ناظرین کیسے ڈرامے دیکھنا چاہتے ہیں؟

اس وقت پاکستان میں جس قسم کے ڈرامے چل رہے ہیں، کیا آپ اس سے مطمئن ہیں؟ اس سوال پر مختلف اور دلچسپ تبصرے سننے کو ملے۔

’خدا اور محبت‘ یا پھر ’پری زاد‘ اس وقت یہ دونوں ڈرامے زیادہ تر ناظرین کے دل و دماغ پر چھائے ہوئے ہیں (فوٹو  پری زاد  اور خدا اور محبت آفیشل فیس بک پیج)

شدید بھوک میں کھانے کا پہلا نوالہ جو تسکین یا اطمینان دیتا ہے وہ دوسرا نہیں دیتا۔ ایسا ہی پیاس میں ہوتا ہے، پھر ایک وقت آتا ہے بھوک اور پیاس ختم ہو جاتی ہے۔ اب اس کے بعد بھی اگر یہ عمل جاری ہے تو پھر معدے کے مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔

 آپ ٹیلی ویژن آن کریں ایک سلاٹ میں سب ایک جیسے ہی پروگرام آپ کو دیکھنے کو ملیں گے۔ کوئی جدت نہیں، مواد بھی ایک سا ہی ہوگا بس چہرے بدلے جائیں گے، لیکن ’نظام‘ یعنی پلاٹ وہی کا وہی رہتا ہے۔

اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں، ایک تو مواد کی تخلیق ہی نہیں ہو رہی دوسرا یہ کہ عوام کو بس یہی سب پسند ہے۔

انور مقصود کہتے ہیں: ’میں نے ڈرامے لکھنے اس لیے چھوڑ دیے کہ آج کل ڈرامے ساس بہو تک محدود ہو گئے ہیں اور معاشرہ سازی کو ڈراموں سے نکال دیا گیا ہے۔‘ یعنی وہ کہنا چاہتے ہیں کہ ڈراما حقیقت میں اب ڈراما کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

ان ڈراموں نے ہماری خواتین کے ذہن پر ایسے اثرات مرتب کیے ہیں کہ اب تو لگتا ہے کہ ہر گھر میں معاشقے نمودار ہورہے ہیں۔ کبھی بھابی سے عشق تو کبھی بہنوئی سے دل لگی کے چرچے شروع ہو گئے ہیں۔

حد تو یہ ہے کہ چائے بنا کر نہ دینے سے بات شروع ہوتی ہے اور طلاق تک نوبت جا پہنچتی ہے۔ اس اثر میں شاید ان مڈل کلاس گھروں کی گھریلو خواتین کا بھی دوش نہیں ہے۔

اب انسانی فطرت ہے کہ وہ جس محفل میں ہوتا ہے اسی کا اثر لیتا ہے، سو اب جو خواتین دن بھر انواع و اقسام کے ڈراموں سے اپنی حقیقی زندگی کشید کریں گی، ان پر بھی ویسا ہی اثر ہوگا۔

صرف ٹی وی چینل ہی نہیں، پاکستان میں آئی ایس پی آر پروڈکشنز بھی وقتاً فوقتاً ڈرامے بنا کر ناظرین کے لیے جذبہ حب الوطنی پیدا کرتی ہے۔ اس کی دو وجوہات ہوتی ہیں: ایک تو عسکری اداروں کا ملکی سالمیت و حفاظت میں کردار اور دوسرا جوانوں کو اس طرف راغب کرنا، اس پروڈکشن کے بنائے ہوئے ماضی و حال کے بیشتر ڈرامے کافی مقبول ہوئے ہیں۔

اس وقت پاکستان کی ڈراما انڈسٹری میں جس قسم کے ڈرامے چل رہے ہیں، کیا آپ اس سے مطمئن ہیں؟ جب یہ سوال خواتین و حضرات سے کیا گیا تو ان کے جواب کچھ یوں تھے:

ایک خاتون نے کہا کہ ’ان ڈراموں میں بیہودگی ہے، منفی سوچ اور بے سبب کہانی ہوتی ہے، یہاں تک کہ رائٹر جہاں لکھتے لکھتے تھک جاتا ہے، ڈراما ختم کر دیتا ہے۔‘

دوسری خاتون نے جواب دیا کہ ان ڈراموں میں خاندانی نظام کو توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے اور گھریلو جھگڑوں کو ہی فروغ دیا جاتا ہے۔ ایک اور لڑکی کا کہنا تھا کہ ایک گھر کی کہانی سے پورے معاشرے کی عکاسی نہیں کی جاسکتی۔ بہو اور ساس اچھی بھی ہوسکتی ہیں اور ہوتی ہیں۔

کچھ دیگر خواتین کا کہنا تھا کہ سارا دن گھر میں رہنا ہوتا ہے، کام کاج کرنا ہوتا ہے، شام میں اگر تفریح کے لیے ڈرامے دیکھ لیتے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے، وقت اچھا گزر جاتا ہے۔

جیسا کہ پاکستان میں آج کل مرد، جس میں بڑی تعداد جوانوں کی ہے، ترک ڈراموں کی جانب متوجہ ہیں یا پھر انگریزی شوز دیکھ کر اپنا فارغ وقت گزار رہے ہیں۔

ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں کچھ اس طرح کا سوال پیش کیا گیا: لڑکا انجان لڑکی کو دیکھ کر سب سے پہلے کون سا جملہ کہتا ہے؟ آپشن تھے، آپ کو پہلے بھی کہیں دیکھا ہے؟ ماشاء اللہ، ہیلو، اُف کیا بچی ہے!

ان سب آپشنز پر اور تو میں کچھ نہ کہہ پایا، بس اتنا کہا کہ ایک اور آپشن ایڈ کر لیتے (ان شاءاللہ) تو مثبت امید کا پہلو بھی آ جاتا اور اسلامی معاشرے سے دوری بھی نہ ہو پاتی، ویسے بھی نا امیدی کفر ہے!

اب جب ٹی وی پروگراموں میں یہ سب کچھ سکھایا جائے گا تو آپ کے مطابق آئندہ نسل کیا سبق لے گی؟ پڑھے لکھے لوگ ایسے ہی الفاظ دُہرائیں گے جبکہ عوام کن الفاظ کا چناؤ کرے گی، وہ لکھنے سے بھی قاصر ہوں۔

لیکن اس کے برعکس کچھ ڈرامے ایسے بھی چل رہے ہیں جن سے نہ صرف پاکستان میں بلکہ سرحد پار کے ناظرین بھی اتنہائی دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ’خدا اور محبت‘ یا پھر ’پری زاد‘ اس وقت یہ دونوں ڈرامے زیادہ تر ناظرین کے دل و دماغ پر چھائے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک میں تو وہی محبت کا پہلو دکھایا گیا ہے جبکہ دوسرے ڈرامے میں ایک لوئر مڈل کلاس، گہری رنگت کے نوجوان کو دکھایا گیا ہے کہ اسے زندگی میں کیا کیا مشکلات درپیش آتی ہیں اور زندگی کے ہر زینے پر کن حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔

ایک اور چیز ان ڈراموں کے مکالمے ہیں جو دیکھنے والوں کے ذہنوں پر نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ ’پری زاد‘ سے دو مکالمے پیش خدمت ہیں:

’موت کے بعد تکلیف اور اذیت دونوں ہی ختم ہو جاتے ہیں۔‘

اور دوسرا ہے: ’مالک، مجھے گوارا نہیں تھا کہ آپ کے ذاتی گارڈز یا عملے کے سامنے آپ کی غیرت یا عزت پر حرف آئے۔‘

یہ الفاظ یقیناً بہترین ذہن کی عکاسی کرتے ہیں اور معاشرے میں نچلے درمیانی طبقے کے خیالات بھی اس سے واضح ہوتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ