’بیرونی امداد کے بغیر افغانستان میں ایک وقت کی روٹی نہیں ملے گی‘

خان افضل افغانستان کے معاشی ماہرین میں سے ایک ہیں جنھوں نے سال 2001 سے افغانستان کے بینکنگ سیکٹر میں کام شروع کیا تھا۔

افغان طالبان کی افغانستان پر حکومت کے بعد وہاں کی معاشی صورت حال مبصرین کے مطابق خرابی کی طرف جا رہی ہے۔ امریکہ نے افغانستان کے نو ارب ڈالر سے زائد فارن ریزرو جو امریکی بینکوں میں تھے، منجمد کیے ہوئے ہیں تو دوسری طرف سرمایہ کار مستقبل کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں۔

افغانستان کے اندر بینکنگ سیکٹر تقریباً بند پڑا ہے اور بینکنگ سیکٹر کا مستقبل بھی تجزیہ کاروں کے مطابق شدید بحران کا شکار ہے۔ لوگوں کے پاس رقم ختم ہونا شروع ہوگئی ہے اور افغانستان کے اندر مہنگائی نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔

افغانستان میں بینکوں کی صورتحال پر گذشتہ روز افغانستان کے سنٹرل بینک کی جانب سے میڈیا کو جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ تمام بینک اکاؤنٹ ہولڈر مطمئن رہیں کیونکہ کمرشل بینکوں میں ان کی امانتیں محفوظ ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ مرکز اور صوبوں میں کمرشل بینکوں نے اپنا کام شروع کیاہے اور بہت جلد بینکوں کا نظام نارمل ہوجائے گا۔ ’بہت جلد کمرشل بینک سنٹرل بینک کے بنائے گئے نظام پر کام شروع کرے گا۔‘

 افغانستان کی موجودہ معاشی صورت حال، اور ماضی میں معاشی صورت حال میں بہتری کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے افغانستان کے سنٹرل بینک ’دہ افغانستان بینک‘(دی بینک آف افغانستان) کے سابق قائم مقام گورنر خان افضل سے بات کی ہے۔

خان افضل افغانستان کے معاشی ماہرین میں سے ایک ہیں جنھوں نے سال 2001 سے افغانستان میں بینکنگ سیکٹر میں کام شروع کیا تھا اور 2017 تک کام کرتے رہے۔ وہ افغانستان کے سنٹرل بینک کے قائم مقام گورنر سمیت ڈپٹی گورنر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

انڈپینڈنٹ اردو: افغان طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد اب افغانستان کی معاشی صورت حال کیا ہے اور وہاں پر اب کیا ہورہا ہے؟

خان افضل: جس طرح سیاسی بحران ہے تو اسی طرح معاشی طور پر بھی لوگوں میں عدم اطمینان کی فضا قائم ہے۔ لوگوں کو ڈر ہے کہ جس طرح ماضی میں جنگ کی وجہ سے افغانستان کی کرنسی کی قدر میں کمی آئی تھی، شدید مہنگائی آئی تھی، اور بینکوں کے میں رکھے گئے لوگوں کی پیسے ان کو وقت پر نہیں مل رہے تھے، بعد میں جب اصلاحات کی گئیں تو لوگوں نے بہت خسارے کا سامنا کیا تھا۔

افغانستان بیرون ملک میں رکھے گئے پیسوں پر اور بیرونی امداد پر چلنے والا ملک ہے۔ اسی طرح افغانستان ایک ایسا ملک ہے جو 90 فیصد امداد پر منحصر ہے اور پڑوسی ممالک سمیت پوری دنیا کے ساتھ تجارت کرتا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ فارن ایکسچینج ریزرو کی منجمد ہونے اور بیرونی امداد رکنے کی وجہ سے ظاہری بات ہے افغانستان میں مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی آئے گی۔ خدشہ ہے کہ بینکوں میں پیسے ختم ہو جائیں گے اور ملک میں فزیکل کیش کی کمی کا سامنا ہو گا کیونکہ متعلقہ بینکوں کا پوری دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو مستقبل کے حوالے سے بہت سے خدشات ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو: ورلڈ بینک کے مطابق افغانستان کی جی ڈی پی کا تقریبا 40 فیصد انحصار بیرونی امداد پر ہے۔ 90 کی دہائی میں جب طالبان کی حکومت تھی تو اس وقت افغانستان کا بیرونی امداد پر اتنا انحصار نہیں تھا۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ طالبان انتظامیہ بیرونی امداد کے بغیر معیشت چلا پائے گی؟

خان افضل: اس وقت جب طالبان کی حکومت تھی تو افغانستان کی معیشت ’سوشل اکانومی‘ پر مبنی تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت معاشی حالت کو حکومت کنٹرول کر رہی تھی۔ حکومت سرمایہ کار بھی تھی، سپر وائزر بھی اور حکومت ہی معاشی خدمات دے رہی تھی۔

تاہم طالبان کے جانے کے بعد 2001 میں افغانستان کا معاشی نظام تبدیل ہوگیا اور یہ سوشل اکانومی سے ’مارکیٹ اکانومی‘ کی طرف چلا گیا جس میں افغانستان نے بیرون ملک کے بینکوں اور نجی سیکٹر کو افغانستان میں سرمایہ کاری کی اجازت دے دی۔ اور یہی وجہ تھی کہ حکومت خود بھی ایک فریق بن گئی کہ وہ نجی سیکٹر کے ساتھ مقابلہ کر سکے۔

سوشل اکانومی کا نظام مارکیٹ اکانومی سے بالکل مختلف ہے۔

اگر اعداد و شمار کی بات کریں تو اس وقت افغانستان کی جی ڈی پی آٹھ ارب ڈالر بھی نہیں تھی لیکن اب ملک کی جی ڈی پی 20 ارب ڈالر ہے۔ اس وقت فارن ایکسچینج ریزرو 30 کروڑ ڈالر سے زیادہ نہیں تھی لیکن اب وہ نو ارب ڈالر کے قریب ہیں۔ اس وقت بینکنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری ایک رب ڈالر سے بھی زیادہ نہیں تھی لیکن اب وہ چار ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

اسی طرح اس وقت افغانستان کے آبادی کے تین فیصد حصے کو بینک تک رسائی تھی لیکن اب آبادی کے 12 فیصد تک لوگوں کے بینکوں میں اکاونٹس ہیں۔ موجودہ وقت میں افغانستان کے بینکوں میں لوگوں کے 40 لاکھ تک اکاونٹس موجود ہیں تو یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے اور اس کا طالبان کے ماضی کے دور حکومت کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

اور یہی وجہ ہے کہ طالبان کو اب مختلف فرنٹس پر چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک تو حکومت بنانے کا چیلنج، اور پھر اس حکومت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرنے کا چیلنج موجود ہے۔ لوگوں کو پیسے چاہییں اور وہ حکومت سے پیسے مانگ رہے ہیں۔ بینکنگ سیکٹر کو مستحکم کرنا ہو گا ۔ ایک جانب بیرونی امداد کو روک دیا گیا ہے تو دوسری جانب افغانستان کے فارن ایکسچینج ریزرو کو منجمد کر دیا گیا ہے۔

ایک اور مسئلہ برآمدات کا ہے ۔ افغانستان 90 فیصد امداد پر انحصار کرتا ہے لیکن اگر ملک میں پیسے نہیں ہیں اور فارن ایکسچینج ریزرو منجمد ہیں تو ہم دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کو کیسے باور کرائیں گے کہ وہ سامان افغانستان برآمد کریں کیونکہ ہمارے پاس ان کو پیسے دینے کا کوئی نظام نہیں ہوگا۔

اب ان ساری مشکلات میں کچھ چیزیں تو ایسی ہیں جن کو طالبان حکومت کنٹرول کر سکتی ہے لیکن بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو طالبان کے کنٹرول میں نہیں۔ اور ان کے حوالے سے میں طالبان کو مورد الزام نہیں ٹھہرا رہا کیونکہ طالبان کے آنے کے بعد معیشت نارمل تھی اور بیرونی امداد بھی آرہی تھی لیکن اچانک فارن ریزرو کو منجمد کر دیا گیا اور بیرونی امداد کو روک دیا گیا۔

انڈپینڈنٹ اردو: جب امریکہ اور اتحادی افواج افغانستان میں داخل ہوئے تو 2001 سے 2014 تک افغانستان کی معیشت بہتری کی طرف گئی تھی لیکن اس کے بعد خراب ہونا شروع ہوگئی اور جی ڈی پی کی نمو میں تقریبا 10 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ جو عام تاثر ہے کہ امریکہ کی وجہ سے افغانستان کی معیشت میں بہتری آئی تھی، کیا یہ درست ہے؟

خان افضل: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ 2001 میں معیشت بالکل زیرو تھی اور آپ زیرو سے اوپر ایک یا دو نمبر اوپر جائیں گے تو یہ بہتری ہی ہے۔۔ ظاہری بات ہے معیشت میں بہتری آرہی تھی۔ اس وقت لوگ افغانستان آرہے تھے اور سرمایہ کاری بھی کر رہے تھے جس کی وجہ سے معیشت میں بہتری شروع ہوئی۔ معیشت میں بہتری 2014 تک اس وقت بہتر تھی جب تک امریکہ اور اتحادی افواج نے افغانستان سے نکلنے کا اعلان نہیں کیا تھا۔

بیرونی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد لوگوں کے ذہنوں میں خدشات پیدا ہوگئے کہ اب افغانستان کے حالات خراب ہونا شروع ہوجائیں گے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری میں کمی آنا شروع ہوگئی اور اسی وجہ سے معیشت کا نمو منفی کی جانب جانا شروع ہوگیا۔ اسی طرح لوگوں کو سکیورٹی حالات کا بھی خدشہ تھا کیونکہ لوگ سوچتے تھے کہ اگر امریکہ اور اتحادی افواج نکل رہی ہیں تو سکیورٹی حالات خراب ہوجائیں گے ۔

تاہم پھر بھی 2001 کے مقابلے میں اب حالات بہتر اس لیے ہیں کہ 2001 میں جی ڈی پی آٹھ ارب بھی نہیں تھی لیکن 2014 میں 20 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی تو کم از کم اب ہم 2021 میں معیشت کا موازنہ 2014کے 20 بلین ڈالر سے کر رہے اور 2001 کے معاشی حالات سے نہیں کر رہے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو: کیا افغانستان کی معیشت بیرونی امداد کے بغیر چل سکتی ہے ؟

خان افضل: فرض کریں کہ افغانستان کو بیرون امداد نہیں مل رہی اور افغانستان خود اپنی معیشت چلا رہا ہے تو کیا افغانستان کی معیشت کا پہیہ چل سکتا ہے، تو میں تو یہی کہوں گا کہ بالکل بھی نہیں چل سکتا۔ ایک مثال یہ دیتا ہوں کہ موجودہ صورت حال میں بینکنگ سیکٹر کو چار ارب ڈالر کی ضرورت ہے کہ اپنے صارفین کو پیسے دے لیکن بینکوں کے پاس پیسے موجود نہیں ہے۔

اسی وجہ سے صارفین کو یہ فکر لاحق ہے کہ کیا حکومت چل پائے گی یا نہیں اور بینک میں پیسے رکھنے والے لوگوں کو یہی پریشانی ہے کہ ان کو ان کے پیسے ملیں گے یا نہیں۔اس طرح اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو لوگ بینکوں میں پیسے نہیں رکھیں گے بلکہ اپنے پاس کیش میں رکھیں گے۔

اسی طرح ہم اگر افغانستان کے بینکوں میں لوگوں کی اکاونٹس کی بات کریں کہ مثال کے طور پر یہی 30 یا 40 لاکھ لوگ اپنے پیسے مانگیں گے تو بینک کہاں سے وہ پیسے صارفین کو ادا کریں گے۔ اسی طرح افغانستان کا قومی بجٹ بیرونی مدد پر چل رہا تھا۔ ہمارا پانچ ارب ڈالر بجٹ بیرونی مدد پر چل رہا ، تو یہ پانچ ارب ڈالر کہاں سے آئیں گے؟

لوگ کہتے ہیں کہ بیرونی امداد سے افغانستان کی معیشت چلانا مشکل ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ مشکل نہیں بلکہ نا ممکن ہے۔ ایک عام ضرب المثل ہے کہ لوگوں کو ایک دو وقت کی روٹی نہیں ملے گی لیکن میں کہتا ہوں کہ لوگوں کو ہفتے میں بھی ایک وقت کی روٹی نہیں ملے گی۔ ہمیں یہ حققیت تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہم بیرونی امداد سے آگے نہیں جا سکتے ۔ یا تو بیرونی امداد ملے گا تو معیشت چلے گی اور اگر نہیں ملے گی، تو افغانستان کی معیشت بالکل منہدم ہو جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک اور اہم مسئلہ تجارت کا ہے کہ اگر ہم پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت کرنا چاہیں گے تو ہم یہ تجارت کیسے کریں گے۔ ہم ان کو کس طریقے سے پیسے ادا کریں گے۔ اگر ہم فرض کریں کہ ہم کیش میں یہ تجارت کریں تو ان مصنوعات کی قیمتیں کس طرح مقرر کی جائیں گی؟

دوسری اہم بات کہ جو فنانشل سیکٹر ہے اس کا کیا ہوگا۔ اس شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔ لوگ سکیورٹی کے مخدوش صورت حال میں تو زندہ رہ سکتے لیکن بھوک کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے۔

انڈپینڈنٹ اردو: کیا طالبان انفارمل اکانومی سے افغانستان کی معیشت چلا سکتے ہیں؟

خان افضل: یہ ممکن نہیں ہے۔ ہم تجارت کر کے کس طرح دیگر ممالک کو پیسے ادا کریں گے۔ اگر ہم نے بہت زیادہ کیش جنریٹ کیا تو ہم مختلف سیکٹرز کو پیسے کیسے ادا کریں گے جس کی لیے پیسے ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر افغانستان دنیا سے الگ تھلگ ہو گیا تو مختلف سیکٹرز میں ہم برامدات کے لیے پیسے کیسے ادا کریں گے۔

اسی طرح انفارمل کانومی کی وجہ سے پوری دنیا میں افغانستان کو بلیک لسٹ کر دیا جائے گا اور یہ صرف بیرونی امداد، پیسوں کی بات نہیں ہے بلکہ لاکھوں افغانوں کی زندگی کا سوال ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت