’ہم کہاں کے سچے تھے‘ رولر کوسٹر کی طرح موڑ لینے والا ہے 

کہانی میں مشعل ایک انتہائی خوبصورت لڑکی ہے لیکن اس کا ہمیشہ مہرین کی قابلیت سے موازنہ کیا جاتا ہے جس سے اسے مہرین سے شدید جلن ہو جاتی ہے جو بعد میں نفرت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

ڈرامہ سیریل ہم کہاں کے سچے تھے کی عکسبندی کے دوران ماہرہ خان اور کبری  خان کی ایک جھلک  (تصویر: ہم ٹی وی انسٹاگرام)

عمیرہ احمد کا ناول ’ہم کہاں کے سچے تھے‘ میں نے 2008 میں ہی پڑھ لیا تھا۔ ناول پڑھنے کا شوق امی سے ورثے میں ملا تھا۔ ہر مہینے ’خواتین‘، ’شعاع‘ یا ’پاکیزہ‘ ڈائجسٹ گھر آتا تو میں بھی چھپ چھپا کر پڑھ لیتا تھا۔ چھپ کر اس لیے کیوں کہ بڑے بھائی یہ ’زنانہ‘ ٹائپ کے ڈائجسٹ پڑھنے پر پھینٹی لگا دیا کرتے تھے۔

یونیورسٹی سے چھٹی پر ملتان سے گھر آتے ہوئے یہ ناولٹ میں نے بس میں ہی آدھا ختم کر لیا تھا۔

یہ ایک درد بھری کہانی تھی اس لیے کئی بار آنکھ بھی بھر آئی۔ یہ بات کسی کو نہیں پتہ تھی کہ ٹریجڈی سٹوریز پڑھتے ہوئے میں اکثر رو پڑتا تھا۔ شاید آج بھی ایسا ہی ہے۔۔۔

’ہم کہاں کے سچے تھے‘ کے نام سے ہی اس ناول کو ڈرامائی شکل دی گئی ہے جس نے آج کل ’ہم‘ نیٹ ورک پر دھوم مچائی ہوئی ہے۔

اپنے کئی ناولز کی طرح ’ہم کہاں کے سچے تھے‘ میں بھی مصنفہ عمیرہ احمد نے مرکزی کردار مہرین کو سادہ اور معمولی شکل کی مگر انتہائی ذہین اور باصلاحیت لڑکی کے طور پر پیش کیا گیا ہے ’زندگی گلزار ہے‘ کی کشف کی طرح۔۔۔

لیکن ڈرامے میں یہ کردار سپر ماڈل اور اداکارہ ماہرہ خان نبھا رہی ہیں لیکن اپنی سادگی سے انہوں نے اس کردار کے ساتھ انصاف ضرور کیا ہے۔

اب تک اس کی چھ قسطیں آن ایئر ہو چکی ہیں لیکن ڈرامہ ناول سے کچھ مختلف ہے۔ ظاہر ہے ناول میں 90 کی دہائی کے آغاز کا زمانہ دکھایا گیا ہے جس میں اس کے مرکزی کردار خط و کتابت کے ذریعے رابطے میں رہتے تھے جب کہ ڈرامے میں سکائپ اور واٹس ایپ کے ذریعے۔۔۔

یہ بتاتا چلوں کہ اس ڈرامے کی کہانی تین مرکزی کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔ مہرین کا تو اوپر ذکر ہو چکا ہے اس کے علاوہ ان کی ماموں زاد بہن مشعل اور خالہ زاد بھائی اسود کے کردار کہانی میں سب سے اہم ہیں۔

مہرین کے بچپن میں دکھایا گیا ہے کہ ان کے والد منصور سرکاری ملازم تھے لیکن فراڈ اور نشے کی وجہ سے ان کی شہرت اچھی نہیں تھی۔

ناول کے برعکس ڈرامے میں مہرین اپنے بابا سے بہت پیار کرتی ہے لیکن خاندان میں ان کی بدنامی سے وہ پریشان رہتی ہے۔ پھر ایک دن مہرین کے والد کی نشے کے باعث موت واقع ہو جاتی ہے جن کی لاش کوڑے کے ڈھیر سے ملتی ہے۔ اپنی امی کے ساتھ نانی کے گھر شفٹ ہونے کے بعد انتہائی حساس مہرین کو کزنز سے اپنے والد کے بارے میں طعنے سننے کو ملتے ہیں اور یہیں سے اس کی شخصیت میں تنہائی پسندی کا عنصر پیدا ہو جاتا ہے۔

عمیر رانا کا کردار بہت مختصر تھا لیکن مجھے ان کی جاندار اداکاری اور بڑی داڑھی والے حلیے نے بہت متاثر کیا۔

کہانی میں مشعل ایک انتہائی خوبصورت لڑکی ہے لیکن اس کا ہمیشہ مہرین کی قابلیت سے موازنہ کیا جاتا ہے جس سے اسے مہرین سے شدید جلن ہو جاتی ہے جو بعد میں نفرت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

کبری خان نے مشعل کے مشکل اور پیچیدہ کرادر کو انتہائی خوبصورتی سے نبھایا ہے۔ اسود بچپن میں مہرین کی، جس کی ماں دوسری شادی کے بعد اسے نانی کے گھر چھوڑ گئی تھی، دل جوئی کرتا اور اسے تنہائی سے باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہے لیکن مشعل کو یہ بات پسند نہیں تھی۔

بعد میں اسود پڑھائی کے لیے امریکہ چلا جاتا ہے اور مشعل جسے تمام سہولیات میسر ہوتی ہیں اسود سے رابطے میں رہتی ہے اور مہرین اسود کی زندگی سے تقریباً غائب ہو جاتی ہے۔

مہرین یونیورسٹی میں اپنی قابلیت کے باعث ہردل عزیز شخصیت بن جاتی ہے جو پڑھائی کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ، شاعری، تقاریر اور پینٹنگز میں بھی بام عروج پر پہنچتی ہے اور یہی بات مشعل کی جلن کو ایندھن فراہم کرتی ہے۔ مشعل مہرین کی تمام تر کامیابیوں کو اپنی کامیابی بتا کر اسود کا دل جیتنے کی کوشش میں رہتی ہے جو پہلے ہی اس کی خوبصورتی کا گرویدہ بن چکا ہوتا ہے۔

یہ تو اب تک کی کہانی تھی جو آن ایئر ہو چکی ہے باقی کہانی جو میں نے ناول میں پڑھ رکھی ہے بتانا ناظرین سے نا انصافی ہوگئی۔

ڈرامہ سیریز ’انا‘ سے شہرت حاصل کرنے والے عثمان مختار نے اس ڈرامے میں اسود کا کردار ادا کیا ہے جنہوں نے اپنے محدود سکرپٹ میں رہتے ہوئے بھی اب تک کافی سلجھی ہوئی اداکاری کا مظاہرہ کیا ہے۔

وہ دو کزنز کے درمیان الجھاؤ کا شکار نظر آتے ہیں لیکن کبری خان نے جس قدر عمدگی سے اس منفی کردار کو ادا کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ مشعل کو جس کی زندگی کی کئی پرتیں ہیں سکرین پر اجاگر کرنا یقینا مشکل کام تھا لیکن کبری خان نے اپنی جاندار اداکاری سے سب کو ہی متاثر کیا ہے۔

مہرین نے بچپن سے لے کر جوانی تک محرومیوں اور طعنوں کا سامنا کیا جس سے وہ سب کو باغی اور زندگی سے بیزار نظر آتی ہے اور اس بغاوت اور محرومی کو ماہرہ خان نے خود پر طاری کر کے بھی دکھایا ہے۔

کسی بھی بات پر آنکھوں میں پانی بھر آنا اور اگلے ہی لمحے مسکرا دینا یقینا کسی بھی اداکار کے لیے مشکل ہو سکتا ہے لیکن ماہرہ نے کئی سینز میں اس کا بھر پور مظاہرہ کیا ہے۔  

مومنہ دورید پروڈکشن کے بینر تلے بننے والے اس ڈرامے کی ہدایت کاری فاروق رِند نے کی ہے جو اس سے پہلے ’عشق زہے نصیب‘ اور ’پیار کے صدقے‘ سے کافی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ ان دونوں کلاسکل طرز کے ڈراموں کی طرح فاروق رِند نے ’ہم کہاں کے سچے تھے‘ میں بھی کافی کلوز اپ شاٹس لیے ہیں جو کسی بھی اداکار کے لیے کافی مشکل ہوتے ہیں لیکن رِند اسی انداز کی ہدایت کاری کے لیے مشہور ہیں۔

یہ ڈرامہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن جلد ہی یہ رولر کوسٹر کی طرح کئی اہم موڑ لینے والا ہے جس کے لیے آپ کو انتظار کرنا پڑے گا۔

اور ہاں اس ڈرامے کا او ایس ٹی ’تیرے بِن‘ بھی انتہائی شاندار ہے جسے اب تک یوٹیوب پر 53 لاکھ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی