پشاور ہراسانی، زیادتی کا مقدمہ: پرنسپل کو کورٹ سے رہائی کیسے ملی؟

پشاور ہائی کورٹ نے ایک نجی سکول میں تقریباً چار سال قبل بچوں اور خواتین کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور اس کی ویڈیوز بنانے والے ملزم کی سزا عدم شواہد کی بنا پر ختم کر کے رہائی کا حکم دے دیا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ میں پیرکو اس مقدمے میں سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران ملزم کو عدم ثبوتوں کی بنا پر بری کر دیا گیا (اے ایف پی فائل)

پشاور کے پوش علاقے حیات آباد کے ایک نجی سکول میں تقریباً چار سال قبل بچوں اور خواتین کو مبینہ طور پر جنسی ہراساں کرنے اور اس کی ویڈیوز بنانے والے ملزم کی سزا پشاور ہائی کورٹ نے عدم شواہد کی بنا پر ختم کر کے رہائی کا حکم دے دیا ہے لیکن اس کیس کی تفتیش کرنے والے پولیس افسران رہائی کے فیصلے پر حیران ہیں۔

ملزم عطا اللہ مروت کو پشاور کی ایک مقامی عدالت کے سیشن جج یونس خان نے اکتوبر 2018 میں 105 سال قید اور 14 لاکھ جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

ان پر جولائی 2017 میں حیات آباد کے ایک نجی سکول میں بچوں اور خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کرنے اور سی سی ٹی وی کیمروں اور موبائل کے ذریعے ویڈیوز بنانے کا الزام تھا۔

جس سکول میں یہ واقعہ ہوا تھا وہ ملزم کی اپنی ملکیت تھا اور وہ خود ہی اس سکول کے پرنسپل بھی تھے۔

ملزم کے خلاف سکول کے ایک طالب علم نے پولیس کو درخواست جمع کرا کر بتایا تھا کہ سکول کے اندر پرنسپل مبینہ طور پر بچوں اور خواتین کو جنسی ہراسانی کے بعد ان کی ویڈیوز بناتے رہتے ہیں۔

پولیس نے واقعے کی تفتیش کر کے سکول پرنسپل کے دفتر پر چھاپا مارا اور وہاں سے ان کے دو موبائل فونز، اور یو ایس بی میں مبینہ ویڈیوز بھی برآمد کی تھیں۔

اسی کیس کی تفتیش کرنے والے ایک پولیس اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ چھاپے کے دوران ملزم اپنے موبائل فونز چھپانے کی کوشش کر رہا تھا اور جو موبائل فونز اور یو ایس بی برآمد ہوئیں اس میں خواتین کو ہراساں کرنے کی مبینہ ویڈیوز موجود تھیں۔

ملزم کو مقامی عدالت نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات کے تحت سزا سنائی جن میں خواتین کے کپڑے اتارنا، خواتین کو اغوا کر کے انہیں شادی کے لیے مجبور کرنا، خواتین کی عزت نفس مجروح کرنا اورغیر فطری عمل کی دفعات شامل ہیں۔

اس مقدمے میں 25 کے قریب متاثرین شامل تھے لیکن اس میں بہت کم نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس مقدمے میں تین خواتین نے اپنا بیان عدالت کے سامنے ریکارڈ کروایا تھا جبکہ ملزم نے خود بھی عدالت کے سامنے اعتراف جرم کیا تھا اور انہوں نے خواتین کو سکول میں لانے اور ان کی ویڈیوز بنانے کا اعتراف بھی کیا تھا، تاہم بچوں کے ساتھ مبینہ زیادتی کے حوالے سے انہوں نے اعتراف جرم نہیں کیا تھا۔

جولائی 2017 میں کوڈ آف کریمینل پروسیجر کی دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ اصغر خان  کے سامنے اپنے اعترافی بیان میں ملزم عطا اللہ نے بتایا تھا کہ وہ باہر سے ’خواتین سکول لا کر ان کے ساتھ جنسی عمل کرتے تھے اور ان کی ویڈیوز بناتے تھے۔‘

اسی کیس کی تفتیش میں شامل ایک پولیس اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ملزم کو جس وقت پکڑا جا رہا تھا تو ان سے یو ایس بی سمیت موبائل فونز بھی برآمد کیے گئے تھے جس میں جنسی عمل کے ویڈیوز موجود تھیں جبکہ چھاپے کے دوران ان کے دفتر سے جنسی صلاحیت بڑھانے کی گولیاں بھی برآمد کی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ بعد میں عدالت نے متاثرہ خواتین کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے بلانے کا کہا جن میں سے تین خواتین نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا کہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے۔

پولیس اہلکار بتاتے ہیں: ’اس طرح کے مقدموں میں عزت کی خاطر کوئی بھی متاثرہ خاتون سامنے نہیں آتی لیکن پولیس نے اس کیس کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لیتے ہوئے تین خواتین کو اس بات پر قائل کیا کہ وہ عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروائیں اور انہوں نے ایسا ہی کیا اور تب ہی مقامی عدالت نے ملزم کو سزا سنائی تھی۔‘

ملزم کو رہا کیوں گیا؟

پشاور ہائی کورٹ میں پیر(28 جون) کو اس مقدمے میں سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران ملزم کو عدم ثبوتوں کی بنا پر بری کر دیا گیا۔

عدالت نے کہا کہ استغاثہ نے اس مقدمے میں میڈیکل، فورنزک سمیت کوئی آڈیو یا ویڈیو ثبوت عدالت کو فراہم نہیں کیے اور نہ اس مقدمے میں متاثرہ خواتین نے عدالت میں آکر اپنا بیان ریکارڈ کروایا ہے۔

پولیس قانونی طور پر عدالتی فیصلوں پر رائے نہیں دے سکتی، اس لیے ایک پولیس اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ عدالت نے تقریباً چار سال بعد متاثرہ خواتین کو دوبارہ عدالت میں بیان ریکارڈ کروانے کا کہا تھا لیکن ’ہمارے معاشرے میں ایسا کہاں ہوتا ہے کہ کوئی متاثرہ خاتون اس طرح کے مقدمات میں دوبارہ عدالت میں حاضری لگائے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’کوئی بھی متاثرہ خاتون عدالت میں پیش نہیں ہوئی۔ پہلے تین خواتین نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا لیکن عدالت اب دوبارہ متاثرہ خواتین کو عدالت میں پیش ہونے کا کہہ رہی ہے۔‘

اہلکار نے بتایا کہ اس کیس میں متاثرین کی تعداد درجنوں میں تھی لیکن شرم کی وجہ سے کوئی عدالت میں بیان ریکارڈ کرانا نہیں چاہتا تھا۔

آڈیو ویڈیو ثبوتوں کے حوالے سے پولیس اہلکار نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے یہ ثبوت مقامی عدالت میں جمع کرائے گئے تھے تب ہی تو عدالت نے ملزم کو سزا سنائی تھی۔

قانونی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

پشاور ہائی کورٹ کے سینیئر وکیل اور اس قسم کے مقدمات میں وسیع تجربہ رکھنے والے نور عالم ایڈوکیٹ سے پوچھا گیا کہ اگر ایک مقامی عدالت نے ملزم  کو ثبوتوں کے بنا پر سزا سنائی ہے تو دوسری عدالت کیسے عدم ثبوتوں کی بنا پر ملزم کو بری کرنے کا حکم دے سکتی ہے؟

اس کے جواب میں نور عالم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ عدالتیں ہمیشہ ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں اور اس مقدمے میں بھی ایسا ہی ہوا ہے، مقامی عدالت نے استغاثہ کی طرف سے پیش کیے گئے ثبوتوں کی بنیاد پر ملزم کو سزا سنائی جبکہ پشاور ہائی کورٹ نے سمجھا کہ اس مقدمے میں جو ثبوت پیش کیے گئے وہ ناقص ہیں تو ملزم کو بری کرنے حکم دے دیا۔‘

نور عالم نے بتایا: ’مقامی عدالت یا پشاور ہائی کورٹ آخری عدالت نہیں۔ اس مقدمے میں حکومت فریق ہے تو حکومت کو اگر لگتا ہے کہ  انہوں نے تفتیش کی ہے اور ثبوت بھی کافی ہیں تو وہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر سکتے ہیں اور عدالت سے درخواست کر سکتے ہیں کہ ملزم کی سزا کو برقرار رکھا جائے۔‘

تاہم نور عالم نے جدید تفتیش اور پرانے تفتیشی طریقہ کار کا تقابلی جائزہ کرتے ہوئے کہا کہ اب جدید زمانہ ہے جہاں پر ویڈیوز وغیرہ کی جدید طرز پر تفتیش کی جا سکتی ہے جس طرح اس مقدمے میں ایک ثبوت ویڈیوز تھیں تاہم جس طرح عدالت نے ویڈیوز کی فورنزک ٹیسٹ نہ ہونے کا کہا تو اس سے لگتا ہے کہ حکومت نے ویڈیوز کے لیبارٹری سے باقاعدہ فورنزک ٹیسٹ نہیں کروائے اور عدالت محض ویڈیو پیش کرنے پر کسی کو سزا نہیں دیتی۔

 ’عدالت کے سامنے آپ ویڈیو رکھیں تو اسی ویڈیو کو ثابت بھی کریں گے کہ ویڈیو واقعی اصلی ہے، اس میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ وغیرہ نہیں کی گئی اور یہ واقعی ملزم کی ہے جو جرم کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔ اس ویڈیوز کو باقاعدہ مستند لیبارٹریز سے ثابت کرنا پڑتا ہے اور تب ہی عدالت اس کو بطور ثبوت قبول کرتا ہے۔‘

 انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس مقدمے کو والدین فالو کرتے رہے ہیں اور ان کو اپنے بچوں کی فکر لاحق تھی لیکن ملزم کی عدم ثبوتوں کی بنا پر رہائی کی وجہ سے اب وہ حکومتی نظام پر سوالات اٹھائیں گے کہ حکومت نے کیوں اس مقدمے میں باقاعدہ کام کر کے ثبوت اکھٹے نہیں کیے۔

نور عالم سے جب پوچھا گیا کہ اس مقدمے میں ملزم نے اعتراف جرم کیا اور متاثرہ خواتین نے بھی عدالت کے سامنے بیانات ریکارڈ کرائے، تو یہ ثبوت کافی نہیں تھے؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں نے اگر صرف اعتراف جرم پر سزائیں دینا شروع کر دیں تو پھر تو ہر کسی کو پھانسی کی سزا ملے گی۔

’اعتراف جرم کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بس ملزم نے اعترافی بیان ریکارڈ کرایا اور عدالت نے سزا دے دی۔ عدالت اعتراف جرم کے بیان کو ٹرائل کورٹ میں دیکھتی ہے کہ یہ بیان کسی زور زبردستی، کسی لالچ یا کسی بھی غیر قانونی طریقے سے تو نہیں لیا گیا ہے۔ اس کے بعد جب عدالت مطمئن ہو جائے کہ ملزم نے بیان اپنی مرضی سے دیا ہے تو عدالت کی طرف سے مقدمے میں فیصلہ سنایا جاتا ہے اور مجرم کو سزا سناتی ہے۔‘

 ملزم نے سزا کے خلاف درخواست میں کیا لکھا تھا ؟

اس مقدمے میں ملزم کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ان کو دوسرے نجی سکولوں کے مالکان  نے ’حسد کی بنیاد‘ پر اس واقعے میں پھنسانے کی کوشش کی تھی۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ان  کے سکول کی کارکردگی ’بہتر‘ جا رہی تھی جس کی وجہ سے سکول کی ساکھ اور کاروبار کو ’خراب‘ کرنے کے لیے مالکان نے ان کے خلاف اس قسم کا ’کھیل کھیلا۔‘

ملزم کے وکیل شبیر حسین گگیانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ملزم کے خلاف استغاثہ نے عدالت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی عدالت میں کوئی متاثرہ شخص پیش ہوا جبکہ استغاثہ کی جانب سے کوئی میڈیکل، یا آڈیو ویڈیو کی فورنزک رپورٹ بھی پیش نہیں کی گئی، یہی وجہ ہے کہ عدالت نے ملزم کو بری کر دیا۔

شبیر گگیانی نے بتایا کہ اس مقدمے میں ’مقامی عدالت نے صرف ویڈیو اور انہیں کی لاہور کی ایک لیبارٹری پر رپورٹ کی بنیاد پر ملزم کو سزا سنائی تھی اور اسی سزا کو پشاور ہائی کورٹ نے ختم اس لیے کیا کیونکہ اس کیس میں سارے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ استغاثہ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ ملزم کو 14 جولائی 2017 کو چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا لیکن تفتیشی ٹیم کے مطابق عدالت میں یو ایس بیز میں موجود ویڈیوز 17 جولائی کو برآمد کی گئی تھیں۔

’کسی بھی مقدمے میں ایسے ثبوت حاصل کرنے کے لیے ایک قانون موجود ہے جس میں پولیس یہ مواد دو نجی گواہ (پولیس کے علاوہ) کے سامنے اکھٹا کرے گی اور اس کے بعد عدالت میں پیش کرے گی۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’اس مقدمے میں جتنا بھی مواد بطور ثبوت جو پولیس ملزم سے برآمد کرنے کا دعویٰ کرتی ہے ان میں سے کسی گواہ کا نام موجود نہیں ہے کہ یہ ان کے سامنے اکھٹے کیے گئے ہے۔‘

ملزم کے اعترافی بیان کے حوالے سے گگیانی نے بتایا کہ اعترافی بیان پولیس کی تفتیش میں جو نتیجہ نکالا گیا تھا اس سے مختلف تھا اور یہی وجہ تھی کہ عدالت نے اعترافی بیان کو بطور ثبوت استعمال نہیں کیا۔

’جنسی زیادتی کے مقدمات میں متاثرہ شخص کا عدالت میں پیش ہونا بہت اہم ہوتا ہے لیکن اس مقدمے میں کوئی بھی شخص عدالت میں پیش نہیں ہوا اور نہ متعلقہ سکول کا کوئی ملازم عدالت میں پیش ہوا۔‘

تین متاثرہ خواتین کے عدالت کے سامنے بیان کے حوالے سے گگیانی کا کہنا تھا کہ تین نہیں بلکہ صرف ایک خاتون پیش ہوئی تھیں جنہوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ ’ایک مرتبہ اپنی بیٹی کی فیس جمع کرانے اسی سکول گئی تھیں جہاں پر سکول پرنسپل نے میری بیٹی کو بتایا کہ میرا موبائل نمبر آپ کے پاس ہے تو کبھی کبھی رابطہ کیا کریں۔‘

گگیانی  نے کہا: ’اس کے بعد خاتون نے اپنے بیان میں لکھا تھا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو وہاں سے نکلوا کر دوسرے سکول میں داخل کروایا تھا لیکن اس خاتون نے بیان میں جنسی زیادتی کے حوالے سے کچھ نہیں کہا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان