کرکٹ بھی کھیلنے نہیں دیتے

ہندوتوا رہنما نہ تو کشمیری نوجوانوں کو اپنے گھر کے اندر کرکٹ کھیلنے دیتے ہیں نہ دوسروں کو کشمیریوں کی تفریح کے لیے کرکٹ کھیلنے کی اجازت دیتے ہیں۔

مہوش حیات کشمیر پریمیئر لیگ کے آفیشل گیت کی ویڈیو میں شامل ہیں (کے پی ایل ویڈیو)

یہ تحریر مصنفہ کی آواز میں یہاں سنا بھی جاسکتا ہے

 

 


بھارت کے ہندوتوا حکمرانوں کو کشمیریوں کی یہ ادا بھی پسند نہیں آئی کہ وہ کم از کم آپس میں کرکٹ کی بازی کھیلتے، چھکے لگا کر دل کی بھڑاس نکالتے، سنچری بنا کر اپنی کارکردگی دکھاتے اور بندوق کے بجائے بلا ہاتھ میں لے کر دنیائے کھیل میں اپنا نام گنواتے۔

ہندوتوا رہنما نہ تو کشمیری نوجوانوں کو اپنے گھر کے اندر کرکٹ کھیلنے دیتے ہیں نہ دوسروں کو کشمیریوں کی تفریح کے لیے کرکٹ کھیلنے کی اجازت دیتے ہیں۔ دنیا ان کی چوہدراہٹ اور ہٹ دھرمی پر پھر بھی خاموش ہے۔

بھارت کے اس الزام کو پاکستان نے کئی بار رد کر دیا ہے کہ وہ کشمیری نوجوانوں کو مسلح تحریک آزادی چلانے پر مائل کرتا آ رہا ہے لیکن اب جب پاکستان نے کشمیری نوجوانوں کے ہاتھوں میں کھلے عام بلا تھما دیا ہے تو اس پر بھی اتنا شور اور ہنگامہ برپا کیا گیا ہے کہ خود بعض بھارتی کھلاڑی اپنے حکمرانوں کی سوچ پر بیرون ممالک شرمندگی محسوس کرنے لگے ہیں۔

لندن میں بھارت کے ایک سابق کرکٹ کھلاڑی نے بعض عالمی کھلاڑیوں کے کشمیر پریمیئر لیگ میں حصہ نہ لینے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارتی حکمرانوں نے ملک کی شبیہ کو اب ہندوتوا تک محدود کر کے گذشتہ ستر برسوں سے بنائی گئی امیج اور ادارے تار تار کر دیئے ہیں۔ ہمارے غیر ملکی کھلاڑی بھی ہمارا مذاق ہی نہیں بلکہ یہ تک کہنے لگے ہیں کہ یہ کون سا بھارت ہے جس کے بارے میں یہ تاثر قائم ہوا تھا کہ وہ کرکٹ، ادب، فلم یا فنون لطیفہ کے فروغ کے لیے سرحدیں نہیں دیکھتا۔ کرکٹ ڈپلومیسی بھی تو اسی ملک نے شروع کر کے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی سعی کی تھی، پھر اچانک ہندوتوا نے کیوں اس ملک کی بیخ کنی شروع کر دی ہے۔‘

جنوبی افریقہ کے سابق کھلاڑی اور کوچ ہرشل گبس اور برطانیہ کے مونٹی پنیسر کو اس وقت کشمیر پریمیئر لیگ کو خیر باد کہنا پڑا جب بھارتی کرکٹ بورڈ نے انہیں کشمیر میں کرکٹ کھیلنے کی صورت میں بھارتی کرکٹ سے بے دخل کرنے کی دھمکی دی اگر مستقبل میں وہ بھارتی کرکٹ کھیلنے یا بھارت کا دورہ کرنا چاہیں گے۔

بعض رپورٹوں کے مطابق عالمی کرکٹ تنظیم آئی سی سی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ مقامی ٹورنامنٹ پر کوئی اثر نہیں رکھتی جس کو بھارتی کرکٹ بورڈ نے کشمیر پریمیئر لیگ کو بند کرنے کی درخواست کی تھی۔

وادی کشمیر کے اکثر نوجوانوں نے مظفر آباد میں کشمیر پریمیئر لیگ میں خاصی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ اس ٹورنامنٹ سے دو مقاصد حاصل ہوسکتے ہیں۔ ایک کشمیری نوجوانوں کو عالمی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع دے کر ان کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے، دوسرا اس ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ سے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کشمیر کے کرکٹ شائقین محمد عابد رسول کہتے ہیں کہ پاکستان کو ہر سال ایسا ٹورنامنٹ بیرون ممالک بھی کرنا چاہیے بلکہ ادب اور آرٹ سے متعلق سیمینار کی تشہیر سے بھی ہمارا سیاسی مسئلہ اجاگر ہوسکتا ہے۔ ’یہ کشمیری جدوجہد کو پرامن طریقے پر جاری رکھنے کا بہترین موقع ہے جس کا سہرا عمران خان کو جاتا ہے جو ہر طرح سے اس مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔‘

چند برس پہلے جموں و کشمیر کی مقامی حکومت نے نوجوانوں کے لیے کھیلوں میں شریک ہونے کی ایک بڑی مہم شروع کی تھی جس کی ذمہ داری پی ڈی پی کے نوجوان رہنما وحید پرہ کو دی گئی تھی، بیشتر نوجوان کھیلوں کی جانب راغب بھی ہوگئے تھے۔

وحید پرہ کافی عرصے سے مسلح افراد کے ساتھ پیسے کے لین دین کے مبینہ ایک معاملے میں زیر حراست ہیں حالانکہ انہیں بھارت کی وزارت داخلہ کے کافی قریب سمجھا جاتا رہا ہے اور ان کی کارکردگی کی تعریف وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی کی تھی۔

بیشتر کشمیری نوجوانوں میں حصول آزادی کی طرح کرکٹ کا خاصا جنون ہے جو ہر گلی کوچے کو کرکٹ گراؤنڈ میں تبدیل کرنے کے ماہر ہیں لیکن گذشتہ دو سال سے جہاں انہیں گھروں میں قید کرنے کے علاوہ جیلوں میں بند رکھا جاتا ہے وہیں معاشرے میں منشیات، جسم فروشی اور دوسری برائیوں میں ملوث کر کے ان کی نسل کو ختم کرنے کی ایک منظم مہم جاری ہے۔ اس پر آئے دن عوامی حلقے سوشل میڈیا پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے آ رہے ہیں۔

مظفر آباد میں کشمیر پریمیئر لیگ سے کچھ تسلی تو مل جاتی اور شاہد آفریدی سمیت بیشتر کھلاڑیوں کو دیکھنے کا موقع ملتا لیکن ہندوتوا والوں نے نہ صرف کشمیری قوم کی سانسیں بند کر رکھی ہیں بلکہ بھارت کی اپوزیشن جماعتوں سمیت انسانی حقوق کے اکثر کارکنوں کی زندگی بھی حرام کر دی ہے۔ اس کی مثال شاید مارشل لا میں بھی نہیں ملتی۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ