’فیشن ڈیزائنر اپنے کام کو لوگوں کے ردعمل کے مطابق نہیں ڈھال سکتے‘

ہم سٹائل ایوارڈز کی سٹائلسٹ امل قادری کا کہنا ہے کہ ہر کسی کو حق ہے کہ وہ اپنے لباس کے ذریعے اظہار کریں۔

ہم سٹائل ایوارڈز میں خواتین فنکاروں کے ملبوسات پر نکتہ چینی کا سلسلہ تا حال جاری ہے  (ہم ایوارڈز)

ہم سٹائل ایوارڈز میں اداکارہ علیزے شاہ کے لباس پر ہونے والی تنقید کے جواب میں ایک سٹائلسٹ کہتی ہیں کہ فیشن ڈیزائنر اور فیشن انڈسٹری صارفین کے ردعمل پر خود کو نہیں ڈھال سکتے۔ 

سٹائلسٹ امل قادری، جنہوں نے ایوارڈز کے لیے علیزے کو تیار کیا، کا کہنا ہے کہ ہر کسی کو اپنے لباس اور اس کے انداز سے اپنے آپ کو پیش کرنے کا حق حاصل ہے اور یہ ان کی مرضی ہے کہ وہ اسے کیسے استعمال کریں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علیزے ایک افسانوی کردار کی طرح دکھنا چاہتی ہیں اور انہیں اس طرز پر تیار کیا گیا۔ 

اتوار کی شب لاہور میں منعقد ہونے والے ہم سٹائل ایوارڈز میں خواتین فنکاروں کی جانب سے زیب تن کیے جانے والے ملبوسات پر نکتہ چینی کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

ان ایوارڈز میں شریک زیادہ تر خواتین فنکاروں خصوصاً علیزے شاہ کے پہنے ہوئے سیاہ رنگ کے ایک گاؤن پر بہت زیادہ تنقید ہورہی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس ضمن میں شو کی سٹائلسٹ امل قادری سے پوچھا، جنہوں نے اکثر ملبوسات ڈیزائنرز کے ساتھ مل کر تیار کروائے تھے، کہ اس معاملے پر ان کا ردعمل کیا ہے؟

امل قادری کا کہنا تھا: ’سوشل میڈیا کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے، آپ لوگوں کو رائے دینے سے روک نہیں سکتے لیکن اس مطلب یہ ہرگز نہیں کہ فیشن ڈیزائنر اور فیشن انڈسٹری اپنے کام کو میڈیا یا لوگوں کے ردعمل کے مطابق ڈھالنے لگے کہ کسے کیا پہنا چاہیے اور کیا نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’لباس اور اس کا انداز اپنے آپ کو پیش کرنے کا اظہار ہے اور ہم سب ہی کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے اپنی اپنی پسند کے مطابق استعمال کریں۔‘

میں کسی بھی مشہور شخصیت کو تیار کرنے سے پہلے اس سے سے معلوم کرتی ہوں کہ وہ خود کیا پسند کرتی ہیں اور وہ خود کیسا دکھنا چاہتی ہیں، پھر میں انہیں جدید تراش کے مطابق سنوارتی ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اداکارہ علیزے شاہ پر خصوصی طور پر ہونے والی تنقید پر امل قادری کا موقف تھا کہ ’علیزے شاہ خود ایک افسانوی کردار (فیری ٹیل) کی طرح لگنا چاہتی تھیں، اس لیے انہیں ڈزنی کی کہانیوں کے کردار کے طرز پر تیار کیا گیا۔‘

امل نے کہا: ’میری نظر میں یہ تنقید بے وجہ ہے جس کی کوئی تک نہیں بنتی، علیزے شاہ نے اس دن ایک دوسرا لباس بھی پہنا تھا، جسے ڈیمی سنی کوٹیور نے تیار کیا تھا جب کے سیاہ لباس علی ذیشان سے تیار کروایا تھا، ان دونوں ملبوسات میں ایک تعلق ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’گلوکارہ رشم فیض بھٹا ڈرامائی انداز پسند کرتی ہیں اس لیے ہم نے خاص طور پر لباس تیار کروایا جس نے ان کی شوخ و چنچل شخصیت کو مزید نکھار دیا۔

’اسی طرح اداکارہ ریشم ایک کلاسک انداز چاہتی تھیں جس کے لیے ہم نے پرانی تصویروں کو دیکھا اور ان کا لباس ڈیزائنر اقبال حسین  نے تخلیق کیا۔‘

امل قادری نے واضع کیا کہ ’انہوں نے جتنے بھی ستاروں کو تیاری میں مدد دی ان سب کا انداز ایک دوسرے سے جدا تھا کیونکہ وہ ان کی شخصیت اور پسند کے مطابق کام کرتی ہیں۔

’اگر اس سب کے بعد بھی ان شخصیات کو سوشل میڈیا پر اس طرح کی رائے ملتی ہے تو میں یہی کہوں گی کہ اعتراض کرنے والوں کو اپنی سوچ تبدیل کرنا ہوگی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فن