بلوچستان میں یتیم بچوں کی تعلیم کے لیے کوشاں خاتون سے ملیے

آمنہ شفیع کہتی ہیں کہ اگر ہم کسی یتیم بچے کو صرف تعلیم دلادیں تو نہ صرف اس کی زندگی بن جائے گی بلکہ وہ خود اپنے باقی مسائل حل کرنے کے قابل بھی ہوجائے گا۔

آمنہ شفیع اس وقت بلوچستان کے تین اضلاع خضدار، کوئٹہ اور نوشکی میں کام کررہی ہیں، لیکن  وہ  اس کام کو  لکی  بلکہ عالمی سطح تک لے  جانے کا ارادہ رکھتی ہیں (فوٹو: آمنہ شفیع)

’میں چوتھی جماعت میں پڑھتی تھی، جب ایک دن ہم نے سنا کہ کسی کو ہمارے گھر کے قریب گندم کے کھیت سے ایک نومولود بچہ ملا ہے۔ پھر اطلاع ملی کہ اسے ایک جوڑا اپنے گھر لے گیا ہے۔‘

’میں نے اور میری سہلیوں نے سکول سے چھٹی ملتے ہی اس گھر کی طرف دوڑ لگادی، جہاں بچے کو لے جایا گیا تھا۔ وہاں ہم نے بچے کو دیکھا جو بہت خوبصورت تھا۔‘

’میں نے واپس اپنے گھر آکر اپنی امی سے پوچھا کہ آپ نے وہ بچہ کیوں نہیں اٹھایا؟‘

’یہ واقعہ بچپن کا تھا لیکن اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا کہ جن کا کوئی نہیں ہوتا ان کے مسائل کون حل کرتا ہے۔‘

یہ واقعہ بلوچستان کے ضلع خضدار کی آمنہ شفیع کے لیے بنیاد بنا اور انہوں نے نوجوانی میں وہ قدم اٹھایا جو شاید کسی لڑکی کے لیے آسان نہیں تھا۔ انہوں نے یتیم بچوں کے تعلیم کے مسائل حل کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔

آمنہ نے بتایا: ’ایک قبائلی معاشرے میں خواتین کا باہرنکلنا اور کام کرنا ایک اچھا عمل خیال نہیں کیا جاتا لیکن میں نے اس روایت کے خلاف کام کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

آمنہ سمجھتی ہیں کہ بچوں کے مسائل تو بہت ہیں لیکن اگر ہم کسی یتیم بچے کو صرف تعلیم دلادیں تو نہ صرف اس کی زندگی بن جائے گی بلکہ وہ خود اپنے باقی مسائل حل کرنے کے قابل بھی ہوجائے گا۔

 وہ کہتی ہیں: ’اسی سوچ کے تحت میں نے اس کام کو جاری رکھا ہوا ہے، جس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا: ’ہمارے معاشرے میں بچوں کو مسائل کا سامنا تو ہے ہی لیکن اگرہم غور کریں تو ہمیں یتیم بچے زیادہ مسائل کا شکار نظر آئیں گے۔ میرے خیال میں ان کو اس وقت زیادہ مدد کی ضرورت ہے۔‘

’میں یتیم بچوں کو تین مختلف طرح سے دیکھتی ہوں۔ وہ بچے جن کے والدین فوت ہوچکے ہیں۔ دوسرے وہ جن کے والدین کسی حادثے کے باعث نہیں رہے جبکہ تیسرے وہ ہیں جن کے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہے۔ ان سب کو ہم تعلیم کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’پہلے ہم یتیم بچے کو منتخب کرتے ہیں، پھر قریب ہی کسی نجی سکول سے رابطہ کرکے وہاں ان کا داخلہ کروا دیتے ہیں، جس کے بعد کتابوں اور یونیفارم وغیرہ پر مشتمل ان کے تمام اخراجات ادا کرتے ہیں۔‘

اس کے باوجود کہ آمنہ کا تعلق بلوچستان کے ایک قبائلی معاشرے خضدار سے ہے، جہاں خواتین کے گھر سے باہر کام کرنے کو غیر مناسب خیال کیا جاتا ہے۔ انہیں نہ صرف پذیرائی مل رہی ہے بلکہ انہیں کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔

یتیم بچوں کے تعلیم کے مسائل کے حل کے لیے آمنہ نے شفیع آرفنیج اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کی بنیاد رکھی تاکہ یہ سب کام ایک ادارے کے ذریعے سر انجام پائیں۔

اس وقت آمنہ کے ادارے میں 70 سے زائد یتیم بچے رجسٹرڈ ہیں۔ ان بچوں کو مختلف سکولوں میں داخل کروا کر انہیں تعلیم دی جارہی ہے، جن میں صرف پانچ فیصد کو سرکاری سکول میں داخل کروایا گیا کیوںکہ ان کے علاقے میں کوئی نجی سکول نہیں تھا۔

آمنہ خضدار میں ایک ایسا ادارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں جس میں نہ صرف یتیم بچوں کو رہائش دی جا سکے بلکہ وہاں انہیں تعلیم کی جدید سہولیات بھی میسر ہوں۔ اس مقصد کے لیے آمنہ کے والد نے پانچ ایکڑ اراضی بھی وقف کررکھی ہے۔

کب زیادہ خوشی ملی؟

آمنہ نے بتایا: ’میں نے ایک بچے کو دیکھا جو کوئٹہ میں رہتا ہے۔ وہ نہ صرف یتیم ہے بلکہ جسمانی طور پر معذور بھی ہے۔ میں نے پہلے اس بچے کے لیے وہیل چیئر کا بندوبست کیا پھر اسے کوئٹہ کے ایک نجی سکول میں داخل کروا دیا۔ یہ بچہ انتہائی ذہین ہے۔ اسے خوش دیکھ کر مجھے بہت سکون ملا اور مجھے اس روز بہت خوش ہوئی۔‘

بقول آمنہ: ’یہ میرے بچپن کا خواب تھا اور میں نے یہ کام اکیلے ہی شروع کیا۔ سکول کے زمانے میں بھی میں ایسے بچوں کی مدد اپنے پیسوں سے کرتی تھی یا پھر والدین سے لے کر کرتی تھی۔‘

 اس وقت آمنہ کے ساتھ 200 رضا کار کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا: ’ان میں ڈاکٹر، وکیل، نوجوان اور دیگر افراد شامل ہیں جو اس کام میں میری مدد کرتے ہیں۔ ہم ان کو کہہ دیتے ہیں کہ اس یتیم بچے کی تعلیم کے اخراجات وہ پورے کریں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آمنہ اس وقت بلوچستان کے تین اضلاع خضدار، کوئٹہ اور نوشکی میں کام کررہی ہیں، لیکن ان کا ارادہ ہے کہ وہ اس کام کو پورے صوبے اور ملکی سطح بلکہ عالمی سطح تک لے جائیں۔

2012 سے یتیم بچوں کے تعلیمی مسائل کے حل کے لیے کوشاں آمنہ سمجھتی ہیں کہ اگر ان کے والدین کی مدد ان کے ساتھ نہ ہوتی تو شاید وہ اس کام کو کرنے کے قابل نہ ہوتیں، خصوصاً ان کے بھائی جو ہر قدم پر ان کے ساتھ ہوتے ہیں، جن کی بدولت وہ دوردراز علاقوں میں سروے اور بچوں کے حوالے سے معلومات اکھٹی کرپاتی ہیں۔

آمنہ شفیع اپنے ادارے کی طرف سے یتیموں اور بیوہ خواتین میں عید اور رمضان کے موقع پر راشن بھی تقسیم کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’میں 2012 میں ایف سی پبلک سکول میں پڑھاتی تھی تو میں نے دو بچوں کے تعلیم کے مسائل حل کیے اور انہیں سکول میں داخل کروا کر ان کے اخراجات کا ذمہ اٹھایا۔ یہ دو بھائی تھے، جن میں سے ایک جب نویں جماعت میں تھا تو وہ فوت ہوگیا۔ میں نے اس لڑکے کے دوسرے بھائی کو داخلہ دلوانے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اس نے کبھی پڑھا ہی نہیں تو میں نے اس کو تین ماہ تک اپنے گھر میں رکھ کر ٹیوشن پڑھائی اور بعد میں اسے سکول میں داخل کروا دیا، جو ابھی تک تعلیمی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

گو کہ اس وقت آمنہ کے پاس وسائل اور فنڈز کی کمی ہے، لیکن وہ پرعزم ہیں کہ ایک دن وہ اور یتیم بچوں کی کفالت کرنے کے قابل بھی ہو جائیں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین