19 سالہ تیراک بسمہ خالد اولمپکس میں گولڈ میڈل کے لیے پرجوش

بسمہ کے والد خالد خان کے مطابق: ’وہ اولمپک مقابلوں کا دعوت نامہ ملنے پر بہت پرجوش تھیں اور انہوں نے اپنی پریکٹس بھی بڑھا دی تھی، بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ انہوں نے سارا سارا دن پریکٹس کی ہے۔‘

بسمہ اس سے قبل بھی کئی ملکی اور غیر ملکی مقابلوں میں حصہ لے چکی ہیں (تصویر: خالد خان)

پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی رہائشی بسمہ خالد ٹوکیو اولمپکس میں تیراکی مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتنے کے لیے پرعزم ہیں۔

بسمہ کے والد خالد خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ بسمہ بہت اچھی تیراک ہیں اور ان کے بڑے بھائی اور بہن بھی اولمپکس مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں۔

خالد خان جو خود بھی تیراک رہے ہیں اور اب بحیثیت کوچ فرائض انجام دے رہے ہیں، نے مزید بتایا کہ بسمہ روزانہ چار سے چھ گھنٹے تک تیراکی کی مشق کرتی ہیں اور انہیں بچپن سے ہی تیراکی کا شوق تھا۔

19 سالہ بسمہ نے اس سے قبل بھی ملکی و غیر ملکی تیراکی مقابلوں میں حصہ لیا ہے اور وہ سونے اور چاندی کے تمغے جیت چکی ہیں۔

خالد خان نے بتایا کہ ’ٹوکیو میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں میں دنیا بھر سے بہترین کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں، لہذا مقابلوں سے پہلے یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ وہ یہاں سے کون سا میڈل جیت پائیں گی۔‘

’لیکن بسمہ کا عزم ہے کہ وہ تیراکی کے مقابلوں میں گولڈ میڈل جیت کر دنیا میں اپنا اور وطن کا نام روشن کر سکیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بسمہ کی اولمپکس مقابلوں میں سلیکشن کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کے والد خالد خان نے بتایا کہ ’وہ نیشنل اور انٹرنیشل تیراکی مقابلوں میں بہترین کارکردگی دکھا چکی ہیں اس لیے انہیں عالمی سطح پر جانا جاتا ہے، دوسرا اولمپکس کے لیے چونکہ تیراکی میں کوئی کوالیفائنگ مقابلہ نہیں ہوتا، اس لیے اولمپکس انتظامیہ گریڈوائز دعوت نامے بھجواتی ہے، لہذا بسمہ کا نام بھی ان کے ٹریک ریکارڈ کے مطابق منتخب ہوگیا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’وہ تیراکی کے اولمپکس مقابلوں کا دعوت نامہ ملتے ہی بہت پرجوش تھیں، انہوں نے اپنی پریکٹس بھی بڑھا دی تھی، بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ انہوں نے سارا سارا دن پریکٹس کی ہے۔‘

واضح رہے کہ پاکستان سے اولمپکس مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے مختلف کھیلوں کے دس کھلاڑی جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو گئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل