عراق اور شام سے عسکریت پسند افغانستان آرہے ہیں: روس

روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا: ’افغانستان کی صورت حال آسان نہیں ہے اور عراق اور شام سے عسکری کارروائیوں کا تجربہ رکھنے والے شدت پسندوں کو فعال طور پر وہاں بھیجا جا رہا ہے۔‘

روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ عراق اور شام سے شدت پسند افغانستان میں ’فعال طور پر‘ داخل ہو رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پوتن نے سابق سوویت ریاستوں کی سکیورٹی سروس کے سربراہوں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے دوران کہا: ’افغانستان کی صورت حال آسان نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’عراق اور شام سے عسکری کارروائیوں کا تجربہ رکھنے والے شدت پسندوں کو فعال طور پر وہاں بھیجا جا رہا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ممکن ہے کہ دہشت گرد پڑوسی ریاستوں میں صورت حال کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کریں اور وہ ’براہ راست پھیلاؤ‘ کی بھی کوشش کریں۔

پوتن بارہا شدت پسند گروہوں کی جانب سے افغانستان میں سیاسی انتشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پڑوسی سابق سوویت ممالک میں بطور پناہ گزین داخلے کے خطرے سے متعلق انتباہ کرچکے ہیں۔

اگرچہ ماسکو کابل میں طالبان کی نئی قیادت کے بارے میں محتاط طور پر پُرامید رہا ہے ، تاہم روس کو وسطی ایشیا میں عدم استحکام کے بارے میں تشویش ہے جہاں اس کے فوجی اڈے ہیں۔

طالبان کے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد، روس نے سابق سوویت ریاست تاجکستان، جہاں اس کا ایک فوجی اڈہ موجود ہے، اور ازبکستان کے ساتھ فوجی مشقیں کیں۔ دونوں ممالک کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاجکستان کے قومی سلامتی کے سربراہ سیمومین یاتیموف نے ویڈیو کانفرنس میں بتایا کہ افغانستان سے ان کے ملک میں ’منشیات، ہتھیار اور گولہ بارود‘ سمگل کرنے کی کوششوں میں ’شدت‘ آئی ہے۔

افغانستان طویل عرصے سے افیون اور ہیروئن پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک رہا ہے، جس کی غیر قانونی تجارت سے حاصل ہونے والا منافعے سے طالبان کو فنڈز فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اس سے قبل بدھ کو فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے تاجکستان کے رہنما امام علی رحمٰن کی پیرس میں میزبانی کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وسطی ایشیائی ریاست کو استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

اگرچہ طالبان نے کہا ہے کہ وسطی ایشیائی ممالک کو ان سے کوئی خطرہ نہیں ہے، تاہم اس خطے میں سابق سوویت ریاستوں کو اس سے قبل افغان میں سرگرم عسکریت پسندوں کے حامیوں کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے افغانستان کے لیے روس کے سفیر ضمیر کابلوف نے کہا تھا کہ روس 20 اکتوبر کو افغانستان پر ہونے والے بین الاقوامی مذاکرات کے لیے طالبان کو ماسکو مدعو کرے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا