بھارتی فوج کے مطالبے غیر معقول اور غیر حقیقت پسندانہ ہیں: چین

بھارتی اور چینی افواج کے کمانڈروں نے اتوار کو متنازع سرحد سے فوجیوں کو ہٹانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

17 جون 2020 کی اس تصویر میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکار گگن گیر کے علاقے میں چین کی سرحد سے ملحق علاقے لیہہ کی طرف جانے والی ایک شاہراہ پر تعینات ہیں (فائل فوٹو: اےایف پی)

بھارتی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ ان کے اور چینی فوج کے کمانڈروں نے اپنی متنازع سرحد سے فوجیوں کو ہٹانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا ہے تاکہ 17 ماہ سے جاری کشیدگی کو کم کیا جاسکے، جو بعض اوقات مہلک جھڑپوں کا باعث بنتی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق بھارتی فوج کے ترجمان کرنل سدھیر چمولی نے بتایا کہ کمانڈروں نے لداخ میں چینی علاقے مالڈو میں دو ماہ کے وقفے کے بعد اتوار کو ملاقات کی۔ اس حوالے سے فوری طور پر مزید تفصیلات دستیاب نہیں ہوئیں۔

دوسری جانب چینی فوج کے ترجمان کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے ایک تحریری بیان میں کہا گیا کہ ’بھارتی فوج غیر معقول اور غیر حقیقت پسندانہ مطالبات پر قائم ہے، جس سے مذاکرات میں مشکلات بڑھیں گی۔‘

رواں برس فروری کے بعد سے بھارت اور چین نے اپنی سرحد کے شمالی اور جنوبی حصوں پر پینگونگ سو، گوگرا اور وادی گلوان سے اپنے اپنے فوجیوں کو واپس بلا لیا ہے، لیکن دونوں ہی ممالک نے سرحدوں پر فوج کی اضافی نفری تعینات کر رکھی ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ڈیم چوک اور دیپسانگ کے میدانی علاقوں میں بھی اضافی فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔

مسسل جاری اس کشیدگی کے دوران دونوں فریق لداخ کے آگے کے علاقوں میں مسلسل دوسرے موسم سرما میں جما دینے والی سردی میں فوجیوں کی تعیناتی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

یہ مذاکرات بھارتی فوج کے سربراہ کی جانب سے دیے گئے اس بیان کے بعد ہوئے، جس میں انہوں نے چینی فوج کی طرف سے بڑے پیمانے پر فوجیوں اور ہتھیاروں کی تعیناتی پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

جنرل ایم ایم نروانے نے ہفتے کو کہا تھا: ’ہاں، یہ تشویش کی بات ہے کہ بڑے پیمانے پر تعیناتی ہوچکی ہے اور مزید بھی جاری ہے اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے چین کی جانب سے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا سلسلہ بھی جاری ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا تھا: ’تو، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ (چین) وہاں موجود رہیں گے۔ ہم ان تمام پیش رفتوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ، لیکن اگر وہ وہاں موجود رہیں گے تو ہم بھی وہاں اپنی موجودگی برقرار رکھیں گے۔‘

دوسری جانب چین کی ویسٹرن تھیٹر کمانڈ کے سینیئر کرنل لانگ شاؤوا کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ’چین کا اپنی خودمختاری کی حفاظت کا عزم غیر متزلزل ہے اور چین کو امید ہے کہ بھارت اس صورت حال کو غلط نہیں سمجھے گا۔‘

جنوری کے مہینے میں لداخ کے آگے کے علاقوں میں درجہ حرارت منفی 30 ڈگری سیلسیئس تک آ جاتا ہے، لہذا دونوں اطراف کے فوجی اس وقت موسم گرما کی اپنی روایتی پوزیشنوں پر پیچھے ہٹ جاتے تھے، لیکن پچھلے سال مئی میں ہونے والی کشیدگی کے بعد سے وہ اس موسم میں متنازع سرحد کے قریب رہتے ہیں۔

بھارت اور چین نے اپنی متنازع سرحد جسے لائن آف ایکچول کنٹرول کہا جاتا ہے، پر ٹینکوں اور لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ ہزاروں فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔ گذشتہ برس 20 بھارتی فوجی اس سرحد پر چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے تھے جبکہ چین نے کہا کہ اس کے چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے قبل بھارت اور چین کے درمیان 1962 میں بھی ایک مہلک جنگ ہوچکی ہے۔

گذشتہ برس کشیدگی شروع ہونے کے بعد سے، چین مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے ساتھ موسم سرما کے دوران اپنی افواج کے قیام کے لیے درجنوں بڑے ڈھانچے تعمیر کر رہا ہے جبکہ بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اس میں نئے ہیلی پیڈ، نئی بیرکس، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی نئی سائٹس اور ریڈار لوکیشنز بھی شامل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا