گرمی کے ستائے سیاحوں میں ٹھنڈیانی کیمپنگ پاڈز مقبول

ضلع ایبٹ آباد کے ٹھنڈیانی ٹاپ پر خیبرپختونخوا کے محکمہ سیاحت کی جانب سے کیمپنگ پاڈز لگائے گئے ہیں جو موسم گرما میں سیاحوں کا ٹھکانہ بن جاتے ہیں۔

جب شہر میں درجہ حرات 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے تو کون نہیں چاہے گا کہ کسی ٹھنڈے مقام پر جاکر کچھ وقت گزارا جائے۔ پاکستان میں ایسے بے شمار مقامات موجود ہیں، جن میں سے ایک ٹھنڈیانی بھی ہے اور یہاں بنے کیمپنگ پاڈز سکون کے لمحات گزارنے کے لیے بہترین ہیں۔

ضلع ایبٹ آباد کے ٹھنڈیانی ٹاپ پر خیبرپختونخوا کے محکمہ سیاحت کی جانب سے کیمپنگ پاڈز لگائے گئے ہیں جو موسم گرما میں سیاحوں کا ٹھکانہ بن جاتے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں سے سیاح اپنے اہل خانہ کے ساتھ یہاں آکر ٹھنڈیانی کے   پُر فضا مقام سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

اسد علی رضا کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے، جو اپنی فیملی کے ساتھ ٹھنڈیانی پاڈز آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کی مصروف زندگی سے کچھ دن باہر بھی رہ کر لطف اندوز ہونا چاہیے، جس کے لیے ٹھنڈیانی بہترین جگہ ہے۔

انہوں نے انڈپیندنٹ اردو کو بتایا کہ وہ پہلے بھی یہاں آئے تھے لیکن یہاں رہائش کا کوئی بندوبست نہیں تھا، مگر اب پاڈز لگائے گئے ہیں اور سیاح بلا خوف یہاں رہ سکتے ہیں۔

اسد سے پاڈز میں موجود سہولیات کے حوالے سے جب پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہاں سولر بجلی، پانی ، واش روم وغیرہ کی سہولیات موجود ہیں جبکہ کچن بھی موجود ہے اور اگر کوئی چاہے تو اپنے ساتھ اشیا لا کر کچن میں خود بھی کھانا پکا سکتا ہے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے یہاں شیف بھی موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس ریموٹ (دوردراز) جگہ میں بس یہی سہولیات کافی ہیں کیونکہ زیادہ سہولیات چاہییں ہوں تو پھر تو شہر کے کسی ہوٹل میں رہنا اور یہاں رہنا ایک جیسا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بقول اسد: ’یہاں انسان نیچر کے ذرا قریب ہوتا ہے۔ جتنی سہولیات یہاں موجود ہیں یعنی موبائل چارج کرنے کے لیے سولر پینلز ، پانی اور دیگر چیزیں تو اس جگہ کے لحاظ سے یہ کافی ہے۔ یہاں کے ماحول سے سیاح لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔‘

ٹھنڈیانی ضلع ایبٹ آباد کے مرکزی شہر سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ سیاح اس سیاحتی مقام تک جانے کے لیے کسی بھی قسم کی گاڑی میں جاسکتے ہیں کیونکہ اس مقام تک جانے والی سڑک بہترین ہے، تاہم پاڈز تک پہنچے سے تقریباً پانچ سو میٹر آگے سڑک تھوڑی خراب ہے۔

پاڈز کا کرایہ کتنا ہے؟

خیبرپختونخوا کے محکمہ سیاحت کی جانب سے یہاں 11 پاڈز لگائے گئے ہیں، جن میں دو بیڈ اور چار بیڈ کے پاڈز شامل ہے۔ پاڈز میں کمبل، بیڈ اور سولر پینل کے ذریعے روشنی کا بندوبست اور واش روم موجود ہے۔ محکمہ سیاحت کے مطابق دو بیڈ پاڈز کا فی رات کرایہ تین ہزار جبکہ چار بیڈ کا کرایہ پانچ ہزار روپے ہے۔

محکمہ سیاحت کے ترجمان سعد بن اویس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سیاح آنے سے پہلے محکمہ سیاحت کی ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن بکنگ کروا سکتے ہیں اور ساتھ ہی آن لائن پیسے بھی جمع کروا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا میں ٹھنڈیانی کے علاوہ دیگر جگہوں پر بھی پاڈز لگائے گئے ہیں اور سیاح جا کر وہاں رات گزار سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا