باجوڑ: پہلے شوہر کے قتل کا انتقام لینے کے لیے دوسرے کا قتل

باجوڑ میں اپنی نوعیت کے پہلے واقعے میں ایک خاتون نے اپنے خاندان کے کسی فرد کے قتل کا بدلہ لیا ہے۔

محکمہ پولیس باجوڑ کے سوشل میڈیا صفحے پر 14 جولائی کو جاری کی جانے والی ایک تصویر میں ایک پولیس اہلکار اور گرفتار خاتون  دکھائی دے رہے ہیں (محکمہ پولیس باجوڑ/ فیس بک)

خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں ایک خاتون نے اپنے سابق شوہر کے قتل کے الزام میں موجودہ شوہر کو مبینہ طور پر گولی مار کرقتل کر دیا۔

صحافی فضل الرحمٰن کے مطابق یہ باجوڑ میں اپنی نوعیت کا پہلا ایسا واقعہ ہے جہاں ایک خاتون نے اپنے خاندان کے کسی مقتول کا بدلہ لیا ہے۔

واقعے کی پولیس رپورٹ کے مطابق کشمیری بی بی نامی خاتون نے باجوڑ کے عنایت قلعہ میں اپنے شوہر گلستان کو گولی مار کر قتل کر دیا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق کشمیری بی بی کو شک تھا کہ ان کے سابق شوہر شاہ زرین کا قتل گلستان نے مبینہ طور پر زہریلا انجکشن لگا کر کیا تھا۔

شاہ زرین کے قتل کی تاریخ تو معلوم نہیں ہو سکی تاہم کشمیری بی بی نے ایک سال قبل شاہ زرین کے قریبی دوست گلستان سے دوسری شادی کی تھی۔

کشمیری بی بی کی سابق شوہر سے ایک بیٹی ہے، تاہم گلستان سے کوئی اولاد نہیں۔ پولیس کے مطابق کشمیری بی بی کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔

گلستان کے بیٹے سید محمود نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’نہ تو ان کے والد نے خاتون کے سابق شوہر کو قتل کیا اور نہ ہی ان کے خاندان کے کسی فرد کو کشمیری بی بی کے عزائم کا علم تھا۔‘

ان کے مطابق ’کشمیری بی بی اپنے سابق شوہر شاہ زرین کی دوسری بیوی تھیں جبکہ ان کے والد گلستان کی بھی دوسری بیوی تھیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سوشل میڈیا پر شٹل کاک برقعے میں ملبوس خاتون کا گرفتاری کے بعد پولیس اہلکار کے ساتھ تصویر وائرل ہونے کے بعد مقامی لوگوں کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین پولیس پر شدید تنقید کرتے ہوئے سوال کر رہے ہیں کہ خاتون کی گرفتاری کے لیے لیڈی کانسٹیبل کیوں تعینات نہیں کی گئی اور خاتون کو باجوڑ کی بجائے لوئر دیر کی جیل کیوں مںتقل کیا گیا۔

اس سوال کے جواب کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے باجوڑ پولیس حکام سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ باجوڑ میں تعینات تمام پولیس فورس مقامی ہے جبکہ مقامی لوگ اپنے سخت گیر رسم و رواج کے باعث اپنی خواتین کو پولیس میں نوکری کرنے نہیں دیتے۔

پولیس کے مطابق فاٹا انظمام کے بعد خواتین کے لیے مخصوص قید خانہ تعمیر نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے خاتون کو قریبی ضلعے کے جیل میں منتقل کیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان