کشمیر اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رکن مظہر سعید شاہ کون ہیں؟

علما مشائخ کی مخصوص نشست پر رکن منتخب ہونے والے مظہر سعید شاہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ماضی میں مبینہ طور پر طالبان، جیش محمد اور دوسری جہادی تنظیموں سے منسلک رہے ہیں تاہم انہوں نے ایسی تمام خبروں کی تردید کی ہے۔

مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مظہر سعید شاہ ہیں جنہیں پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں علما و مشائخ کی مخصوص نشست کے لیے امیدوار نامزد کیا (کشمیر  امیج)

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں علما و مشائخ کے لیے مخصوص نشست پر ایک ایسے شخص کی نامزدگی سے تنازع پیدا ہو گیا ہے جن کا ماضی مبینہ طور پر طالبان، جیش محمد اور دوسری جہادی تنظیموں سے منسلک ہے۔ مولانا مظہر سعید 27 ووٹ لیکر ممبر علما و مشائخ قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر منتخب ہو چکے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی ان کی نامزدگی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

تاہم مظہر سعید شاہ کی جانب سے ایسی تمام خبروں کی تردید کی گئی ہے۔

مظہر سعید شاہ کون ہیں؟

مظہر سعید شاہ 2006 سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سیاست میں عملاً سرگرم ہیں تاہم ان کے پس منظر کے حوالے سے تنازعات پہلی مرتبہ اس وقت پیدا ہوئے جب پاکستان کی حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے انہیں علما و مشائخ کی مخصوص نشست کے لیے امیدوار نامزد کیا۔

مظہر سعید شاہ کا تعلق پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے وادی نیلم کے گاؤں لوات سے ہے اور ان کے نانا پیرزادہ غلام مصطفیٰ شاہ تقسیم سے قبل متحدہ کشمیر اسمبلی کے رکن تھے۔

1948 میں کشمیر کی تقسیم کے خلاف تحریک چلانے کے الزام میں ان کے نانا کو راولپنڈی سے گرفتار کر کے بھارت کے حوالے کر دیا گیا تھا جو بعد ازاں جموں سے سری نگر منتقلی کے دوران بانہال کی پہاڑیوں پر طیارے کے حادثے کا شکار ہو گئے تھے۔

46 سالہ مظہر سعید شاہ کراچی میں مقیم ہیں اور درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کراچی کی جامعہ بنوریہ سے فارغ التحصیل ہونے کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

سیاست میں آنے سے قبل مظہر سعید شاہ مولانا عبداللہ شاہ مظہر کے نام سے جانے جاتے تھے اور وہ مبینہ طور پر جیش محمد کے کافی سرگرم رکن اور مولانا مسعود اظہر کے کافی قریب سمجھے جاتے تھے۔

عبداللہ شاہ مظہر طالب علمی کے دور میں مبینہ طور پر افغانستان میں بھی سرگرم رہے اور طالبان حکومت کے ابتدائی ایام میں صوبائی سطح کے عہدیدار بھی رہے تاہم ان کی افغانستان میں موجودگی یا عہدیدار ہونے کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں۔

صحافی نعمت خان نے اس حوالے سے ایک حالیہ رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’اس تصویر میں شاہ کافی نوجوان دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کی اصل عمر سے ہی یہ تعین ہو سکے گا کہ کیا وہ واقعی 25 برس قبل افغانستان کے کسی صوبے کے گورنر تھے۔‘

کراچی سے صحافی ضیا الرحمان نے 2013 میں شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ: ’جیش محمد جس نے طالبان کی مدد کے لیے اپنے جہادی بھیجنے کا عہد کر رکھا تھا، اکتوبر 2011 میں تقسیم کا شکار ہوئی اور جیش محمد سندھ کے سربراہ مولانا عبداللہ شاہ مظہر(مظہر سعید شاہ) نے تحریک الفرقان کے نام سے اپنا علیحدہ دھڑا  قائم کیا تھا۔

جیش محمد میں شامل ہونے سے قبل عبداللہ شاہ مظہر حرکت الجہاد الاسلامی کراچی کے سربراہ تھے۔

تحریک الفرقان سے اختلافات کے بعد مظہرسعید شاہ نے تحریک غلبہ اسلام کے نام سے اپنی الگ جماعت قائم کر لی۔ مارچ 2019 میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے دوران مظہر سعید شاہ کو کراچی میں حراست میں لیا گیا تاہم کچھ عرصہ بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔

اس کارروائی کے دوران مظہر سعید شاہ کی سربراہی میں چلنے والے مدرسے جامعہ انوار العلوم، مسجد قبا اور دوسرے کئی مدارس کو سندھ حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ ان میں سے بیشتر مدارس مظہر سعید شاہ کی تحریک غلبہ اسلام کے زیر انتظام چل رہے تھے۔

نومبر 2012 میں سیالکوٹ میں ایک قاتلانہ حملے میں مولانا مظہر سعید شاہ اپنے تین ساتھیوں سمیت شدید زخمی ہوئے تاہم کئی سالوں بعد بھی اس حملے سے متعلق حقائق سامنے نہیں آ سکے۔

بتایا جاتا ہے کہ مظہر شاہ جہادی تنظمیوں کے ساتھ قربت کے باوجود عملاً کسی ایسی سرگرمی میں شامل نہیں ہوئے جسے براہ راست دہشت گردی سے جوڑا جا سکے بلکہ وہ زیادہ تر ان تنظیموں اور اداروں کے انتظامی و مالیاتی امور کے ذمہ دار رہے ہیں۔

2006 میں مظہر سعید شاہ نے متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر نیلم ویلی سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انتخابات میں حصہ لیا اور ساڑھے تین ہزار ووٹ حاصل کیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2011 میں مظہر سعید شاہ ایک مرتبہ پھر انتخابی سیاست میں اترے تاہم ان کی جماعت کے مسلم کانفرنس کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے دستبردار ہو گئے۔ تاہم اس کے بعد وہ مقامی سطح پر عملی سیاست سے کنارہ کش ہو گئے۔

راوں سال مظہر سعید شاہ ایک مرتبہ پھر اس وقت منظر عام پر آئے جب پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے وادی نیلم کا دورہ کیا۔ اس دورے میں مولانا کی میزبانی بیشتر وقت مظہر سعید شاہ کے پاس رہی اور دونوں نے اکٹھے کئی عوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔

کچھ ہی عرصے بعد مظہر سعید شاہ اپنی جماعت چھوڑ کر مسلم کانفرنس میں شامل ہوئے مگر ٹکٹ نہ ملنے پر دوبارہ سے اپنی جماعت کے ایک ناراض دھڑے سے جا ملے۔

اس دھڑے کے ساتھ مولانا فضل الرحمٰن کے اظہار لاتعلقی کے بعد مظہر سعید شاہ نے تحریک انصاف کے ساتھ روابط پیدا کر لیے اور 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت کے بدلے علما و مشائخ کی مخصوص نشست کا ٹکٹ حاصل کر لیا۔

مظہر سعید شاہ کا موقف کیا ہے؟

آل جموں کشمیر جمعیت علمائے اسلام کے جنرل سیکریٹری اور مظہر سعید شاہ کے ترجمان عبدالمالک صدیقی ایڈووکیٹ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’مظہر سعید کا کبھی کسی عسکریت پسند تنظیم سے تعلق نہیں رہا۔ ان (مظہر سعید شاہ) کے حوالے سے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور وہ 2006 سے عملی سیاست کا حصہ ہیں۔‘

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’مظہر سعید شاہ کے مولانا مسعود اظہر کے ساتھ صرف سماجی روابط ہیں جس طرح دوسری شخصیات کے ساتھ ہوتے ہیں۔‘

عبدالمالک صدیقی نے مظہر سعید کے جیش محمد سے روابط کی بھی تردید کی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے مظہر سعید کی نامزدگی پر تنقید کے ردعمل میں عبدالمالک صدیقی نے کہا کہ بلاول ابھی سیاسی طور پر نابالغ ہیں، ان کے پاس اپنے الزامات کے کوئی ثبوت نہیں اور یہ کہ انہوں نے بلا تحقیق بات کی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ عبداللہ شاہ مظہر، مظہر سعید کا قلمی نام ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست