کرونا کا پہلا شکار ووہان لیب کا ملازم ہو سکتا ہے: ڈبلیو ایچ او سربراہ

تاہم وبائی امراض اور فوڈ سیفٹی کے ماہر ڈاکٹر ایمبارک نے اب کہا ہے کہ ایسا ممکن ہے کہ ووہان میں ایک لیب ورکر چمگادڑ سے متاثر ہوا ہو۔

ویتنام کےدارالحکومت ہنوئی میں ایک شہری کا کرونا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی )

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ کووڈ 19 سے متاثر ہونے والا پہلا شخص چین کے شہر ووہان کی لیبارٹری کا ملازم ہوسکتا ہے، جس کا کسی چمگادڑ سے سامنا ہوا ہوگا۔

ڈاکٹر پیٹر ایمبارک نے کرونا وائرس کے آغاز کے بارے میں ڈبلیو ایچ او کی چار ہفتوں پر مشتمل تحقیق کی قیادت کی۔ انہوں نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ شہر کی ایک لیب سے وائرس کے پھیلاؤ کے نظریے کے حقیقی ہونے کا ’بہت کم امکان ہے۔‘

تاہم وبائی امراض اور فوڈ سیفٹی کے ماہر ڈاکٹر ایمبارک نے اب کہا ہے کہ ایسا ممکن ہے کہ ووہان میں ایک لیب ورکر چمگادڑ سے متاثر ہوا ہو۔

انہوں نے ڈنمارک کے نیوز چینل ’ٹی وی 2‘ کو بتایا: ’ممکنہ مفروضے کے تحت (ووہان لیب) کا ایک ملازم فیلڈ میں نمونے لیتے ہوئے اس وائرس کا پہلا شکار بنا ہوگا۔‘

انہوں نے کہا: ’یہ وہ جگہ ہے جہاں وائرس چمگادڑ سے براہ راست انسان میں داخل ہوتا ہے۔ اس صورت میں پھر یہ کسی بھی دیہاتی یا دوسرے شخص کی بجائے لیبارٹری ورکر ہوگا جس کا چمگادڑوں سے باقاعدہ سامنا رہتا ہو گا تو ممکنہ طور پر ایسا ہوا ہوگا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کی ٹیم کو ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی میں کی جانے والی تحقیق اور کووڈ 19 کے پھیلاؤ کا آپس میں کسی بھی تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کو کوئی براہ راست ثبوت نہیں ملا کہ کرونا وائرس پھیلنے کا تعلق ووہان کی لیبارٹریوں میں چمگادڑ پر کی جانے والی تحقیق سے ہے۔

دسمبر 2019 میں ووہان میں کرونا کے پہلے کیسز سامنے آنے کے بعد ماہرین کے درمیان اس کے ماخذ پر کافی گرما گرم بحث جاری رہی تاہم زیادہ تر ماہرین کو نہیں لگتا کہ وائرس کا لیب سے لیک ہونا ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔

رواں سال مئی میں امریکی صدر جو بائیڈن نے معاونین کو وائرس کے ماخذ سے متعلق سوالات کے جوابات تلاش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں مختلف نظریات پر غور کر رہی ہیں جن میں لیبارٹری حادثے کا امکان بھی شامل ہے۔ چین نے ہمیشہ لیب لیک تھیوری کو مسترد کیا ہے۔

ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی میں بائیو سیفٹی لیب کے ڈائریکٹر یوآن ژیمنگ نے پہلے کہا تھا کہ انہوں نے نئے کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے پہلے اسے محفوظ (سٹور) یا اس کا مطالعہ بھی نہیں کیا تھا۔

انہوں نے کہا: ’میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی نے کبھی ناول کرونا وائرس کی تشکیل، ڈیزائن یا لیک نہیں کیا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت