امریکی فوجی جس نے چپو والی کشتی میں بحر اوقیانوس عبور کیا

ٹویٹر پر شیئر کی گئی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ مسٹر بیل کے اہل خانہ اور دوستوں نے نیولن ہاربر میں ان کا گھر آمد پر دھوم دھام سے استقبال کیا۔

ڈیو ڈنگر بیل کے سفر کے دوران کئی مشکلات پیش آئیں جن میں سمندری طوفان، جیلی فش کا کاٹنا اور کھلے سمندر کا خوف شامل ہے (تصویر: ڈیو ڈنگر بیل ٹویٹر)

ایک سابقہ ​​مرین نے بحر اوقیانوس میں کامیابی کے ساتھ اکیلے اور بغیر کسی مدد کے روئنگ کی ہے۔ اس سفر کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا سفر ہے۔

ڈیو ’ڈنگر‘ بیل نے نیو یارک سے برطانیہ کا سفر کرتے ہوئے بحر اوقیانوس کو عبور کرنے میں 119 دن گزارے۔ وہ اتوار کی دو پہر نیولن، کارن وال پہنچے۔

ٹویٹر پر شیئر کی گئی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ مسٹر بیل کے اہل خانہ اور دوستوں نے نیولن ہاربر میں ان کا گھر آمد پر دھوم دھام سے استقبال کیا۔

یہ سفر کئی مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد مکمل ہوا ہے۔ اس کے دوران ایک بہت بڑا طوفان آیا، جیلی فش نے ڈنک مارے اور مسٹر بیل کو کھلے سمندر کا خوف بھی کھاتا رہا۔ ان کی ٹیم نے ان کے مداحوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے مستقل باخبر رکھا۔

ان کی آخری رکاوٹ تیز ہواؤں کا سامنا کرنا تھا جس کی وجہ سے انہیں اپنی منزل فال ماؤتھ سے تبدیل کرکے نیولن کرنی پڑی۔

مسٹر بیل نے بی بی سی کو بتایا کے ’میں سکلیز میں ختم نہیں کرنا چاہتا تھا- میں مرکز میں آنا چاہتا تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے جزائر آف سیلی کے سخت موسم میں 40 گھنٹے تک مستقل روئنگ کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وقت کے خلاف ایک دوڑ تھی۔‘

اختتامی تین میل کے دوران ان کی رہنمائی کے لیے رائل نیشنل لائف بوٹ انسٹی ٹیوشن کی ایک لائف بوٹ بھی بھیجی گئی تھی۔

ٹویٹر پر ایک اپ ڈیٹ کے مطابق: ’ڈنگر کسی کو نہ دیکھنے سے لوگوں کو دیکھنا شروع ہوگئے اور لوگوں کے ساتھ دو بدو گفتگو کرنے لگے ہیں، حیرت انگیز طور پر ڈنگر 40 گھنٹوں کےد وران سوئے نہیں!‘

آمد پر بیل نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا: ’میں پھر کبھی کوئی خطرناک کام نہیں کروں گا۔‘

منتظمین کا کہناہے کہ ’ان کی آمد کے انتظار میں کئی دن تذبذب میں گزرے ہیں۔‘

مسٹر بیل کا کہنا ہے کہ ان کا سفر دو فلاحی اداروں کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کی کوشش تھی جن کے نام ہیں اسپیشل بوٹ سروس ایسوسی ایشن اور راک 2 ریکوری، برطانیہ۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل