عمر شریف: صرف ایک چانس ملنے کے بعد پلٹ کر پیچھے نہیں دیکھا

عمر شریف بچپن سے ہی شہنشاہ ظرافت منور ظریف سے خاصے متاثر تھے، جبھی اپنے نام میں ’ظریف‘ کے ہم قافیہ لفظ ’شریف‘ کا اضافہ کیا، ورنہ ان کا اصل نام محمد عمر تھا۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ عمر شریف کی ان سے کبھی ملاقات نہ ہوئی۔

عمر شریف کے  ادا کیے ہوئے برجستہ جملوں اور مزاحیہ انداز کی پسندیدگی سرحدوں کی قید سے آزاد ہوئی (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

تھیٹر ڈائریکٹر صمد یار خان کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ سٹیج ڈرامے کے شروع ہونے میں صرف دو گھنٹے رہ گئے تھے اور ان کے اہم فنکار اے کے پٹیل بیوی کی وفات کی خبر ملتے ہی گھر کو چل پڑے تھے۔

سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو گا، کیونکہ اس سٹیج ڈرامے کی کہانی میں اے کے پٹیل کا کردار خاصی اہمیت رکھتا تھا۔ ڈرامے کے ٹکٹ فروخت ہو چکے تھے اور اس قدر مختصر وقت میں کسی نئے اداکار کے انتخاب کا مطلب یہ تھا کہ ذرا سی غلطی ہونے پر تماشائیوں کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ سکتا ہے۔

اس صورت حال سے ان کا معاون بخوبی واقف تھا۔ جبھی اس نے ڈرتے ڈرتے کہا، ’سر، ایک لڑکا ہے، جو روز آدم جی ہال کی کینٹین میں بیٹھا نظر آتا ہے، جو اپنے برجستہ لطیفوں اور نقالی سے ہر کسی کو لوٹ پوٹ کرتا رہتا ہے۔ اگر برا نہ مانیں تو اسے بلا لیا جائے۔ ‘

ڈائریکٹر صمد یار خان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا، انہوں نے کچھ سوچ کر ہاں کر دی لیکن چند ہی لمحے بعد جب ایک دبلا پتلا چودہ پندرہ برس کا لڑکا ان کے مقابل ان کھڑا ہوا تو وہ اسے دیکھ کر شش و پنج میں پڑ گئے کہ کیا کامیڈی کرے گا اور لوگ اسے کیا ردِ عمل دیں گے۔

لیکن وہی بات کہ کوئی اور چارہ نہیں تھا، اس لیے انہوں نے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق اسی لڑکے کو میک اپ روم تک پہنچا دیا۔ جب تک اس کا میک اپ ہوتا گیا وہ 30 سے 40 صفحات کا سکرپٹ بغور پڑھتا رہا۔

ڈرامے کے آغاز سے قبل ڈائریکٹر اور تھیٹر سٹاف بھی سہما ہوا تھا لیکن نجومی کا روپ دھار کر جب یہ لڑکا سٹیج پر آیا تو ایسی جم کر اداکاری دکھائی کہ ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ ڈرامے میں جب جب اس لڑکے کی انٹری ہوتی تو وہ اپنی برجستہ اداکاری سے ہال کو زعفران زار بنا دیتا۔ تماشائی بیچ میں تالیاں پیٹ پیٹ کر اس کی فطری اداکاری اور کامیڈی کی ٹائمنگ کو پذیرائی کی سند دیتے رہے۔

ڈراما جب ختم ہوا تو بہترین اداکاری پر انعامات بھی تھے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پانچ ہزار روپے اور موٹر سائیکل کا انعام اسی لڑکے نے جیتا جو آدم جی ہال میں چکر لگا لگا کر اپنی جوتیاں گھسا چکا تھا۔

یہ تھے عمر شریف تھے جنہوں نے بعد میں کامیڈی کی دنیا میں وہ کامیابیاں حاصل کیں کہ ’شہنشاہ کامیڈی‘ کہلائے۔ جن کے ادا کیے ہوئے برجستہ جملوں اور مزاحیہ انداز کی پسندیدگی سرحدوں کی قید سے آزاد ہوئی۔

عمر شریف کراچی کے علاقے رام سوامی میں 1955 میں پیدا ہوئے تھے۔ انتہائی کم عمری میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ شرارتی نٹ کھٹ اور ہر فن مولا عمر شریف محلے میں گھومتے پھرتے بس لوگوں کی نقلیں اتارتے۔ کبھی چٹکلے سنا کر لوٹ پوٹ کرتے تو کبھی فلمی ستاروں کی آوازیں نکال کر پورے محلے کی آنکھوں کا تارا بن گئے تھے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ اس قدر ٹیلنٹ کو یوں گلی محلوں میں ضائع نہ کرو، کسی تھیئٹر ڈراموں کا رخ کرو، جبھی وہ بار بار آدم جی ہال جاتے لیکن ناکام رہتے اور پھر قسمت کا دروازہ ایک فنکار کی عدم شرکت کے بعد آخر کار کھل ہی گیا۔

عمر شریف بچپن سے ہی شہنشاہ ظرافت منور ظریف سے خاصے متاثر تھے، جبھی اپنے نام میں ’ظریف‘ کے ہم قافیہ لفظ ’شریف‘ کا اضافہ کیا، ورنہ ان کا اصل نام محمد عمر تھا۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ عمر شریف کی ان سے کبھی ملاقات نہ ہوئی، ایک بار ملنے کے لیے ہوٹل پہنچے تو منور ظریف نیند کے مزے لوٹ رہے تھے جبھی مایوس ہو کر واپس آ گئے ۔ البتہ جب لاہور کا رخ کیا تو منور ظریف کے گھر کی دیواروں کو چوم کر ان سے عقید ت کا اظہار کیا۔

عمر شریف کے اس فنی سفر کی ابتدا میں ہی انہیں فرقان حیدر کا ساتھ مل گیا، جنہوں نے سٹیج ڈراما ’بائیونک سرونٹ‘ ان سے لکھوایا جس میں عمر شریف نے اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔ یہ عمر شریف کا پہلا کمرشل ڈراما تھا، جس میں انہوں حسب روایت خوب کامیابی سمیٹی۔

اس کے بعد تو جیسے فرقان حیدر اور عمر شریف کی جوڑی بنتی چلی گئی۔ کراچی میں جب تھیٹر ڈراما سجتا، عمر شریف کا نام دیکھ کر ہی تماشائی اسے دیکھنے آتے۔ 70کی دہائی میں عوام کے پاس اس قدر تفریح تو نہیں تھی۔ اسی لیے کراچی کا کاروباری طبقہ سارا دن کے حساب کی جوڑ توڑ کے بعد کچھ پل کھکھلانے کے لیے مختلف تھیٹرز کا رخ کرتا تو وہاں انہیں عمر شریف کی کامیڈی سارے دن کی تھکن بھلا دینے کے لیے کافی ہوتی۔

عمر شریف نے80 کی دہائی میں آڈیو کیسٹ کے ذریعے ’عمر شریف شو‘ کے نام سے سیریز جاری کی، جس کے پہلے ہی حصے نے عوام میں مقبولیت حاصل کر لی، بالخصوص وہ افراد جو تھیٹر کا رخ نہیں کرتے تھے، ان تک عمر شریف کے دلچسپ جملے اور برجستہ کامیڈی پہنچنے لگی۔ عمرشریف کی اس سیریز کی پانچ کیسٹیں آئیں جو ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو گئیں۔

یہ وی سی آر اور وی ایچ ایس کا زمانہ تھا، اس لیے آڈیو کیسٹ سیریز کی کامیابی کے بعد عمر شریف ایک قدم آگے بڑھے اور ان کے ڈراموں کی ریکارڈنگ کرکے اسے ویڈیو کیسٹ بنا کر پیش کیا گیا۔

اس سلسلے میں عید پر آنے والے ’یس سر عید نو سر عید‘ نے شہرت کے سبھی ریکارڈ توڑ دیے۔ اس کے بعد عمر شریف ہر گھر کا حصہ بنتے چلے گئے۔ ایک کے بعد ایک سٹیج ڈرامے کی ویڈیو کیسٹ آتی گئی اور ان کی مزاح کے سلطنت کو اور زیادہ مستحکم کرتی چلی گئی۔

عمر شریف کی اسی مقبولیت اور شہرت کے باعث کراچی کے ویران تھیٹر پھر آباد ہونے لگے۔ عمر شریف صرف پاکستان میں ہی نہیں جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی تھی وہاں مقبول ہوئے۔ بالخصوص بھارت کے کئی نامی گرامی فنکار تو ان کے ڈراموں کے مناظر اور ان کی اداکاری کی نقل کرتے رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلاشبہ عمر شریف وہ فنکار ہیں جنہوں نے ٹی وی میں کام کیے بغیر اپنے چاہنے والوں کی تعداد دنیا بھر میں پھیلائی۔ عمر شریف کا کہنا تھا کہ کیرئیر کی ابتدا میں انہوں نے بڑی کوشش کی کہ پی ٹی وی پر کوئی چھوٹا موٹا کردار مل جائے۔ ایک دو مواقع ملے بھی لیکن پھر یہ کہہ کر ان سے معذرت کر لی جاتی کہ ان کی کامیڈی ٹی وی کی روایات سے مطابقت نہیں رکھتی اورمگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ عمر شریف ہر ٹی وی چینل کی ضرورت بھی بنے۔

اس دور میں عمر شریف پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈراموں اور لائیو شوز ہی میں کام نہیں کیا بلکہ مختلف پروگراموں کی میزبانی بھی کی۔

عمر شریف کی یہی کامیابی انہیں فلموں کی جانب بھی کھینچ کر لے گئی۔ 1986 میں حساب اور خاندان نامی فلموں میں کام کیا لیکن پھر جب 1992میں اپنی ہی ڈائریکشن میں تیار ’مسٹر 420‘ سینیما گھروں میں سجائی تو اپنے مزاحیہ جملوں، دلچسپ کہانی اور موسیقی کی بنا پر اس فلم نے دھوم مچا دی۔ عمر شریف کو ’مسٹر 420‘ پر بہترین اداکار سمیت چار نگار ایوارڈز ملے۔ وہ واحد آرٹسٹ ہیں جنہوں نے ایک ہی سال میں چار نگار ایوارڈ حاصل کیے۔

اس بےمثال پذیرائی کے بعد عمر شریف نے ’مسٹر چارلی،‘ ’مس فتنہ،‘ ’چلتی کا نام گاڑی،‘ ’جھوٹے رئیس،‘ ’بہروپیا،‘ ’چاند بابو،‘ ’کھوٹے سکے‘ اور ’چھپا رستم‘ جیسی بہترین فلموں کا تحفہ اپنے چاہنے والوں کو دیا۔

عمر شریف کے یوں تو کئی سٹیج ڈرامے نے دھوم مچائی البتہ ’بکرا قسطوں پہ‘ ان میں سب سے زیادہ مقبول رہا جس کے پانچ سیزن آئے۔ عمر شریف کے مطابق اس ڈرامے کا پہلا حصہ انہوں نے صرف دو دن میں لکھا تھا۔

ہوا کچھ یوں کہ جو پہلے سے لکھا ہوا ڈراما تھا، اس کے سیاسی مواد کی بنا پر سنسر بورڈ نے مسترد کر دیا۔ جبھی عمر شریف نے جلدی جلدی یہ متبادل ڈراما لکھا۔ جہاں تک اس کے نام کا تعلق ہے تو اس کا آئیڈیا انہیں اخبار میں شائع ہونے والے اشتہار سے آیا، جس میں متوسط طبقے کے لیے قسطوں پر بکرا حاصل کرنے کی پیش کش تھی۔

عمر شریف نے کراچی میں سٹیج کی رونقیں بحال کرنے کے بعد لاہور میں 1993 کا بھی رخ کیا۔ لاہور میں تھیٹر کی توانا روایت موجود تھی، مگر عمر شریف نے وہاں بھی جھنڈے گاڑ دیے۔

تمغۂ امتیاز حاصل کرنے والے عمر شریف عمران خان کے شوکت خانم اسپتال کے فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے دنیا بھر میں مختلف شوز کر چکے ہیں۔ اسی ہسپتال سے متاثر ہو کر انہوں نے اپنی والدہ کی یاد میں بھی خود بھی ایک اسپتال تعمیر کرایا۔

عمرشریف کا فنی سفر پانچ دہائیوں پر مبنی رہا۔ ان کے ڈراموں کی پذیرائی ہی تھی کہ نامور فلمی اور ٹی وی ستارے ہنسی خوشی ان کا حصہ بنتے۔ ان ڈراموں میں جہاں تفریح، مزاح ہوتا وہیں وطن سے محبت اور انسانیت کی خدمت کرنے کا خوبصورت پیغام بھی۔

عمر شریف ان دنوں پانچ کتابیں لکھنے میں مصروف تھے، جن کا موضوع افسانے، شاعری، روحانیت، افسانے اور ان کے سٹیج ڈرامے تھا۔

حال ہی میں جواں سال بیٹی کی وفات پر عمر شریف اندر سے جیسے بجھ سے گئے تھے۔ ہنستے مسکراتے عمر شریف سے ان کی کامیابی کا راز جب معلوم کیا جاتا تو وہ کہتے کہ اللہ پر بھروسہ اور یقین، پھر کامیڈی میں برجستہ مکالمات۔

ان کے مطابق اچھا کامیڈین وہی ہوتا ہے جس کی اچھی ٹائمنگ برجستہ اور بے ساختہ ہو۔ درحقیقت عمر شریف عوامی فنکار تھے، جن کے مکالمے اور انداز زبانِ زد عام و خاص ہوا۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی فن