اسلام آباد میں ہونے والی افغان رہنما کانفرنس ملتوی

ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق تاشقند سے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے توثیق کے بعد پاکستان نے کانفرنس ملتوی کی۔ عید کے بعد  کانفرنس کی نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے اعلان کیا کہ افغانستان امن کانفرنس عید کے بعد ہو گی(اے ایف پی)

پاکستان نے پڑوسی ملک افغانستان میں امن کی کوششوں کے سلسلے میں صدر اشرف غنی حکومت کے نمائندوں اور دوسرے افغان رہنماوں کی بلائی گئی تین روزہ کانفرنس ملتوی کر دی ہے۔ 

دفتر خارجہ کے مطابق مجوزہ کانفرنس عیدالاضحی کے بعد تک کے لیے موخر کر دی گئی ہے۔ 

افغان امور پر لکھنے والے صحافی سلیم صافی کے مطابق کانفرنس افغان صدر اشرف غنی کے کہنے پر ملتوی کی گئی ہے۔  

’افغان صدر نے اسلام آباد کو آگاہ کیا کہ کابل کا ایک نمائندہ وفد طالبان رہنماوں سے مذاکرات کے لیے دوحہ روانہ ہو چکا ہے، اور ایسے میں پاکستان کی طلب کردہ کانفرنس میں شرکت مشکل ہو گی۔‘ 

انہوں نے کہا کہ کابل انتظامیہ نے پاکستان کو مجوزہ کانفرنس فی الحال منسوخ کرنے کا مشورہ دیا، تاہم اسلام آباد نے اسے عید الاضحی کے بعد تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

یاد رہے کہ کابل انتظامیہ اور افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے درمیان مذاکرات ہونے کا امکان پیدا ہوا ہے جس کی غرض سے کابل سے ایک وفد قطر کے شہر دوحہ جا رہا ہے۔ 

دفتر خارجہ ذرائع کا کہنا تھا کہ افغان رہنماوں میں سے بعض دوسرے لوگ بھی مصروفیت کے باعث کانفرنس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آنے کے سلسلے میں لیت و لعل سے کام لے رہے تھے۔ 

پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات کو افغانستان کے بارے میں اسلام آباد میں تین روزہ کانفرنس کی میزبانی کا اعلان کیا تھا، جو پڑوسی ملک میں قیام امن کے سلسلے میں پاکستان کی کوششوں کا حصہ ہونا تھی۔ 

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چودھری نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا تھا کہ افغان امن کانفرنس 17 سے 19 جولائی کو اسلام آباد میں منعقد ہو گی۔ 

افغان امن کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان نے افغانستان کے چالیس رہنماوں کو مدعو کیا تھا۔ 

افغانستان کے نجی ٹی وی چینل طلوع نیوز کے مطابق افغان امن کانفرنس کے لیے دعوت وصول کرنے والے افغان رہنماوں میں عبداللہ عبد اللہ، کریم خلیلی، محمد یونس قانونونی،  انجنئیر گلبدین حکمت یار، محمد حنیف اتمر، صلاح الدین ربانی، اسماعیل خان، عطا محمد نور، سید حمید گیلانی، سید اسحق گیلانی، باتور دوستم اور میرویس یاسینی سمیت 21 لوگ شامل ہیں۔ 

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ ان میں سے متعدد افراد نے پہلے ہی اپنی شرکت کی تصدیق کر چکے تھے، جنھیں ایک خصوصی طیارے کے ذریعے آج کابل سے اسلام آباد لایا جانا تھا۔ 

تاہم افغان طالبان کے دوحہ میں سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ انہیں پاکستان کی طرف سے افغان امن کانفرنس میں شرکت کے لیے دعوت موصول نہیں ہوئی ہے۔ 

امکان تھا کہ وزیر اعظم عمران خان افغان صدر اشرف غنی کو ازبکستان دوسرے کے دوران کانفرنس میں مدعو کریں گے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یاد رہے کہ عمران خان اور اشرف غنی اس وقت ازبکستان میں ہیں اور آج طالبان سے علاقائی رابطے سے متعلق ایک کانفرنس میں شریک ہیں۔  

کانفرنس کے انعقاد کا مقصد بیان کرتے ہوئے زاہد حفیظ چوہدری کے کا کہنا تھا: ’ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کانفرنس افغانستان میں قیام امن کے لئے جاری کوششوں کو محرک فراہم کرے گی۔‘ 

اسلام آباد میں یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں منعقد کی جارہی ہے جب افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا تکمیل کے قریب ہے اور طالبان نے اہم علاقے فتح کر لیا ہے۔   

پاکستان کے علاوہ کئی خطے کے کئی دوسرے ملک افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے نتیجے میں امن و امان کی صورت حال کے بڑنے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔ 

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا تھا: ’چونکہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاء تکمیل کے قریب ہے، ہمیں افغانستان کی سلامتی کی صورتحال پر تشویش ہے، ہم ایک بار پھر افغانستان میں سیاسی تصفیے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔‘  

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا تھا کہ غیر ملکی افواج کے جانے کے بعد افغانستان میں تعمیر نو اور معاشی ترقی کو فروغ دینا وہاں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لئے اہم ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا