خودکشی کیوں؟

بچپن اور جوانی میں امن اور سکون کا ایک پل بھی میسر نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں آئے روز نوجوانوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ایم ایس ایف کی 2016 میں ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر کی 45 فیصد آبادی شدید ذہنی امراض کا شکار ہے(فائل فوٹو: اے ایف پی)

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 


’میں نے کئی بار اپنی جان لینے کے بارے میں سوچا، کھیت میں جا کر جگہ کا انتخاب کیا۔ وہاں میں نے پھانسی کا پھندا بھی بنا دیا تھا۔ میری ماں کو علم ہے کہ میں انتہائی ذہنی دباؤ سے گزر رہی ہوں، اس لیے وہ سائے کی طرح میرے ساتھ لپٹی رہتی ہیں۔

’میں نے جب بھائی کی آنکھوں میں وہ بے بسی دیکھی، جب اس کو نہ جانے کس جرم میں گرفتار کرکے لے جایا جا رہا تھا تو ان کی وہ بے بس آنکھیں میرے جگر میں سوراخ بن گئیں۔ تین ماہ تک ہمیں نہیں بتایا گیا کہ وہ کس جیل میں ہیں، میری ماں نے صبر سے کام لیا لیکن میں خود کو بےبس اور غیرمحفوظ سمجھتی ہوں۔

’ذلت کی زندگی سے اچھا ہے کہ میں خود ہی اپنا گلہ گھونٹوں لیکن میری ماں بار بار کہتی ہے کہ اب تم میرا واحد سہارا ہو، تمہارے بغیر کیسے زندہ رہوں گی۔ میں ماں کے آنسو دیکھ کر کمزور پڑ جاتی ہوں ورنہ میری زندگی میں کچھ بھی نہیں ہے جس کے سہارے میں زندہ رہوں۔‘

پلوامہ کی راشدہ کی باتیں سن کر میرا دل دہل گیا۔ میرے پاس اس کی دلجوئی کے لیے الفاظ نہیں تھے لیکن خود کو سنبھالنے کے بعد میں نے راشدہ کو سمجھانے کی کافی کوشش کی، کچھ مشورے دیئے اور ایک ماہر نفسیات سے ملوایا۔ چند ماہ کی کونسلنگ کے بعد میں نے ان کے رویئے میں ہلکی سی تبدیلی محسوس کی۔

راشدہ کشمیر کی اس نئی نسل سے تعلق رکھتی ہے جو ایک کروڑ تیس لاکھ آبادی کا 70 فیصد حصہ ہے اور جو جموں و کشمیر کے پرآشوب دور میں رہ کر شدید ذہنی دباؤ سے گزر رہی ہے۔ انہیں وراثت میں کشمیر کا پرتشدد دور ملا ہے۔

بچپن اور جوانی میں امن اور سکون کا ایک پل بھی میسر نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں آئے روز نوجوانوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

چند روز پہلے یعنی 14 ستمبر کو یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی کہ بھارتی ریاست پنجاب کے ایک کالج میں زیر تعلیم کشمیری نوجوان عمر احد نے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لی ہے۔ جب اس واقعے کی تصویر عوام تک پہنچی تو حالات سے خوفزدہ کشمیریوں میں پھر بےشمار خدشات نے جنم لیا۔ خاص طور سے والدین اپنے بچوں کی ذہنی حالات دیکھ کر پریشانیوں میں اندر ہی اندر گھلتے جارہے ہیں۔

بقول سکینہ جن کا بیٹا بھی پنجاب کے ایک کالج میں زیر تعلیم ہے: ’ہمارے نوجوان نہ اپنے گھر میں محفوظ ہیں اور نہ باہر کی دنیا میں، موت جیسے ان کا تعاقب کر رہی ہے۔ کسے معلوم کہ اس بچے کے کیا حالات ہوئے کہ وہ اپنی زندگی سے ہی بیزار ہوا۔ میں نے اپنے بیٹے کو واپس بلایا ہے، میں ایسا زخم برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔‘

بھارت کی بعض ریاستوں سے بسا اوقات یہ خبریں بھی آتی رہی ہیں کہ کسی کشمیری نوجوان یا ملازم کو زدوکوب کر کے لہولہان کردیا گیا یا مار دیا گیا ہے جس کا نہ کوئی پرسان حال ہوتا ہے اور نہ ان واقعات کی تحقیقات کی امید کی جاتی ہے۔

ان حالات کے پس منظر میں یہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ کشمیریوں کے لیے نہ صرف وادی کے اندر زمین تنگ کی جا رہی ہے بلکہ بیرون ریاست بھی ان کے لیے جگہ محدود کر دی گئی ہے۔

آپ کو یاد ہوگا کہ 19 اگست کو گوڈ گاؤں دہلی میں کشمیری نوجوان طارق بٹ کو زدوکوب کرکے لہولہان کردیا گیا تھا جو دو سال سے ایک مالیاتی کمپنی میں ملازمت پر تھے۔ اس واقعے کی ابتدائی رپورٹ میں پولیس نے کہا تھا کہ اس کو مذہبی رنگ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس طرح کے واقعات کے بعد کشمیری اب باہر جانے سے کتراتے ہیں مگر کشمیر کے اندر روزگار کے مواقع نفی کے برابر ہیں۔

وادی کے اندر اکثر نوجوان سکیورٹی فورسز سے بچنے کی کوشش میں رہتے ہیں، دوسرا جب روزگارکے تمام مواقع ایک منظم سازش کے تحت ختم کیے جا رہے ہیں تو وہ انتہائی ذہنی دباؤ میں آ کر یا تو خودکشی کو ترجیح دینے لگتے ہیں یا بندوق بردار بننے کا جھوٹا اعلان کرکے سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مرنے پر راضی ہوجاتے ہیں۔

مئی میں دمحال ہانجی پورہ کے 23 برس کے شعیب نے خودکُشی سے پہلے ایک ویڈیو بنا کر جاری کر دی جس میں انہوں نے اپنے والد، جو پیشے سے استاد تھے، کے بارے میں لکھا تھا کہ ان کی تنخواہ پولیس کی رپورٹ کے باعث دو سال سے بند رکھی گئی ہے۔

گھر کے مالی حالات اتنے خراب ہوچکے تھے کہ جراثیم کُش ادویات کھانے کے فوراً بعد شعیب نے ماں سے پوچھا تھا کہ ’ماں! ہم اتنے تنگ دست کیوں ہیں؟‘ اور ماں کو اس کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ ہوا کہ شعیب نے زہر کھائی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غیرسرکاری عالمی ادارے ایم ایس ایف کی 2016 میں ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر کی 45 فیصد آبادی شدید ذہنی امراض کا شکار ہے اور اکثر نوجوان زندہ رہنے کی بجائے اپنی زندگی ختم کرنے کو بہتر سمجھتے ہیں۔

سری نگر کے صدر ہسپتال میں گذشتہ سال کے دوران تقریباً پانچ سو کیس ایسے درج ہوئے ہیں جنہوں نے زہریلی چیز کھا کر یا دوسرے طریقے اپنا کر جان لینے کی کوشش کی تھی۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق 2010 سے 2020 کے دوران کشمیر میں تین ہزار 24 خودکش مقدمات درج کیے گئے تھے جبکہ صرف 2020 میں 457 افراد نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔

لندن میں مقیم کشمیری نژاد ماہر نفسیات ڈاکٹر مدثر فردوسی نے حال ہی میں اپنے ایک مقالے میں لکھا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ کشمیر کے پرتشدد حالات کے سبب نوجوان ذہنی اضطراب میں پھنس گئے ہیں اور وہ خود کو بےبس تصور کرنے لگے ہیں مگر میڈیا کا کردار انتہائی منفی بن چکا ہے جو خودکشی کے واقعات کی رپورٹنگ میں خودکشی کرنے والے کو سپر ہیرو کی طرح پیش کرتا ہے۔ ’کشمیر میں ایسی کئی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن سے دوسرے نوجوانوں کو ہیرو کی طرح اپنی زندگی ختم کرنے کی ترغیب مل جاتی ہے۔‘

انسانی حقوق کے بعض ادارے کہتے ہیں کہ خودکشی کے اس بڑھتے رحجان کے پیچھے خراب معاشی حالات ہیں جو پانچ اگست 2019 کے بعد مزید ابتر ہوگئے ہیں جب بھارت کی حکومت نے اندرونی خودمختاری کو ختم کرنے کے فیصلے کے ساتھ کئی ماہ تک خطے میں عوام کی نقل و حمل یا ترسیل پر سخت پابندیاں عائد کیں۔ اس سے لاکھوں افراد اپنے روزگار یا تجارت سے محروم ہوگئے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکن راجہ حنیف کہتے ہیں کہ ’بھارت کی حکومت نے کشمیریوں کو اپنے حقوق سے دستبردار ہونے اور انہیں معاشی طور پر کمزور کرنے کا یہ موثر ہتھیار استعمال کیا اور گھریلو معیشت پر وار کرکے انہیں محتاج بنا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری قوم کو ہر طرح سے کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس پر بات کرنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔‘

حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں مگر کشمیری نوجوانوں کو خود کو سنبھالنا ہوگا، زندہ رہنا ہوگا اور سیسہ پلائی دیوار کی طرح اپنی مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ