احاطہ عدالت میں لڑائی کا مقدمہ: حسان نیازی کی ضمانت میں توسیع

مجھے اس کیس سے ہٹانے کے لیے دباؤ ڈلوایا اور پیسے دینے کی بھی کوشش کی جب میں نہیں مانا تو انہوں نے مجھ پر ایف آئی آر کٹوا دی۔

ایڈیشنل سیشن جج ملک محمد مشتاق نے وزیر اعظم کے بھانجے ایڈووکیٹ حسان نیازی کی عبوری ضمانت میں چاراگست تک کی توسیع کر دی (اے ایف پی/ فائل)

احاطہ عدالت میں مبینہ طور پر لڑائی کرنے اور سابق گورنر بلوچستان نواب اکبر بگٹی کی اہلیہ شہزادی نرگس کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں ایڈیشنل سیشن جج ملک محمد مشتاق نے وزیر اعظم کے بھانجے ایڈووکیٹ حسان نیازی کی عبوری ضمانت میں چاراگست تک کی توسیع کر دی ہے۔

پیر کے روز پہلے یہ درخواست ضمانت حسان نیازی کی عدم موجودگی و عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کر دی گئی تھی لیکن حسان نیازی عدالت پہنچے اور دوبارہ درخواست دائر کی۔ درخواست ضمانت سماعت کے لیے منظور ہوئی اور ان کی ضمانت میں توسیع کر دی گئی۔

وزیراعظم کے بھانجے ایڈووکیٹ حسان نیازی کے خلاف گذشتہ چند روز سے یہ کیس چل رہا ہے۔ اس کیس کی ایف آئی آر سابق گورنر بلوچستان نواب اکبر بگٹی کی بیوہ شہزادی نرگس نے تھانہ اسلام پورہ میں درج کروائی تھی۔ اس ایف آئی آر میں ایڈووکیٹ حسان نیازی سمیت پانچ افراد پر اقدام قتل، خواتین کے کپڑے پھارنے اور دھمکانے کی دفعات سمیت چھ دیگر دفعات لگائی گئی تھیں۔

ایف آئی آر میں شہزادی نرگس کے بیان کے مطابق ’وہ اپنے خلاف ایف آئی اے میں درج ایک مقدمہ نمبر 104/21 میں عبوری ضمانت کروانے سیشن کورٹ پہنچیں، یہ مقدمہ ان پر وشا ابوبکر نامی خاتون نے درج کروایا تھا۔

مدعیہ کے وکیل ایاز بٹ ایڈووکیٹ بھی ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے بتایاکہ ’جب اس کیس کی سماعت شروع ہوئی تو وہاں موجود حسان نیازی نے مدعیہ کے مرحوم شوہر شوہراور میرے خلاف غلیظ زبان استعال کی۔‘

مدعیہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں احاطہ عدالت میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ان کے ہمراہ آنے والے وکیل ایاز بٹ جو اپنے یونیفارم میں تھے، انہیں بھی بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں ان کی ٹائی سے پکڑ کر کھینچا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں جس پر عدالت میں موجود دیگر وکلا نے انہیں چھڑوایا۔

ایف آئی آر کے مطابق ’حسان نیازی اس سے پہلے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملہ کرنے اور گاڑیاں جلانے جیسے مقدمات میں ملوث ہیں اور پولیس ملازمین، سائلین اور ساتھی وکلا پر تشدد ان کا معمول بن چکا ہے ان کے خلاف کارروائی کی جائے کیونکہ انہوں نے ہمارے وکیل ایاز بٹ کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیں ہیں۔ اس واقعے کی فوٹیج پولیس کے پاس ثبوت کے طور پر موجود ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے مدعیہ کے وکیل ایاز بٹ سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ ان کی اور حسان نیازی کی آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ اور معافی تلافی ہو چکی ہے۔

ایاز بٹ کا کہنا تھا: ’ہمارے کچھ بڑے بیٹھے تھے اور حسان نے مجھ سے معافی مانگی اور میں نے اسے معاف کر دیا ہے۔ میں نے ان کے لائسنس کو کینسل کرنے کی جو درخواست دی تھی وہ میں نے واپس لے لی اور اس کے بعد ایف آئی آر میں جہاں تک میرا ذکر تھا میں نے اپنی ذات کی حد  تک  کیس واپس لے لیا اور اس کی پیروی چھوڑ دی ہے اور میں اب ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہا البتہ نرگس شہزادی نے کیس واپس نہیں لیا ہے۔‘

دوسری جانب اس کیس میں شہزادی نرگس کے وکیل حسام کیانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’پیر کے روز عدالت میں جب کیس متعدد بار کال کیا گیا تو حسان نیازی پیش نہ ہوئے جس کے بعد ان کی ضمانت کی درخواست خارج ہو گئی لیکن پھر حسان نیازی ایک گھنٹے بعد عدالت پہنچے اور ایک نئی درخواست جمع کروائی جو سماعت کے لیے منظور ہوئی اور اس پر ان کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کیس میں معافی تلافی کی بات نہیں ہے ایک خاتون کی عزت اور تقدس کی بات ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ حسان خود ایک وکیل ہیں وہ بھی کالا کوٹ پہن کر آتے ہیں اور ہمارے لیے باعث عزت ہیں۔ ہم کبھی بھی کسی مقدمے کو ذاتیات تک نہیں لے کر جاتے لیکن اس کیس میں چونکہ حسان نیازی میرے مخالف ہیں انہوں نے ایک سینئیر وکیل کے ساتھ بدتمیزی کی، ان پر الزامات لگائے اس کے ثبوت سی سی ٹی وی فوٹیج کی شکل میں موجود ہیں۔ وہ فوٹیج بھی ہم نے انڈر آرٹیکل 19 اور انفارمیشن ایکٹ کے تحت طلب کی ہے۔ ہم اس فوٹیج کو منظر عام پر لائیں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’جس طریقے سے حسان ہمارے وکیل کے ساتھ گتھم گتھا ہوئے، ان کو مارا اور ان کو ٹائی سے کھینچا جس کے بعد حسان کا لائسنس معطل ہوا اور پھر بعد میں معافی تلافی ہوئی۔ یہ چیز حسان کی طرف سے شروع ہوئی، ایسا ہونا نہیں چاہیے تھا لیکن اب یہ وقت ہے کہ ہم اپنے پیشے میں جو کالی بھیڑیں ہیں ان کو بے نقاب کریں۔‘

حسام کیانی کا کہنا تھا کہ ’جس طرح حسان نیازی کا کردار ڈاکٹروں کے معاملے پر سامنے آیا۔ ہمارا پیشہ بہت عزت والا پیشہ ہے یہ سب ہمیں زیب نہیں دیتا، ہم جرح کو ترجیح دیتے ہیں نہ کہ ہاتھ اور مکے چلانے کو، ہم کسی کو عزت دیتے ہیں تو وہ بھی چوک میں دیتے ہیں اور اگر کسی کو غلط کہتے ہیں تو وہ بھی چوک میں کہتے ہیں، ایڈووکیٹ حسام کہتے ہیں کہ ہم اس کیس کی پیروی ضرور کریں گے۔‘

جہاں تک شہزادی نرگس کے الزام کی بات ہے کہ حسان نے ان پر بھی تشدد کیا اس حوالے سے ان کے وکیل حسام کا کہنا تھا کہ ’میں نے ابھی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی نہیں ہے لیکن میں مدعیہ نے ایف آئی آر میں جو بیان دیا اس کے ساتھ ہوں۔ میں نے فوٹیج کا مطالبہ کیا ہوا ہے جیسے ہی وہ ملے گی میں میڈیا کے سامنے لاؤں گا۔ ہمارے کیس میں اس واقعے کی فوٹیج مرکزی ثبوت ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حسان نیازی نے کیس ختم کروانے کے لیے مدعیہ سے کوئی رابطہ کیا تو اس کے جواب میں حسام کیانی کا کہنا تھا کہ ان کے علم میں اب تک ایسی کوئی بات نہیں آئی ہے۔

اس سارے معاملے پر وزیر اعظم عمران خان کے بھانجے ایڈووکیٹ حسان نیازی کیا کہتے ہیں؟

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے حسان نیازی نے بتایا کہ: ’شہزادی نرگس کے بیٹے شاہزوار بگٹی کی اہلیہ وشا کی نازیبا تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی ایک ایف آئی آر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) میں کٹی ہوئی ہے جس میں، میں وشا کا وکیل ہوں۔ شہزادی نرگس اور ان کے لوگوں نے وشا کے پیچھے ٹارگٹ کلر چھوڑ دیے تھے جس سے انہوں نے بڑی مشکل سے اپنی اور اپنی بیٹی کی جان بچائی۔ ان لوگوں نے وشا کی انتہائی خوفناک نازیبا تصاویر وائرل کیں، انہیں معلوم ہے کہ یہ سب وشا کے کیس میں جیل جائیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حسان نے مزید کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مجھے اس کیس سے ہٹانے کے لیے دباؤ بھی ڈلوایا اور پیسے بھی دینے کی کوشش کی۔ جب میں نہیں مانا تو انہوں نے مجھ پر ایف آئی آر کٹوا دی۔ ہم پنجاب بار کونسل میں اس کیس کے خلاف احتجاج کرنے جا رہے تھے لیکن پھر اس کیس میں ایڈووکیٹ ایاز بٹ نے اپنا کیس واپس لے لیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جھوٹ کی بنیاد پر کیس آگے نہیں چلے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس وقوعے کی ویڈیو موجود ہے جو وہ ابھی میڈیا کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتے کیونکہ کیس کورٹ میں ہے  لیکن حسان نیازی کے مطابق جو بھی وہ ویڈیو دیکھے گا اسے معلوم ہو جائے گا کہ ایف آئی آر میں جو کچھ لکھا گیا وہ سب جھوٹ ہے۔

حسان نیازی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں نے ان پر نہ ہاتھ اٹھایا، گلہ دبایا اور نہ دوپٹہ کھینچا۔ اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے عدالت میں نارمل بحث ہو رہی ہے  جس کے دوران میری اور ایاز بٹ کی صرف تھوڑی سی تلخ کلامی ہوئی اور بس۔ میں نے یا کسی نے بھی خواتین کے ساتھ کوئی نازیبا حرکت نہیں کی۔ کسی ایک شخص نے ان پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ اس کیس میں مدعی نے اب تک کئی وکیل بدلے ہیں، ان کا کیس ٹھپ ہے، ایف آئی آر اور ویڈیو دونوں ایک دوسرے کے برعکس ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان