روزی روٹی کمانے کے دھندے بڑے اوکھے ہوتے ہیں

تماشا ختم ہوا۔ جیب میں بہت ڈھونڈا، 30 روپے تھے یا ایک بڑا نوٹ۔ بہت شرمندگی ہوئی۔ ویڈیو تک بنا لی مگر صرف 30 روپے!

ہم لوگ نیوز ڈیسک پہ بیٹھتے ہیں، چوبیس گھنٹے کانوں میں دنیا بھر کے راگ گونجتے ہیں۔ صحافت میں ویسے تو ہفتہ وار چھٹی اتوار کو ہونا کوئی ضروری نہیں مگر کل میں چھٹی پہ تھا۔

ادھر طالبان کابل پہ قبضہ کر رہے تھے، ادھر میں چھوٹی بہن کو لے کر لوک ورثہ اسلام آباد پہنچا ہوا تھا۔

ٹوئٹر کو مستقل ریفریش کرتے ہوئے، ہر نئی خبر پہ نظر رکھتے ہوئے، اس کے ساتھ گھوم رہا تھا کہ اچانک میرے کانوں میں بانسری کی آواز آئی، بہت پروفیشنل طریقہ تھا۔ نظر دوڑائی لیکن کوئی دکھائی نہیں دیا۔

وہ دھن مجھے جیسے تیسے کابل سے واپس اسلام آباد لے آئی۔ اب گھومتے گھامتے ایک جگہ بندر نچانے والا دکھائی دیا۔

میں رکا، اس بندر کے ہیئر سٹائل میں بڑا سویگ تھا، ایسے جل لگا کے سپائکس بنائے ہوئے، میں رک گیا۔ بندر کی دو تین تصویریں بنائیں تو مالک نے اسے نچانا شروع کر دیا۔ 

’سسرال گیا ہے، روٹی نہیں دی کسی نے، صاحب آپ روٹی پکاتا ہے۔ او تیری نانی مر جائے، ٹھیک سے روٹی پکا۔ چل اب ٹک ٹاک والے بچوں کی طرح چھلانگیں لگا کے دکھا۔

’موٹر سائیکل پنکچر ہو گیا ہے، ون ویلنگ کر کے دکھا، صاحبوں کو جیسے آج کل لڑکے سڑک پہ کرتے ہیں۔ سلیوٹ مار صاحب کو، او تیری، ٹھیک سے مار سلیوٹ۔‘

تماشا ختم ہوا۔ جیب میں بہت ڈھونڈا، 30 روپے تھے یا ایک بڑا نوٹ۔ بہت شرمندگی ہوئی۔ ویڈیو تک بنا لی مگر صرف تیس روپے! خود کو دو چار صاف ستھری دل میں سنائیں اور اس سے رخصت لی۔

پہاڑی بکروں کے سینگ اور موہنجودڑو کا ایک ماڈل خرید کر، پورا لوک ورثہ پھر کے جو میں واپس آتا ہوں تو پھر وہی بانسری کی آواز۔

بانسری نہ ہوئی ورڈز ورتھ مرحوم کا ٹو دی کُکو ہو گیا۔ سوچا تھوڑے پاؤں اور گھسیٹوں، کہیں نہ کہیں مل جائے بندہ، ایک بار پتہ تو لگے ہے کون۔

یہ کیا، وہی بندہ بانسری بجا رہا ہے جو پہلے بندر کو نچاتا تھا۔ اللہ اکبر، وہاں کونے میں بیٹھا بندر مزے سے اپنے جوڑ توڑ کر رہا ہے۔ ادھر یہ صاحب بانسری بجا رہے ہیں۔ کیسا گُنی آدمی ہے!

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اجازت لی کہ بھیا پھر سے بنا لوں ویڈیو، اس نے سر ہلایا اور کام شروع۔

غربت بڑی ظالم چیز ہے۔ دو وقت کی روٹی اسلام آباد کے اس گمنام فنکار سے بانسری بجواتی ہے، بندر نچواتی ہے اور شام ڈھلے کُل ملا کے کتنے پیسے بنتے ہوں گے جو اگلی صبح پھر وہ یہیں موجود ہے؟

کیا اب تک لوک ورثہ آنے والوں میں ایک بندہ بھی ایسا نہیں تھا جو اس کے لیے کم از کم سٹریٹ تھیٹر نما کوئی شغل شروع کروا سکے؟ شاید نہیں۔

سب مجھ جیسے ہوتے ہیں ’تیس روپے ہیں یار جیب میں، بڑی معذرت، ہاں بنا رہا ہوں ویڈیو، زندہ باد، کیا فن ہے بھائی آپ کا، (اوئے ہوئے طالبان صدارتی محل پہنچ گئے) جی تھوڑا کلوز اپ لوں گا، بندر قابو رکھیے گا، واہ واہ۔ کیا کہنے۔ جی بیٹی بس دو منٹ اور شوٹ کر لوں، بس چلتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا