افغانستان پر دنیا کی تسلی کیسے؟

اس وقت جواب دینے کے لیے بیانیہ بھی موجود ہے اور حقائق بھی لیکن جس انداز سے یہ بیانیہ بیچا یا پیش کیا جا رہا ہے اس سے خاموش رہنا بہتر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔

افغانستان میں منشیات کی پیدوار کے گرد بھی سوالات گھوم رہے ہیں۔ 24 ستمبر 2021 کو لی گئی اس تصویر میں افغان قندہار کے باہر منشیات کی مارکیٹ میں معیار کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے(اے ایف پی)

افغانستان میں طالبان کی آمد کے بعد سے وزیر اعظم عمران خان کو جتنا ائیر ٹائم/ کوریج بین الاقوامی میڈیا پر مل چکی، اس کے بعد تو مغربی دارالحکومتوں میں پاکستان کے کردار پر اٹھنے والے سوالات میں کمی آ جانی چاہیے تھی۔ لیکن ایسا ہوتا نہ دکھ رہا ہے اور نہ ہی ایسا ہو رہا ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ ان کے انٹرویوز میں سیاق و سباق سے ہٹ کر جملے بازی اور کئی مواقعوں پر غلط حقائق کے ساتھ اپنے موقف کو ایسے انداز میں پیش کرنا ہے جس سے ان کے اچھے بھلے انٹرویوز بھی ہمارے لیے نقصان دہ نظر آئے۔

طالبان کی فتح کو افغانستان میں غلامی کی زنجیریں توڑنے کے مترادف قرار دینا ہو، حقانیوں کو پشتون قبیلہ بنانا ہو یا فیک ویڈیو کے حقائق جنرل اسمبلی کی تقریر میں پیش کرنے ہوں۔ یا پھر طالبان کے لیے حمایت کو پشتون ولی سے جوڑنا اور اس سے پہلے ریپ اور خواتین جیسے معاملات پر ان کے کمنٹس ہوں۔

آنکھیں بند کر کے شادیانے بجانا الگ بات ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالات میں یہ سارے بیانات عالمی منظرنامے پر پاکستان کے بیانیے کے لیے بظاہر نقصان دہ ثابت ہوئے۔ بین الاقوامی جریدوں کے مضامین ہوں یا پھر غیرملکی صحافیوں سے ہونے والی افغانستان کے معاملات پر گفتگو، زیادہ فوکس میں عمران خان صاحب اور ان کے کچھ وزرا کے انٹرویوز اور بیانات ہی رہتے ہیں۔

پاکستان  کے کردار کے حوالے سے ایسے ہی سوالات ہمارے سامنے رکھے جاتے ہیں جن کا جواب حکومت وقت کے لیے دینا ہر لحاظ سے انتہائی آسان ہے۔ مثلا کیا طالبان کے افغانستان میں آنے کے بعد پاکستان میں بھی شدت پسند بڑھے گی؟ اگر دہشت گردی کی ایک نئی لہر اٹھتی ہے تو ریاست پاکستان اس سے نمٹنے کے لیے کتنی تیار ہے؟ ساتھ میں یہ بھی کہ پاکستان افغانستان کے حوالے سے ان کی تشویش میں کمی لانے کے لیے طالبان پر کتنا دباؤ ڈال سکتا ہے؟ یا سال ہا سال سے چلا آ رہا یہ سوال کہ کیا وو طالبان خصوصاً حقانی نیٹ ورک کی مدد کرتا آیا ہے؟

‎تقریبا یہی وہ سوالات ہیں جو کہ اس وقت مغربی ایوانوں میں ارباب اختیار سے نہ صرف پوچھے جا رہے ہیں بلکہ وہاں افغانستان کو دیکھنے والے اہم حکام کی نیندیں اڑا چکے ہیں۔

کچھ تو گھر جانے کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔ اب ان سوالات کے جوابات تو پاکستانی بیانیے میں موجود ہیں لیکن وزیر اعظم اور حکومتی وزرا کے انٹرویوز یا ان سے ہونے والی ملاقاتوں میں واضح طور پر سامنے نہیں آ رہے۔

(اور کیوں سامنے نہیں آ رہے اس کی وجوہات کا تفصیل سے ذکر ہو چکا ہے) بدقسمتی سے یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے پاکستان کی ’سکیپ گوٹنگ‘ یا قربانی کا بکرا بنانے کا آغاز ہوتا ہے۔

سوالات صرف پاکستان سے نہیں پوچھے جا رہے بلکہ یہ اور کچھ اور بڑے سنجیدہ سوالات یورپی ممالک کے ایوانوں میں خود امریکہ سے بھی پوچھے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر طالبان حکومت سے معاہدہ کرتے وقت افغان حکومت کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟ آپ کی تربیت یافتہ تین لاکھ افغان فوج کہاں گئی؟ افغانستان میں 20 سالوں میں جو کچھ حاصل کیا گیا وہ چند دنوں میں ہاتھوں سے ایسے کیسے نکل گیا کہ امریکہ سمیت عالمی برادری ہاتھ ملتی رہ گئی؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیس سالوں میں نیٹو اور یورپ نے مل کر طالبان کے خلاف جنگ لڑی لیکن افغانستان سے نکلتے وقت اہم فیصلوں میں اتحایوں تک کو اعتماد میں نہ لینے کی کیا وجہ تھی؟

مغربی صحافتی اور سفارتی حلقوں میں نہ صرف یہ سوالات گردش کر رہے ہیں بلکہ اس بات پر بھی اتفاق رائے موجود ہے کہ یہ انتہائی سنجیدہ سوالات اور ’بڑی سٹریجک ناکامی‘ مغربی دارالحکومتوں کی سیاست پر آنے والے مہینوں اور سالوں میں گہرے اثرات مرتب کرے گی۔

افغانستان میں 20 سال تک امریکہ کے شانہ بشانہ لڑنے والے ممالک کو امریکہ سے جوابات چاہییں۔ اور پاکستان کو انہی اعتراضات پر فوکس کر کے ان سوالات کے مدلل جواب دینے ہیں جو ہم سے پوچھے جا رہے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت جواب دینے کے لیے بیانیہ بھی موجود ہے اور حقائق بھی لیکن جس انداز سے یہ بیانیہ بیچا یا پیش کیا جا رہا ہے اس سے خاموش رہنا بہتر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔

وزیر اعظم کو افغانستان پر خود اگر بولنا بھی ہے تو ان کے جوابات کو فیکٹ چیکنگ مشین سے گزارنے کے علاوہ ناپنا تولنا بھی پڑے گا (اس کا بہترین حل فی الحال عالمی جریدوں میں اوپیڈ یا آرٹیکل کی شکل میں ہو سکتا ہے)

لیکن بصورت دیگر ابھی تک ٹی وی انٹرویوز میں ’میژرڈ‘ ریسپانس نہ دینے کے نقصانات انٹرویو دینے سے انکار کے نقصانات سے کہیں زیادہ مہلک ثابت ہوئے ہیں۔ بہتر لائحہ عمل یہ ہوگا کہ اس معاملے  کو وزارت خارجہ کے ذہین کیریئر سفارت کاروں کے ذریعے ہی ہینڈل کیا جائے ورنہ ہم طالبان کا کیس لڑتے لڑتے خدانخواستہ اپنا کیس ہی نہ ہار جائیں۔

خطے کے حالات اب یقیناً اتنے حساس ہو چکے ہیں کہ ملتان کے جلسے میں وزیر خارجہ یا پنڈی کی کسی کارنر میٹنگ میں وزیر داخلہ کے جو من میں آئے ویسے ارشادات داغنا موجودہ حالات میں پاکستان مزید برداشت نہیں کر سکتا۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی اپنی رائی پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ