی کی کیفیت میں نظر آتے ہیں۔

ماہرین کو امید پیدا ہو گئی ہے کہ اب ان نتائج کی روشنی میں مستقبل میں خون کا ٹیسٹ اور ادویات کی تیاری ممکن ہوں گے۔

امپیریل کالج لندن میں دل کی ادویات کے پروفیسر سیان ہارڈنگ کے بقول: ’ٹیکٹ سوبوسنڈروم ایک سنگین حالت ہوتی ہے، لیکن جس طرح یہ پیدا ہوتی رہی وہ اب تک ایک راز تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ بعض لوگ اچانک پہنچنے والے جذباتی صدمے کا اس انداز میں کیوں جواب دیتے ہیں اور بہت سے نہیں دیتے۔ اس تحقیق سے تصدیق ہوتی ہے کہ پیشگی دباؤ اور اس سے جڑا مائیکرو آر این اے مستقبل میں دباؤ کی صورتوں میں کسی شخص کو ٹیکٹ سوبو سنڈروم میں مبتلا ہونے کے خطرے سے دوچار کر دے۔ دباؤ کی کئی شکلیں ہوتی ہیں اور طویل عرصے تک جاری رہنے والے دباؤ کے اس عمل کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔‘

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے ایسوسی ایٹ میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر میٹن ایوکرن کہتے ہیں: ’ٹیکٹ سوبو سنڈروم اچانک پیدا ہونے والا اور دل کے لیے تباہ کن مسئلہ ہے لیکن اس کی وجوہات کے بارے میں ہمارا علم محدود ہے۔ اس طرح یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اس نظرانداز کی گئی حالت کے بارے میں مزید جانیں اور اس سے بچاؤ اور علاج کے نئے طریقے دریافت کریں۔ موجودہ تحقیق اس پراسرار بیماری کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے نہ صرف ایک قدم ہے بلکہ اس سے بیماری کی شناخت اور ان کے لوگوں کے علاج کے لیے نئے طریقوں کا بھی پتہ چل سکتا ہے، جن کے ٹیکٹ سوبو کا شکار ہونے کا خطرہ ہو۔ ہمیں اس بات کا تعین کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آیا وہ دوائیں جو مائیکرو آراین ایز کا راستہ روکتی ہیں وہ دل کے ٹوٹنے سے بچنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہیں۔‘

دل کے ٹوٹنے کی کیفیت اکثر کسی شدید نوعیت کے واقعے کے بعد پیدا ہو تی ہے۔ ان واقعات میں کسی عزیز ہستی کی موت، زندگی کے لیے خطرناک بیماری کی تشخیص، مالی نقصان، فالتو ہونے کی حالت یا تعلق کا ختم جانا شامل ہوسکتے ہیں۔ اس وقت اس بیماری کے دوبارہ حملے کو روکنے کا کوئی علاج دستیاب نہیں ہے۔

اس رپورٹ کی تیاری میں خبر رساں ادارے پی اے کی اضافی رپورٹنگ شامل ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت