اڑنے والی مائیکرو چپ اور چہرے کے تاثرات سے فون کا کنٹرول

اس ہفتے کی پانچ بہترین ٹیکنالوجی کی خبریں۔

اس مائیکرو چپ میں پروپیلر یا انجن نہیں ہے (تصویرنارتھ ویسٹرن یونیورسٹی )

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے انجینیئرز نے پروں والی مائیکرو چپ تیار کی ہے جس کا حجم ریت کے ایک ذرے سے بھی کم ہے۔

یونیورسٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’انسان کی تیار کردہ یہ دنیا کی سب سے چھوٹی اڑنے والی چیز ہے۔‘

جہاز یا اونچی عمارتوں سے چھوڑے جانے والے اس ’مائیکرو فلائر‘ کے ذریعے فضائی آلودگی، ہوا میں موجود بیماریوں اور ماحول پر نظر رکھنے میں مدد ملے گی۔

اس فلائر میں پروپیلر یا انجن نہیں ہیں۔ تاہم انجینیئرز اس میں سینسرز، وائر لیس کمیونی کیشن کے لیے انٹینے اور توانائی کا ذریعہ سمانے میں کامیاب رہے ہیں۔


ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر پر یوٹیوب ویڈیوز کی ڈاؤن لوڈنگ

آپ نے اپنے سمارٹ فونز پر یوٹیوب ویڈیوز ضرور ڈاؤن لوڈ کی ہوں گی لیکن اب یوٹیوب آپ کو ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز پر بھی یہ سہولت دینے جا رہا ہے۔

ڈیسک ٹاپ پر یوٹیوب ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے کے کئی طریقے ہیں لیکن ان کے لیے آپ کو مختلف سافٹ ویئرز یا آن لائن سروسز کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

تاہم اس پیش رفت کے بعد آپ اپنے سمارٹ فون کی طرح ڈیسک ٹاپ پر محض ایک کلک سے ویڈیو ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے۔

انڈروائیڈ پولیس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یوٹیوب نے اپنے پریمیئر سبسکرائبرز کو تجرباتی بنیادوں پر یہ سہولت فراہم کر دی ہے۔


یورپ بھر میں تمام ڈیوائسز کے لیے ایک چارجر

یورپی یونین نے ایپل کے آئی فون سمیت تمام سمارٹ فونز اور دوسری ڈیوائسز کے لیے ایک ہی چارجر لانے کی تجویز دی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تجویز کے مطابق یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ تمام ڈیوائسز مثلاً ٹیبلٹس، ہیڈ فونز، پورٹیبل سپیکرز اور پورٹیبل ویڈیو گیمز کے لیے یو ایس بی – سی کو معیار بنا دیا جائے۔

یہ بھی تجویز ہے کہ آئندہ فون اور چارجر علیحدہ علیحدہ فروخت کیے جائیں تاکہ جن لوگوں کے پاس پہلے سے چارجر موجود ہیں انہیں نئے چارجر رکھنے کی ضرورت نہ پڑے۔ اس اقدام کا مقصد الیکٹرانک آلودگی کو کم کرنا ہے۔

اس تجویز پر عمل کی صورت میں ایپل کو شدید نقصان کا احتمال ہے کیونکہ اس کی ڈیوائسز میں لائٹنگ پورٹ ہوتی ہے، جس پر یو ایس بی – سی چارجر استعمال نہیں ہو سکتا۔


شاؤمی کے فونز میں ڈیٹا سنسر ہونے کا الزام

لیتھونیا میں چین کے موبائل فونز استعمال نہ کرنے کی تجویز سامنے آنے کے بعد چین کی شاؤمی کمپنی نے کہا ہے کہ وہ صارفین کے رابطوں پر کوئی سنسر عائد نہیں کرتی۔

نیشنل سائبر سینٹر کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شاؤمی کے فون انکرپٹڈ ڈیٹا سنگاپور میں ایک سرور کو منتقل کرتے ہیں جو کہ یورپی ڈیٹا ریگولیشن کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔

اس پر شاؤمی کے ترجمان نے ردعمل میں کہا کہ شاؤمی نے کبھی ایسا کیا اور نہ آئندہ ایسا کرے گا اور یہ کہ کمپنی تمام صارفین کے قانونی حقوق کا مکمل احترام اور تحفظ کرتی ہے۔


چہرے کے تاثرات سے اینڈروائیڈ فونز کنٹرول کریں

گوگل نے کہا ہے جسمانی معذوری اور قوت گویائی سے محروم لوگ اینڈروائیڈ فونز کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے فون کا فرنٹ فیسنگ کیمرا اور میشن لرننگ کا ٹول چہرے اور آنکھوں کی حرکت کو نوٹ کرتا ہے۔

صارفین اپنے فون کی سکرین کو سکین کر کے مسکراہٹ، بھنوریں، منہ کھولنے اور بند کرنے اور دائیں بائیں دیکھ کر فون کو احکامات دے سکتے ہیں۔

گوگل کے مطابق لوگ ’ہے گوگل‘ کہہ کر فون کو چلا سکتے ہیں لیکن کئی جسمانی معذوری کے شکار افراد آواز سے فون کو احکامات دینے سے قاصر رہتے ہیں۔

تاہم ’کیمرا سوئچ‘ اور ’ پراجیکٹ ایکٹیویٹ‘ فیچرز کی مدد سے اب چہرے کے تاثرات سے فون کو کنٹرول کیا جا سکے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی