طالبان کی جانب سے ٹک ٹاکر خاشہ کے قتل کا اعتراف

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حوالے سے کہا ہے کہ فنکار کے قتل میں ملوث دو جنگجوؤں کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

افغان فنکار کے قتل کی خبر بین الاقوامی میڈیا میں چھائی رہی (تصویر: آر ٹی اے)

افغانستان میں طالبان نے رواں ہفتے ملک کے جنوب میں ایک مزاحیہ فنکار کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دو جنگجؤوں کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ان دو افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

تاہم ترجمان نے الزام دہرایا کہ قتل کیے جانے والے نذر محمد خاشہ افغان پولیس کے رکن تھے اور طالبان کی ہلاکتوں اور تشدد میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاک کرنے کی بجائے انہیں طالبان کی عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے تھا۔

نذر محمد ٹک ٹاک پر اپنے معمولات پوسٹ کرتے تھے۔ وہ لطیفے، مضحکہ خیز گانے، خود کا مذاق اڑانے اور اکثر مداحوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے موضوعات کا مذاق اڑانے کے لیے جانے جاتے تھے۔

اس قتل نے انتقامی حملوں کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ اس نے طالبان کی اس یقین دہانی کو بھی کمزور کر دیا کہ حکومت کے لیے کام کرنے والے لوگوں، امریکی فوج یا امریکی تنظیموں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

اطلاعات کے مطابق طالبان نے سینکڑوں افراد کو ان علاقوں میں قید کر رکھا ہے جن پر ان کا قبضہ ہو چکا ہے، سکولوں کو جلا دیا گیا ہے اور خواتین پر پابندیاں عائد کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سابقہ طالبان دور حکومت میں بھی انہوں نے لڑکیوں کو سکول جانے اور خواتین کو کام کرنے سے روک دیا تھا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کو گذشتہ ہفتے دیئے گئے ایک انٹرویو میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ گروپ کے کمانڈروں کے پاس شہریوں کے معاملات میں مداخلت یا نئے قبضہ شدہ علاقوں میں پابندیاں نہ عائد کرنے کے احکامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب غلط اقدامات کی شکایات سامنے آتی ہیں تو ان کی تحقیقات کی جاتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس واقعے پر طالبان کے موقف میں بار بار تبدیلیاں آئیں۔ دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے پہلے اس قتل سے انکار کیا لیکن جب تازہ ویڈیو سامنے آئی تو کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

نذر محمد عید کے لیے قندھار آئے ہوئے تھے جب انہیں ان کے گھر سے حراست میں لے کر متعدد گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے سات جولائی کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ قندھار شہر میں ایک حملے میں خاشہ مارے گئے تھے۔

افغانستان میں سوشل میڈیا پر اس وقت خاشہ کے لیے انصاف یا #justice4Khasha ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں افغان فنکار کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر ایک صارف بصیر رناخیل لکھتے ہیں کہ چونکہ وہ افغان قوم کو ہنساتا تھا اس لیے مار دیا گیا۔


نذر محمد کی دوران طالبان حراست ایک ویڈیوز سامنے آئیں تھی جس میں ایک بندوق بردار ان پر چیختا ہوا سنا جا سکتا ہے، جن کے بارے میں وہ کہہ رہا ہے کہ وہ ایک عسکریت پسند ہیں اور جنھیں گرفتار کیا گیا ہے۔ نذر محمد کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔

افغان گلوکار ایوب استاد نہیں رہے

افغانستان کے ماضی کے معروف گلوکار ایوب استاد، جو تقریبا ایک دہائی سے علیل تھے، گذشتہ روز جلال آباد میں انتقال کر گئے۔

افغان حکومت اور ان کے مداحوں نے ان کی موت کو ایک بہت بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ افغان وزارت اطلاعات و ثقافت نے انہیں ایک منفرد گلوکار قرار دیا ہے۔

استاد ایوب نے 13 برس کی عمر میں گلوکاری کا رخ کیا اور سینکڑوں گانے ایک خاص انداز میں گائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ