چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کیسے چیلنج کی جاسکتی ہے؟

سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست کے مسترد کیے جانے کو سپریم کورٹ کا ’اچھا فیصلہ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’عدالت عظمیٰ کو درخواست گزار وکیل کو جرمانہ بھی کرنا چاہیے تھا۔‘

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ (تصویر: یاور  طاہر/ وکی پیڈیا)

سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بدھ کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی تعیناتی کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آئین کے مطابق کسی بھی آئینی ترمیم کو چیلنج نہیں کیاجاسکتا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست گزار وکیل علی عظیم کو مخاطب کرکے پوچھا کہ ’آفریدی صاحب بتائیں الیکشن کمیشن میں سرونگ ججز کون ہیں؟ آپ کہتے ہیں ریٹائرڈ بیوروکریٹ کو چیف الیکشن کمشنر نہیں لگایا جا سکتا جبکہ آپ نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس سےمشاورت ہونی چاہیے۔‘

جسٹس عمر عطا بندیال نے ان سے مزید کہا کہ ’آپ نوجوان وکیل ہیں اور آئینی نقطہ اٹھایا ہے۔‘

جس پر وکیل علی عظیم آفریدی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’الیکشن کمیشن میں کوئی سرونگ ججز بطور ممبر کام نہیں کر رہے۔‘

اس بات کے جواب میں جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’کیا چیف الیکشن کمشنر اور چیئرمین نیب جوڈیشل افسران نہیں ہوتے۔کیا آپ نے چیئرمین نیب تعیناتی کیس کا فیصلہ پڑھا ہے۔ درخواست میں آپ نے آئینی ترمیم کو بھی چیلنج کیا ہے۔‘

جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہا کہ ’ہم آپ کی کوشش کو سراہتے ہیں کہ آپ نے آئینی نقطہ اٹھایا ہے، لیکن عدالت رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھے گی۔‘

اس کے ساتھ ہی عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے علی اعظم آفریدی کی اپیل اور آئینی درخواست خارج کر دی۔

سماعت کے بعد علی عظیم آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالت نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا یہ طریقہ کار نہیں ہے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’جب سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ آئے گا تو میں نظرثانی اپیل دائر کروں گا۔‘

رجسٹرار آفس کے اعتراضات کیا تھے؟

رجسٹرار آفس نے اعتراضات اٹھائے تھے کہ درخواست آرٹیکل 184/3 کے تحت کی گئی ہے لیکن یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ معاملہ مفاد عامہ میں کیسے آتا ہے یا اس تعیناتی سے درخواست گزار کے بنیادی حقوق کیسےمتاثر ہوئے۔

رجسٹرار آفس نے مزید کہا کہ درخواست میں سپریم کورٹ کی ایکسڑا جوڈیشل پاور 184/3 استعمال کرنے کے لیے ٹھوس مواد موجود نہیں۔ درخواست کا مواد مبہم ہے اور اسے سپریم کورٹ کے قوانین کے مطابق ڈرافٹ نہیں کیا گیا۔

درخواست کا متن کیا تھا؟

علی عظیم آفریدی وکیل نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سکطان راجہ کی تعیناتی اس نکتے پر چیلنج کی تھی کہ یہ تعیناتی غیر آئینی ہے۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ سینیئر ریٹائرڈ بیوروکریٹ یا ٹیکنو کریٹ کی بطور چیف الیکشن کمشنر تعیناتی غیر قانونی ہے اور ترمیم سے پہلے والی شق کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کسی حاضر سروس یا ریٹائرڈ جج کو ہی ہونا چاہیے۔

چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا آئینی طریقہ کار کیا ہے؟

سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست کے مسترد کیے جانے کو سپریم کورٹ کا ’اچھا فیصلہ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’عدالت عظمیٰ کو درخواست گزار وکیل کو جرمانہ بھی کرنا چاہیے تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں عرفان قادر نے کہا کہ ’پہلی بات تو یہ کہ درخواست کا متعلقہ فورم ہائی کورٹ تھا سپریم کورٹ نہیں۔ درخواست کو آرٹیکل 199 میں دائر کرنا چاہیے تھا، لیکن یہاں بھی قانونی نکتہ ہے کہ درخواست آرٹیکل 199 کے دائرہ کار میں بھی آتی ہے کہ نہیں؟‘

عرفان قادر نے مزید کہا کہ ’چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کو چیلنج کرنے کے لیے وہی طریقہ کار ہوتا ہے جو کسی بھی جج کی تعیناتی چیلنج کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔‘

’یہاں دو راستے ہیں۔ اگر تعیناتی قوانین کے مطابق نہیں کی گئی تو ہائی کورٹ میں رِٹ ہوگی اور اگر چیف الیکشن کمشنر کسی مِس کنڈکٹ کے مرتکب پائے گئے تو پھر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جائے گا۔‘

سابق اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ’سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست کا موقف یہ تھا کہ جو آئین سازی یا ترمیم کی گئی جس کے تحت چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کی جاتی ہے وہ غلط ہے اور پہلے والی شق بحال کی جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’قانون سازی کرنا سپریم کورٹ کا کام نہیں ہے بلکہ پارلیمان کا کام ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان