نیا موقف: ’مصنوعی ذہانت فخری زادہ کی قاتل‘

ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے سائنس دان فخری زادہ کی ہلاکت کے بارے میں نیا موقف شائع کیا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کے اہم سائنس دان محسن فخری زادہ کی ہلاکت کے 10 دن بعد اس آپریشن کے بارے میں متعدد متضاد موقف شائع کیے گئے ہیں (اے ایف پی)

ایران کے جوہری پرورگرام کے ایک اہم سائنس دان محسن فخری زادہ کی ہلاکت کے دس دن بعد بھی اس قاتلانہ حملے کو انجام دینے کے بارے میں وزارت انٹیلی جنس کی سرکاری رپورٹ ابھی تک جاری نہیں کی گئی، تاہم تازہ ترین غیرسرکاری موقف میں اب ’مصنوعی ذہانت‘ کا ذکر بھی آ رہا ہے۔

ایران کے ایٹمی فوجی منصوبوں سے منسلک اہم سائنس دان کی ہلاکت 27 دسمبر بروز جمعہ داموانڈ کے علاقے آبسار میں ہوئی تھی۔ تازہ ترین بیانیے میں پاسداران انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی تسنیم نیوز ایجنسی نے اس حوالے سے تفصیلات جاری کی ہیں کہ ’فخری زادہ کو کس طرح ہلاک کیا گیا۔‘

پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب کمانڈر انچیف علی فدوی نے دعویٰ کیا کہ ’11 انقلابی گارڈ مقتول کے ساتھ تھے اور وہاں کوئی دہشت گرد موجود نہیں تھا۔‘

واضح رہے کہ پچھلی کسی بھی رپورٹ میں دوسرے باڈی گارڈز کا ذکر نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی میڈیا نے ان سے بات کی تھی۔

فدوی کا مزید دعویٰ ہے کہ ’توپ خانے کو سیٹلائٹ اور آن لائن طریقے سے قابو کیا گیا تھا اور 13 گولیاں فائر کی گئی تھیں، جن میں سے فخری زادہ کو چار پانچ لگی تھیں۔‘ ان کا دعویٰ ہے کہ شوٹر نے فخری زادہ کے چہرے کی شناخت کے لیے ’مصنوعی ذہانت‘ کا استعمال کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کچھ ماہرین نے فخری زادہ کے قتل میں ’مصنوعی ذہانت‘ کے استعمال پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات ( جن کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے) میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کارروائی میں ملوث مجرموں میں سے ایک نے فخری زادہ کو براہ راست کار سے نکالا اور شاٹ گن سے انہیں گولی مار دی۔

فدوی نے ’ریڑھ کی ہڈی کو پہنچنے والے نقصان اور خون بہنے‘ کو فخری زادہ کی موت کی وجہ قرار دیا۔

انقلابی گارڈز کے ترجمان رمضان شریف نے بھی آپریشن میں ’جدید ترین الیکٹرانک آلات کے استعمال اور سیٹلائٹ نیوی گیشن‘ کا حوالہ دیا تھا۔

ڈپٹی کمانڈر کے بیانات اور تسنیم نیوز ایجنسی میں شائع ہونے والی تفصیل پر غور کرتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ 10 دن بعد سامنے آنے والی اس داستان پر ایران میں پاسداران انقلاب اور اقتدار کے مراکز متفق ہو چکے ہیں۔

البتہ ابھی تک وزارت انٹیلی جنس کی باضابطہ رپورٹ شائع نہیں ہوئی ہے اور اس سلسلے میں بہت سارے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا