’سوزوکی چھا گئی‘ فورڈ کار کمپنی بھارت میں بند: مودی پالیسیوں کو دھچکا

بھارت میں گاڑیوں کی مارکیٹ پر سوزوکی چھائی ہوئی ہے جو سستی گاڑیاں فروخت کر کے 50 فیصد سے زیادہ سیلز کو کنٹرول کرتی ہے۔ فورڈ 1990 کی دہائی میں بھارت آئی تھی اور اسے امید تھی کہ وہ دنیا میں گاڑیوں میں سب سے بڑی مارکیٹ میں سے کچھ شئیر لے پائے گی۔

بھارتی آٹو موبیل ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ اسے فورڈ کے اعلان پر صدمہ پہنچا ہے اور اسے متاثر ہونے والی کار ڈیلرشپس کے حوالے سے تشویش ہے جن کے 40 ہزار کے قریب ملازمین ہیں (تصویر:اے ایف پی)

گاڑیاں بنانے والی امریکی بڑی کمپنی فورڈ نے کہا ہے کہ وہ بھارت میں کاریں تیار کرنا بند کر دے گی۔

فورڈ کا اعلان بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ان کوششوں کے لیے نیا دھچکا ہے جن کے تحت وہ غیر ملکی کاروباری اداروں پر زور دیتے ہیں کہ وہ بھارت میں اپنی پیدواری سرگرمیاں شروع کریں۔

اس سے پہلے موٹر سائیکل بنانے والی امریکی کمپنی ہارلے ڈیوڈسن نے گذشتہ سال بھارت میں موٹر سائیکلوں کی تیاری بند کر دی تھی۔ 2017 میں کار ساز ادارے جنرل موٹرز نے بھارت میں کام بند کر دیا تھا۔

جمعرات کو میڈیا بیان میں فورڈ ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں بھارت میں گذشتہ 10 سال میں دو ارب ڈالر کا آپریٹنگ نقصان ہوا ہے جبکہ 2019 میں اس کے اثاثوں میں 80 کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی۔

فورڈ انڈیا کے صدر نے اپنے بیان میں کہا  کہ’ہمیں طویل مدت تک جاری رہنے والے منافع کے لیے پائیدار راستہ نہیں مل رہا جس میں بھارت میں گاڑیوں کی تیاری بھی شامل ہے۔‘

فورڈ بھارت میں گاڑیوں کی فروخت فوری طور پر روک دے گی۔ فورڈ اس سال کے آخر میں مغربی ریاست گجرات میں سانند پلانٹ بھی بند کر دے گی جہاں برآمد کرنے کے لیے گاڑیاں تیار کی جاتی ہیں۔

فورڈ کے انجن اور وہیکل اسمبلی کے کارخانے اگلے سال کی دوسری سہ ماہی تک بند کر دیے جائیں گے۔

فورڈ کے مطابق گاڑیوں کی تیاری بند کرنے سے تقریباً چار ہزار ملازمین متاثر ہوں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

معلومات فراہم کرنے والے برطانوی ادارے آئی ایچ ایس مارکٹ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر گورو ونگال نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ’یہ بھارت میں گاڑی سازی کی صنعت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ وہ (فورڈ) واحد کار ساز تھے جو بھارت سے کاریں امریکہ برآمد کر رہی تھے۔ وہ ایسے وقت جا رہے ہیں جب ہم (بھارت) کار ساز کمپنوں کو پیداوار کے حوالے سے مراعات دینے پر بات چیت کر رہے ہیں۔‘

بھارتی آٹو موبیل ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ اسے فورڈ کے اعلان پر صدمہ پہنچا ہے اور اسے متاثر ہونے والی کار ڈیلرشپس کے حوالے سے تشویش ہے جن کے 40 ہزار کے قریب ملازمین ہیں۔

ایسوسی ایشن کے صدر وینکیش گلاٹی نے ایک بیان میں کہا: ’فورڈ کے صدر مہروترہ نے مجھے ذاتی طور پر ٹیلی فون کیا اور یقین دلایا ہے کہ جو ڈیلر گاہکوں کو گاڑیاں فروخت کرنا جاری رکھیں گے ان کے نقصان کا اچھے طریقے سے ازالہ کیا جائے گا۔ اگرچہ یہ اچھا آغاز ہے لیکن کافی نہیں ہے۔‘

’بھارت میں گاڑیوں کی مارکیٹ پر سوزوکی چھائی ہوئی ہے جو سستی گاڑیاں فروخت کر کے 50 فیصد سے زیادہ سیلز کو کنٹرول کرتی ہے۔ فورڈ 1990 کی دہائی میں بھارت آئی تھی اور اسے امید تھی کہ وہ دنیا میں گاڑیوں میں سب سے مارکیٹوں میں ایک سے فائدہ اٹھائے گی لیکن آٹو میکر کو قیمتوں کے حوالے سے حساس جنوبی ایشیائی ملک کی مارکیٹ میں اپنا کم حصہ بڑھانے کے لیے جدوجہد کرنی پڑی۔‘

2019 میں فورڈ نے بھارت میں موجود اپنے اثاثے بڑے مقامی گاڑی ساز ادارے مہندر اینڈ مہندر کے ساتھ  مشترکہ منصوبے کو منتقل کر دیے۔ سال کے شروع میں انہوں نے معاہدہ منسوخ کر دیا جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کے دوران کاروبار کے حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی