پاکستان کی مہنگی ترین رجسٹرڈ مرسیڈیز کس نے خریدی، خصوصیات کیا ہیں؟

نو آٹومیٹک گیئرز والی اس گاڑی کی فیول ایوریج تباہ کن حد تک کم ہے۔ 13 سے 16 میل فی گیلن یعنی بہت زیادہ ہوئی تو چھ کلومیٹر فی لٹر جو ویسے بھی ایک وی ایٹ انجن کی نارمل ایوریج ہوتی ہے۔

1979  میں اس گاڑی کا سویلین ماڈل متعارف کروایا گیا جو مختلف مراحل اور اندرونی تبدیلیوں سے گزرتا اب موجودہ شکل یعنی مرسیڈیز اے ایم جی G-63 کے نام سے دستیاب ہے۔(تصاویر: مرسیڈیز اے ایم جی ویب سائٹ)

پنجاب ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی ویب سائٹ کے مطابق دو ستمبر 2021  کو پنجاب میں ایک مرسیڈیز جیپ رجسٹر ہوئی جس کی قیمت 13 کروڑ، 19 لاکھ 89 ہزار روپے درج کروائی گئی ہے۔ 

مرسیڈیز اے ایم جی G-63 نامی اس گاڑی پہ پنجاب ایکسائز کی ویب سائٹ کے مطابق 53 لاکھ، 81 ہزار، 790 روپے کا رجسٹریشن ٹیکس ادا کیا۔ 

4000  سی سی V8 ڈوئل ٹربو انجن والی یہ گاڑی اگر 2021 ماڈل بھی ہو تو مرسیڈیز کمپنی کے مطابق اس کی ابتدائی قیمت ایک لاکھ 56 ہزار ڈالرز سے شروع ہوتی ہے یعنی یہ گاڑی پاکستانی روپوں کے حساب سے دو کروڑ 60 لاکھ 85 ہزار روپے کی بنے گی۔ 

اگر مرسیڈیز کی ویب سائٹ پر موجود ساری قیمتی چیزیں جو آپشنل ہوتی ہیں، وہ بھی گاڑی میں لگوا لیں تو ایک لاکھ 80 ہزار ڈالر سے پھر بھی گاڑی کی قیمت نہیں بڑھ پاتی یعنی کُل ملا کے پاکستانی دو کروڑ 67 لاکھ اور 54 ہزار روپے۔  

تو پھر 13 کروڑ روپے میں کیا خریدا گیا؟ 

مرسیڈیز بینز کی جی سیریز وہ گاڑی ہے جو ایران کے سابق بادشاہ رضا شاہ پہلوی نے خصوصی طور پہ اپنے فوجی مقاصد کے لیے پہلی مرتبہ تیار کروائی تھی، رضا پہلوی جرمنی کی مختلف کمپنیوں کے شئیر ہولڈر بھی تھے۔ 

1979  میں اس گاڑی کا سویلین ماڈل متعارف کروایا گیا جو مختلف مراحل اور اندرونی تبدیلیوں سے گزرتا ہوا اب موجودہ شکل یعنی مرسیڈیز اے ایم جی G-63 کے نام سے دستیاب ہے۔

پاک وہیلز کے کو فاؤنڈر سنیل سرفراز منج کے مطابق یہ گاڑی دبئی کے پرائم منسٹر شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کے بھی زیر استعمال ہے اور اس کا نمبر ’دبئی ۔ 1‘ ہے۔

مضبوطی اور پائیداری اس گاڑی کی پہلی خصوصیت گنوائی جاتی ہے۔ گنٹر ہولٹورف (Gunther Holtorf) ایک جرمن سیاح ہیں جو اس گاڑی میں نو لاکھ کلومیٹر کا سفر طے کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس گاڑی میں واحد مسئلہ جس کا انہیں سامنا ہوا وہ فرنٹ ایکسل کے بیرنگ گھس جانے کا تھا۔ یہ بیرنگ 215 ممالک کے اس طویل سفر کے دوران انہیں سات آٹھ مرتبہ بدلوانے پڑے ورنہ اس گاڑی سے انہیں کوئی شکایت کبھی نہیں ہوئی۔  

ویب سائٹ فرسٹ پوسٹ  کے مطابق 19 ہزار کلومیٹر کا سفر سائبیریا کے منفی 63 ڈگری موسم میں بغیر کسی خرابی کے اسی گاڑی پر کیا گیا۔  

1990 میں اس گاڑی کا آرام دہ سویلین ماڈل متعارف کروایا گیا لیکن اس کی اہم خریدار تب بھی مختلف ممالک کی افواج تھیں۔ روس، امریکہ، برطانیہ، فرانس، بیلجئیم، سنگاپور، کوسووو سمیت خود جرمنی اور عراق کی فوج بھی اس گاڑی کی مستقل خریدار ہے۔ 

2005 میں جی سیریز کی پانچ سو گاڑیاں بنا کر امریکہ بھیجی گئیں اور سکڑتی ہوئی مارکیٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا کہ اب امریکہ میں جی ویگن نہیں بھیجی جائے گی۔ اسی دوران امریکی فوج نے 157 پھرتیلی جنگی گاڑیوں (انٹیرم فاسٹ اٹیک وہیکلز) کی تیاری کا حکم مرسیڈیز کو دے دیا، مرسیڈیز کے آگے پھر ایک نیا راستہ تھا۔  

اس وقت اگر مرسیڈیز کی ویب سائٹ پہ جائیں تو گاڑی کے بیرونی رنگ، اندرونی ڈیزائن، سیٹوں کے میٹریل، ٹائروں کے رم، اضافی مضبوطی کے سامان سمیت مختلف آلات کے حساب سے ہر چیز آپ خود پسند کرتے ہیں اور ایک مکمل گاڑی عین آپ کی مرضی کے حساب سے تیار ہوتی ہے جس میں کوئی پچیس چھبیس تو صرف رنگوں کی آپشنز ہیں۔  

نو آٹومیٹک گیئرز والی اس گاڑی کی فیول ایوریج تباہ کن حد تک کم ہے۔ 13 سے 16 میل فی گیلن یعنی بہت زیادہ ہوئی تو چھ کلومیٹر فی لٹر جو ویسے بھی ایک وی ایٹ انجن کی نارمل ایوریج ہوتی ہے۔

گاڑی 13 کروڑ میں کیوں پڑی؟

پاک وہیلز کے کو فاؤنڈر سنیل سرفراز منج کے مطابق اس گاڑی پہ 363 فیصد صرف ڈیوٹی عائد ہوئی تھی اور یہ گاڑی ’شاہنواز‘ نے زیرو میٹر امپورٹ کی تھی نیز اس گاڑی کی دنیا بھر میں ڈیلیوری کے لیے کم از کم وقت ڈیڑھ سال یعنی اٹھارہ مہینے کا ہوتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کی استعمال شدہ گاڑی دس سے گیارہ کروڑ کی پاکستان میں ملے گی جب کہ اس پہ بھی کسٹم ڈیوٹی کم از کم ساڑھے تین کروڑ روپے (مکمل ڈیپریسئیشن کے ساتھ) ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زلمی آف روڈ اینڈ ریسنگ کلب (زور) سے وابستہ یاسر خان صاحب سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اصل قیمت سے بہت زیادہ ٹیکس اور ڈیوٹیاں اس طرح کی گاڑیاں امپورٹ کرنے کی صورت میں پاکستانی خریدار کو بھرنی پڑتی ہیں اور یوں دو تین کروڑ کی گاڑی بارہ تیرہ کروڑ تک پہنچ جاتی ہے۔

پاک وہیلز پر گاڑیوں سے متعلق خبروں پہ کام کرنے والے صحافی ظل سبحان کے مطابق ان تیرہ کروڑ روپوں میں گاڑی پاکستان پہنچنے کے کرائے، انشورنس، کسٹم کلئیرنس اور دیگر ڈیوٹیاں شامل ہیں۔ انہوں نے اس سے قبل پنجاب میں رجسٹر ہونے والی لمبرگینی کی مثال دی جس کی اصل قیمت دس کروڑ سے کم تھی لیکن پنجاب، پاکستان میں رجسٹر ہوتے تک دگنی قیمت انہیں پڑ چکی تھی۔

گاڑی کا خریدار کون تھا؟

موصول شدہ تفصیلات کے مطابق ڈائمنڈ وائٹ رنگ کی یہ گاڑی جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کے نام پر رجسٹر ہوئی جو معروف سیاستدان جہانگیر ترین کی ملکیت سمجھا جاتا ہے جب کہ اسے فرسٹ حبیب مضاربہ کے نام پر لیا گیا۔

تیس جولائی 2021 کو یہ گاڑی ’شاہنواز پرائیویٹ لمیٹڈ‘ نامی ادارے کے ذریعے امپورٹ کی گئی جو ایک طویل عرصے سے پاکستانی مارکیٹ میں قیمتی گاڑیوں کی امپورٹ کے لیے اچھی ساکھ کا حامل ادارہ سمجھا جاتا ہے۔

گاڑی کی رجسٹریشن فیس تو 52 لاکھ 79 ہزار 560 روپے تھی لیکن سب سےحیرت انگیز ٹیکس ’پروفیشنل ٹیکس‘ کے نام سے تھا جس کی مالیت صرف 200 روپے تھی۔ رجسٹریشن مراحل کے باقی سات آٹھ مراحل ملا کر یہ گاڑی کُل 53 لاکھ، 81 ہزار، 790 روپے میں رجسٹر ہوئی۔

باقی دنیا کے لیے تیرہ کروڑ میں اسی گاڑی کا لیموزین بُلٹ پروف ماڈل دستیاب 

ویب سائٹ بزنس انسائیڈر کے مطابق کینیڈا کی ایک کمپنی ’انکاس‘ چھ لاکھ سے بارہ لاکھ ڈالر کے درمیان مرسیڈیز اے ایم جی G-63 کا بُلٹ پروف ماڈل مہیا کرتی ہے جس میں بی سیون درجے تک ہتھیاروں سے حفاظت مہیا کی جاتی ہے۔ بی سیون کسی سویلین گاڑی کے لیے حفاظت کا آخری درجہ ہے جس کے تحت مختلف قسم کی رائفلوں اور پستول سمیت گرنیڈ تک کے حملے سے گاڑی کو ممکنہ حد تک محفوظ بنایا جاتا ہے۔  

مختلف ممالک کی فوج کے لیے تو بکتر بند سمیت مختلف قسم کی اسلحہ پروف گاڑیاں تیار کی جاتی ہیں لیکن سویلین مقاصد کے لیے ایسی سپیشل گاڑیاں بنانے والے ادارے بہت کم ہیں، انکاس انہیں میں سے ایک کمپنی ہے۔ 

پاکستان میں رجسٹر ہونے والی مرسیڈیز اے ایم جی G-63 جتنی قیمت اگر امریکہ یا کینیڈا میں بھری جائے تو اسی گاڑی کا لیموزین بلٹ پروف ورژن دستیاب ہو سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی