عجائب گھر کے ڈھانچے کا بِگ بینگ

لاہور کے عجائب گھر میں ایک ڈھانچے سے ’ملاقات‘ کا قہقہہ بار احوال۔

(Guilhem Vellut)

کچھ دن پہلے کی بات ہے، مَیں اپنے ایک اپر مڈل کلاس مارکسی دوست سے طبقاتی تقسیم پر لیکچر لے کر نیرعلی دادا کی نیرنگ گیلری سے نکل رہا تھا۔ اُسی لمحے عقب سے کسی نے’اکبر‘ کہہ کر پکارا۔

مُڑ کر دیکھا تو ایک پہچانی صورت نظر آئی۔ یہ شخص بوسیدہ اور میلے کپڑوں میں ملبوس ربر کے ٹوٹے چپل پہنے کھڑا تھا۔ غور سے دیکھا تو وہی میرے بچپن کا دوست صادق تھا۔ میں بھاگ کر انتہائی جوش کے ساتھ گلے ملا۔

صادق نہ صرف میرے گاؤں کا تھا بلکہ ہمسایہ بھی تھا اور آج پندرہ سال بعد ملا۔ میرا مارکسی دوست یہ منظر دیکھ کر کچھ پریشان سا ہوا کہ کس طرح کے میلے کچیلے بندے سے جپھیاں ڈال رہا ہے۔

اُس نے صادق سے تین انگلیاں ملا کر سلام لیا۔ میں نے ارادہ ظاہر کیا کہ تھوڑی دیر واپس گیلری میں بیٹھتے ہیں، صادق کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، گپ شپ کرتے ہیں اور کھانا کھلا کر رخصت کرتے ہیں، مگر میرے مارکسی دوست نے ایک میٹنگ میں شریک ہونا تھا جس میں اُس کی مزدور اور طبقاتی تقسیم پرگفتگو تھی، اِس لیے وہ اپنا عذر بیان کر کے چلا گیا۔

مجھے ایسی میٹنگوں یا اور تقریبوں سے کچھ دلچسپی نہیں تھی اور وقت بھی میرے پاس کافی تھا اِس لیے میں صادق کو لے کر واپس گیلری میں آ گیا۔

گیلری کے اندر واقع ریستوراں کے سُرمئی اور رومان انگیز ماحول کو دیکھ کر صادق بہت خوش ہوا، کہنے لگا: ’یار اکبر، تُو واقعی بڑا آدمی بن گیا ہے۔ بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ گھومتا ہے اور ایسی جگہوں میں بیٹھ کر کھانے کھاتا ہے جہاں حوروں جیسی لڑکیاں بیٹھ کر سگریٹ کے کش لگاتی ہیں۔‘

میں نے کہا ’چھوڑ یار اِن سب باتوں کو، سب گھپلا ہے۔ تُو یہ بتا آج کل کہاں ہے اور کیا کرتا ہے اور اِس جگہ کیا کرتا پھرتا ہے؟‘

اُس نے کہا ’میں اِدھر دروغہ والا میں کسی کے مکان پر مزدوری کر رہا ہوں۔ اللہ کا کرم ہے، ایک ہزار کی دہاڑی لگ جاتی ہے۔ میں تو بھائی اتوار بھی نہیں چھوڑتا۔ مہینے کا 30 ہزار بن جاتا ہے۔ پانچ، چھ ہزار میرا اپنا خرچ ہو جاتا ہے باقی گھر بھیج دیتا ہوں۔ یہاں پنجاب کارڈیالوجی میں ای سی جی کرانے آیا تھا اور تُو مل گیا۔ تیرا تو سُنا ہے تیری لگا ہوا ہے۔ سارے مُلک میں مشہور ہے۔ لوگوں کو جھوٹی مُوٹی کہانیاں سُنا کر پیسے کماتا ہے؟‘

 اِنھی باتوں کے دوران میں نے کھانا منگوایا، صادق نے بڑی رغبت سے کھانا شروع کیا۔ اِس دوران گیلری کاعملہ اور دیگر لوگ مسلسل ہمیں ناگواری سے دیکھتے رہے۔

‏مزید پڑھیے

بینڈ پروفیسر اور باراتی گدھا

شاہیا پہلوان: زمیں کھا گئی پہلواں کیسے کیسے

اُنھیں صادق کے کپڑوں اور مکمل دیہاتی حلیے سے شکایت تھی جو کم از کم اِس جگہ کے لیے مناسب نہیں تھی۔ اِس بات کا مجھے بھی احساس تھا مگر وہاں بیٹھے کچھ لوگوں سمیت گیلری کا عملہ مجھے جاتنا تھا چنانچہ کچھ کہنے سے قاصر تھے۔

ہم نے وہاں بیٹھے بچپن کی بہت یادیں دہرائیں، بیتے موسموں کو یاد کر کے اُجڑے دن آباد کیے۔ اُن میں سے ایک یاد ایسی تھی کہ اُس پر بہت ہنسے، چلیے آپ بھی سُن لیجیے۔

 گرمیوں کی چھٹیوں کے دن تھے۔ ہماری عمر اُن دنوں بالکوں والی تھی یعنی جو کچھ دسویں کے لونڈوں کی ہوتی ہے۔ ہمارے پاس پرانی سائیکل تھی۔ ایک دن صبح سویرے ہم دونوں سائیکل پر گاؤں سے اوکاڑہ شہر آئے اور اُسی وقت ہنگامی منصوبہ بنا لیا کہ ابھی ریل پر بیٹھ کر لاہور چلتے ہیں۔

تب ہم نے اپنے گاؤں میں لوک گلوکاروں سے انارکلی بازار اور شالامار کے گانے اور لطائف سُن رکھے تھے اور سوچتے تھے یہ مقام بھی بہشتِ بریں سے آگے کے ہوں گے۔

ارادہ ہمارا کچھ اِس طرح ہوا کہ ابھی صبح آٹھ بجے کی لاہور جانے والی خیبر میل پر بیٹھ کر ساڑھے دس بجے لاہورکے بڑے سٹیشن پہنچ جائیں گے۔ عصر تک انارکلی بازار، شالامار باغ اور مینار پاکستان کے میدانوں میں پھر پھرا کر شام پانچ بجے کی تیزگام پکڑ کر دوبارہ اوکاڑہ بسرام ماریں گےاور گھر والوں کو کچھ پتہ نہ چلے گا کہ کہاں کہاں سے ہو آئے ہیں۔

اب سُنیے اصل قصہ۔ ہم نے اپنی سائیکل وہیں اوکاڑہ کے ریلوے سٹیشن کے سٹینڈ پر کھڑی کی اور پورے آٹھ بجے لاہور جانے والی خیبر میل میں بیٹھ گیے۔

ریل نے ہمیں 11 کے عمل میں لاہور سٹیشن پر لا پھینکا۔ لاہور کے آثار و احوال کی ہمیں ذرا خبر نہ تھی۔ کون سی جگہ کس مقام پر ہے؟ پہلے کسے دیکھا جائے اور بعد میں کسے؟ یہ سب کچھ معما تھا۔

ایک ٹانگہ چار سواریوں سمیت سامنے کھڑا تھا، اُس کا کوچوان ’مال روڈ، مال روڈ‘ کی آوازیں دیے جاتا تھا۔ اِدھرہم نے سُن رکھا تھا انارکلی بازار کہیں اُدھر مال روڈ ہی کے آس پاس ہے، چلیے اِس تانگے پر بیٹھتے ہیں اور وہیں چلتے ہیں۔

تب لاہور میں سڑکیں سنگل ہوتی تھیں اور درخت ڈبل سے تھے۔ ٹانگہ درختوں کے سائے سائے چلتا ہوا لارنس باغ کے پاس سے آ نکلا۔ مال روڈ پر آتے ہی کوچوان بولا ’لو بھئی اُترو مال روڈ آ گیا‘ اور ہم کرایہ تھما کر وہیں کود گئے۔

تانگے والا تو یہ جا وہ جا اور ہم کھڑے دیکھتے رہ گئے کہ انار کلی کہاں ہے۔ ایک صاحب سے پوچھا تو وہ ہمیں سر سے پاؤں تک دیکھ کر بولا ’لڑکو مال روڈ دس میل لمبی ہےاور جہاں تم کھڑے ہو یہاں سے انارکلی بازار تین میل ہو گا۔ اِدھر سے جنوب کی طرف سیدھ لو اور چلتے جاؤ۔ ایک وقت آئے گا تم انارکلی کے دہانے پر کھڑے ہو گے۔‘

ہم نے ٹانگے والے کو دیہاتی گالیاں دیں اور چل پڑے۔ اب یہ کہ چلے جاتے ہیں، چلے جاتے اورانار کلی نہیں آتی۔ گرمی سے بھُرکس نکل رہا تھا اور ہم چل رہے تھے۔ راہ میں جو ملتا اُسے انارکلی کا پوچھتے اور وہ یہی جواب دیتا بس تھوڑا سا آگے ہے۔ اللہ اللہ کر کے پہنچ ہی گئے۔

اب جو دیکھا تو انارکلی ویران تھی، چھوٹی موٹی ریڑھیاں، جن پر لنڈے کی پینٹیں شرٹیں بِکنے کو پڑی تھیں۔ اِس ویران، سنسان اور دھوپ بھرے گستان منظر کو دیکھ کر سچ پوچھیں تو دل بہت بوجھل ہوا۔ اتنا عذاب اِس بےکار کوچے کو دیکھنے کے واسطے کیا تھا۔ اِس سے اچھا تو اوکاڑے کا قینچی بازار تھا۔

کوئی ایک بجے دن کا عالم ہو گیا تھا۔ گرمی کا مزاج بپھرا ہوا اور ہم مرجھائے ہوئے۔ جیبوں میں پیسے اتنے نہ تھے کہ کٹورہ شربت کا پی لیتے۔ اِدھر اُدھر بھٹکنے لگے۔ اِسی عالم میں سامنے کےعجائب گھر پر نظر پڑی، بے تابانہ وہیں گھُس گئے۔ اندر داخل ہوئے تو ٹھنڈک کا احساس ہوا۔ ہم دونوں آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔

اب یہاں ایک تماشا عجیب ہوا۔ شیشوں میں کچھ ہڈیوں کے ڈھانچے پڑے تھے۔ شیشے بہت صاف تھے اور اُن کے وجود وعدم کا کچھ پتہ نہ چلتا تھا۔ صادق کو کچھ اندھیرے، کچھ بھینگے پن کے سبب اِس کا احساس نہ ہو سکا، وہ بےدریغ آگے بڑھتا چلا گیا اور ایک دم شیشے سے ٹکرا گیا۔ ٹکراتے ہی شیشہ کرچیاں ہو کر ڈھانچے سمیت فرش پر بکھر گیا۔ سدی کا ماتھا پھٹ گیا اور خون جاری ہو گیا۔

شور سُن کر تمام طرف سے لوگ بھاگ کرہمارے گرد جمع ہو گئے۔ عجائب گھر کے عملے نے ہمیں گردنوں سے پکڑ لیا اور فٹ بال کی طرح اِدھر اُدھر دھکیلنے لگے، کبھی ایک ہماری گُدی پر دھول جماتا کبھی دوسرا۔

ہمارا یہاں نہ کوئی پرسانِ حال تھا نہ واقف کار تھا۔ اللہ جانے اُن کی یہ ہڈیوں کی لاش کتنے کی تھی اور کس قبرستان سے منگائی گئی تھی۔ شیشہ تو خیر بازار سے مل جاتا اور اُس کے لیے بھی ہمارے پاس پیسے کہاں تھے۔ پھر وہ لاش جو نہ جانے کس نابکار کی تھی، کہاں سے لاتے؟

میں نے بہتیرا کہا ’میرا دوست دونوں آنکھوں سے بھینگا ہے، بلکہ یوں سمجھیں تقریباً اندھا ہے۔ اِسے شیشہ نظر نہیں آیا تھا ورنہ جان بوجھ کر اسے ٹکر مارنے کی کیا ضرورت تھی؟‘

میں توعجائب گھر کے عملے کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن میری عذربیانی صادق کو اپنی توہین معلوم ہوئی اور وہ چیخ اُٹھا ’نہیں مجھے سب نظر آتا ہے، یہ ڈھانچا خود آگے بڑھ کر مجھ سے ٹکرایا ہے!‘

صادق کے اِس جملے پر کئی لوگوں نے قہقہہ لگایا۔ تو میں نے بھی پینترا بدلا اور کہا ’یہ ٹھیک کہتا ہے، اصل میں ڈھانچے کو میرا دوست نظر نہیں آ یا تھا!‘

مگر وہ نہ مانتے تھے، کہتے تھے تم نے جان بوجھ کر شیشہ اور ڈھانچا توڑا ہے۔ میں نے کہا ’ہمیں کیا ضرورت تھی ڈیڑھ سو میل دُور سے آکر اِس مُردے کو توڑنے کی۔ آپ اِس شیشے کو تھوڑا سا میلا رکھتے تو نہ ٹوٹتا۔‘

مگر وہ ہٹ دھرمی پر اُترے ہوئے تھے، کہنے لگے ’کسی نے تمھیں ایک سازش کے تحت بھیجا ہے۔‘

اُن کے بڑے افسر نے ہمیں زمین پر بٹھا لیا اور کہا ’بیٹا دو صورتیں ہیں، اول جس نے تمھیں بھیجا ہے اُس کا نام بتاؤ، دوم اِس نقصان کا ازالہ کرو ورنہ یہاں سے گھر کے بجائے سیدھے جیل جاؤ گے۔‘

میں نے اُس افسر کو اول سے آخر تک اپنے سفر کی تمام واردات سنائی اور بتایا کہ اِس بستی میں ہم اجنبی ہیں اور ہر لحاظ سے دیہاتی ہیں۔ پیسے تو ہم دے نہیں سکتے۔ بھیجا بھی ہمیں کسی نے نہیں، اِس لیے نام بھی نہی بتا سکتے۔

اُس نے کہا ’میں کیسے مان لوں تمھیں کسی نے نہیں بھیجا جبکہ تم نے ہزاروں سال پرانا اثاثہ ضائع کر دیا۔ اچھا یہ بتاؤ کیا تمھیں ڈائریکٹر ہیری ٹیج شفیقی صاحب نے بھیجا ہے؟ دیکھو سیدھے سیدھے اُس کا نام بتا دو ورنہ تمھیں 20 سال جیل ہو گی۔ اگر بتا دو گے تو ابھی چھوڑ دوں گا۔‘

اُس افسر کی یہ بات سُن کر ہم حیران تھے۔ ہمارے فرشتوں کو معلوم نہیں تھا کہ یہ شفیقی صاحب کون ہیں اورکیا بیچتے ہیں۔ اگر جان چھڑانے کو کہہ دیں کہ جی اُسی نے بھیجا ہے تو ایک نئی مصیبت میں پھنسیں۔ اب یہ لاہور شہر اور ہم بیگانے سراسر۔

آخر میں نے کہا ’سر بات یہ ہے کہ بھیجا تو ہمیں کسی نے نہیں۔ اگر آپ کی کسی سے دشمنی ہے تو ہمیں بتا دو، اُس کا نام لے دیں گے۔ باقی پیسے وغیرہ کی جنس ہمارے پاس نہیں ہوتی اِس لیے شیشہ بھی خرید کر نہیں دے سکتے البتہ ہمارے ساتھ کوئی آدمی بھیج دو تو اپنے گاؤں کے قبرستان سے کوئی لاش نکال کر دے سکتے ہیں مگر یہ کام بھی رات میں ہی کر پائیں گے، دن کے وقت گاؤں والے ماریں گے۔‘

اُس افسر نے ہماری تمام گزارشات رد کر دیں اور کہا ’یہاں ایک طرف بیٹھ جاؤ اور اپنے گھر کا پتہ بتاؤ۔‘

یہ مصیبت بھی عجیب تھی گھر تو ہم بتا کر نہ آئے تھے کہ کس جہنم میں جا رہے ہیں۔ فون اُس دور میں ہوتا نہیں تھا۔

میں نے پھرعرض کیا ’عالی جناب، ہمارے گھر میں سوائے غربت کے ککھ نہیں ہے۔‘ مگر اُس نے اب میری طرف سے کان بند کر لیے تھے۔ اب ہم بیٹھے ہیں اور بیٹھے ہیں۔

تھوڑی دیر بعد ایک آدمی ہمیں وہاں سے اُٹھا کر بڑے دالان میں لے آیا۔ ہمارے ہاتھ میں بوسیدہ کپڑے کی ٹاکیاں تھما دیں اور صابن مِلے پانی کے ڈول پاس رکھ دیے۔ کہنے لگا ’یہ سب فرش اِس ٹاکیوں اور صابن سے صاف کرو!‘

اب جو ہم نے صفائی شروع کی تو کچھ نہ پوچھیے۔ ہمیں توقع تھی کہ یہ صفائی کروا کر چھوڑ دیں گے۔ اِس خیال میں لگے رہے اور فرش کو رگڑ رگڑ کر شیشہ کر دیا حتیٰ کہ شام چھ کا عمل ہو گیا۔ سارا دن ظالموں نے پانی نہ دیا، روٹی کھانا تو دور کی بات ہے۔

چھ بجے اُسی افسر صاحب نے دوبارہ طلب کیا اور بولا ’دیکھو یہ کاغذ ہے، اِس پر اپنے دستخط کردو اور انگوٹھے بھی لگا دو۔ آئندہ اول تو اِس میوزیم میں گھسنا نہیں، اگر دوبارہ آؤ تو شیشے کے پاس نہیں پھٹکنا، اب دفع ہو جاؤ۔‘

 اللہ تیرا بھلا کرے۔ یہ دو جملے اُسی وقت کہہ دیتا تو کون سا زبان پر چھالے پڑ جاتے۔ ہم نے کاغذ دیکھا تو وہ صاف خالی تھا۔ خیر دونوں نے اُس پر اپنے انگوٹھے جما دیے اور دستخط کر دیے۔ تب دستخط کے معنی ہمارے نزدیک یہی تھےکہ اپنے ہاتھ سے اپنا نام لکھ دو، وہ ہم نے لکھ دیا اور جلدی سے اِس اُجاڑ خانے سے نکلے کہ کہیں ہم بھی ماضی کا حصہ نہ بن جائیں۔

باہر نکلتے ہی سٹیشن کی طرف بھاگے اور شکر خدا کا شام ساڑھے سات بجے کی گاڑی سے اپنے وطن کی طرف روانہ ہو گئے۔ رات دس بجے اوکاڑہ کے سٹیشن پر پہنچے تو وہاں ویرانی کے بھوت ہونکتے تھے۔

ہمیں بہت تشویش تھی کہ ہماری سائیکل کوئی اُٹھا لے گیا ہو گا مگراوکاڑہ کے چوروں کی روایتی کاہلی کے سبب سائیکل وہیں کھڑی تھی۔ ہم نے سائیکل اُٹھائی اور رات 11 بجے اپنے گاؤں پہنچ لیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی