کابل شاہراہ پر بکھری بھارتی چینی اور لوک کہانیاں

حالیہ چند دنوں میں دو مرتبہ اس شاہراہ پر سفر کرنے کا موقع ملا اور دونوں بار جتنی کہانیاں جمع کیں، لگتا ہے دو چار اب بھی رہ گئی ہوں گی۔

پتھریلی چٹانوں اور گہری کھائیوں کے درمیان بل کھاتی کابل – جلال آباد شاہراہ پر سفر کسی مہم جوئی سے کم نہیں۔ اسے حادثات کے اعتبار سے دنیا کی انتہائی خطرناک سڑکوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔

اس سڑک پر میں نے بھارت میں بنی چینی سے بھرا ایک ٹرالر الٹا ہوا پایا۔ چینی کی سینکڑوں بوریاں پہاڑ کی ڈھلوان پر بکھری پڑی تھیں، شاید یہ کراچی کے راستے افغانستان لائی جا رہی تھیں۔

 حالیہ چند دنوں میں دو مرتبہ اس شاہراہ پر سفر کرنے کا موقع ملا اور دونوں بار جتنی کہانیاں جمع کیں، لگتا ہے دو چار اب بھی رہ گئی ہوں گی۔

کابل سے نکلتے وقت امریکی سی 170 طیارے فضا میں مسلسل پروازیں کرتے دکھائی دیئے۔ شہر سے کوئی 20 کلومیٹر دور مشرق میں ماہیپر نامی مقام آتا ہے۔ اس کی ایک وجہ شہرت یہاں کے سڑک کنارے آباد ریستورانوں میں ملنے والی سروبی ڈیم اور پاکستان سے لائی گئی مچھلی ہے تو دوسری وجہ نوئے کی دہائی میں یہاں طالبان کی کابل پر یلغار کے موقع پر ہونے والا ایک معاہدہ تھا۔ اکثر سیاسی معاہدوں کی طرح یہ بھی کچھ زیادہ نہیں چل سکا تھا۔ 

سروبی کے پہاڑی سلسلے میں ایک مقناطیسی مقام بھی آتا ہے۔ مقامی ڈرائیور کہتے ہیں آپ جتنی تیز گاڑی چلانے کی کوشش کریں وہ نہیں بھاگے گی۔ ان کا اصرار ہے کہ اس مقام پر کوئی مقناطیسی طاقت ہے جو اسے اوپر جانے نہیں دیتی۔ اس مقام پر دھوئیں، ٹائروں کی رگڑ اور بریکوں کے استعمال کی وجہ سے بدبو بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس شاہراہ پر تفریح کے بھی کئی مقامات ہیں۔ سروبی ڈیم کے ساتھ بنے وڑہ کئی ماما یا چھوٹے ماما کے نام سے دلچسپ ریستوانوں میں ڈیم سے کم اور پاکستان سے لائی گئی فرائیڈ مچھلی زیادہ ملتی ہے۔

اس شاہراہ کے ساتھ رومانوی کہانیاں بھی جڑی ہیں۔ پہاڑ پر رہنے والی اپنی محبوبہ شیرنئے کے لیے مومن خان نے دریا کا پانی کیسے اس کے مکان تک پہنچایا کسی کو نہیں معلوم لیکن یہ کہانی اتنی مقبول ہوئی کہ پاکستان میں پشتو میں اس پر فلم بھی بنائی گئی۔ محبوب کا مقصد یہ تھا کہ اس کی محبوبہ کو کوئی اور نہ دیکھے اور اسے پانی لینے نیچے دریا تک نہ آنا پڑے۔ اب یہاں کا پانی تیز دھار میں خود اوپر جاتا ہے۔

مقامی افراد اس پانی سے مسافروں کی گاڑیاں دھو کر روزگار کماتے ہیں۔

سبز چائے کا تھرماس بغل میں رکھے ایک گاڑی دھونے والے سے بات کی تو اس کا کہنا تھا کہ ’ان حالات میں کیا کاروبار ہوگا۔ صبح سے دو گاڑیاں واش کی ہیں۔ کلدار (پاکستانی کرنسی روپیہ) بند ہے۔ ایک گاڑی سے پچاس سے سو افغانی واش کی مزدوری لیتا ہوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا