نور مقدم قتل کیس: ’والد نے مجھے کہا تھا کہ اُس سے جان چھڑاؤ‘

جب چارج شیٹ ملزمان کو دی گئی تو سب نے دستخط کیے لیکن ذاکر جعفر اور عصمت جعفر نے چارج شیٹ پر دستخط کرنےسے انکار کر دیا۔

نور مقدم کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر(تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

نور مقدم قتل کیس میں ملزمان پر جمعرات کو فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کے دوران مرکزی ملزم ظاہر جعفر اقرار جرم کرکے عدالت میں رونے لگ گئے۔ روتے ہوئے جج سے کہا کہ ’میں جیل میں مرنا نہیں چاہتا میری زندگی آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ مجھے پھانسی دیں دے میں ایسے جیل میں نہیں رہنا چاہتا۔‘

ظاہر جعفر نے کہا کہ ’میرے پاس کوئی چوائس نہیں تھی ہاں میں نے اعتراف جرم کیا تھا۔ میرے ہاتھ سے یہ سرزد ہوا آپ نے سزا دینی ہے یا معافی؟‘

جمعرات کو سوا گیارہ بجے نور مقدم قتل کیس کی سماعت شروع ہوئی۔ گذشتہ سماعتوں پر ملزمان ہمیشہ روسٹرم سے ہٹ کر کھڑے کیے جاتےتھے آگے وکیل کھڑے ہوتے تھے۔ لیکن آج کی سماعت میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر روسڑم پہ آ کر کھڑے ہوئے اور بولنا شروع کر دیا۔ ڈھائی تین گھنٹے کی سماعت میں ظاہر جعفر مسلسل دلائل کے درمیان بولتے رہے۔

ایک وقت ایسا آیا کہ وہ روسڑم کے قریب نیچے بیٹھ گئے۔ اور بھرائی ہوئی آواز میں کہنا شروع ہو گئے کہ ’میں جیل میں نہیں رہنا چاہتا میں ایسے مرنا بھی نہیں چاہتا۔‘ پھر کہنے لگ گئے کہ ’ پستول میرے والد کا تھا لیکن اُن کا اس میں قصور نہیں ہے۔‘

ظاہر جعفر نے عدالت سے کہا کہ ’مجھے گھر میں قید کر دیں۔ جیل میں مجھے مارتے ہیں۔ میری بھی شادی ہونی چاہیں بچے ہونے چاہیں۔‘

اسی اثنا میں نور مقدم کے والد جو چھوٹے سے کمرہ عدالت میں ظاہر جعفر سے قدرے فاصلے پر کھڑے تھے اُن کو ظاہر جعفر کہنے لگے کہ ’ہم لڑے تھے میری غلطی تھی لیکن نور بھی غصے میں تھی۔ میں اورآپ کی بیٹی ایک دوسرے سے پیار کرتے تھے۔ تین سال ہم تعلق میں رہے۔‘

ظاہر جعفر نے شوکت مقدم کو دیکھتے ہوئے گرگڑاتے ہوئے کہا کہ ’میری زندگی آپ کے ہاتھ میں ہے آپ ہی مجھے بچا سکتے ہیں۔ آپ اگر میری زندگی لینا چاہتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘

شوکت مقدم ہاتھ سے نہیں کا اشارہ کرتے رہے اور انہوں نے ملزم کی اس گریہ و آوازاری پہ توجہ نہیں دی اور دھیمے سے کہا کہ ’یہ جھوٹ بول رہا ہے۔‘

ظاہر جعفر کی بارہا مداخلت اور مسلسل بولنے پر جج عطا ربانی نے کمرہ عدالت میں موجود پولیس اہلکاروں سےکہا کہ اسے پیچھے لے جائیں لیکن ظاہر جعفر اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئے تو پولیس اہلکار بھی پیچھے ہٹ گئے۔

عدالت نے وکیل سے کہا کہ آپ اپنے دلائل جاری رکھیں۔

جمعرات کے دن ہونے والی سماعت میں عدالت میں مدعی مقدمہ شوکت مقدم اور مدعی کے وکیل شاہ خاورموجود تھے۔

ملزمان کی جانب سے رضوان عباسی ایڈوکیٹ کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ ’میں ملزمان کا وکیل ہوں۔‘ تو ظاہر جعفر بول پڑے کہ یہ میرا دفاع کیسے کر سکتے ہیں یہ تو میرے وکیل نہیں ہیں۔ مجھے بولنے کا موقع دیا جائے۔ اس پر رضوان عباسی نے کہا ’جی میں آپ کا نہیں بلکہ ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کا وکیل ہوں اور اُن کا دفاع کر رہا ہوں۔‘

 انہوں نے کہا کہ ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لئے شواہد ناکافی ہیں۔ دوران دلائل ظاہر جعفر نے اقرار کیا کہ ’مجھ سے جو ہوا غلط ہوا ہے۔‘

انہوں نے انگریزی میں کہا کہ ’جج صاحب پلیز میری طرف دیکھیں میں جیل کی سلاخوں میں زندگی نہیں گزارنا نہیں چاہتا۔‘

ظاہر جعفر نے یہ بھی کہا کہ ’میں ایک فون کال کرنا چاہتا ہوں مجھے اجازت دیں۔ میں مدد کے لئے کال کرناچاہتا ہوں۔‘

 پھر اپنے ارد گرد کھڑے ملازمین کو دیکھ کر کہا کہ ’میرے ساتھ کھڑے ملزمان نے اس کو مارا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملزم کی باتوں میں ربط نہیں تھا۔ پھر کہا کہ ’میرے ہاتھ سے ہوا تھا ہاں میں مانتا ہوں سزا دینی ہے یا معافی دینی ہے میرے ساتھ کیا کریں گے جج صاحب آپ چارج لگا رہے ہیں یا نہیں؟‘

جب عدالت میں شواہد دکھائے گئے جن میں پستول بھی تھا۔  پستول دیکھ کر ظاہر جعفر نے کہا کہ ’یہ تو میرےوالد کا پستول ہے۔‘

 پھر بڑبڑاتے ہوئے کہا کہ میرے والد نے مجھے کہا تھا کہ اُس سے جان چھڑاؤ۔

اسی دوران ظاہر جعفر نے کمرہ عدالت میں موجود اپنے والد اور چچا سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے ظاہر جعفر کو شٹ اپ کہہ دیا۔ ظاہر جعفر ایسی ہی حرکتیں کمرہ عدالت میں کرتے رہے۔ پھر اپنی والدہ جو پیچھے بیٹھیں تھیں اُن سے کچھ کہنا چاہا تو انہوں نے انگلی کے اشارے سے منع کر دیا۔

ملزمان پر فرد جرم عائد ہو گئی

تین گھنٹے کی سماعت کے بعد عدالت نے بالآخر مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت 12ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔

 جج عطا الرحمن نے فرد جرم عائد کی اور ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔ جب چارج شیٹ ملزمان کو دی گئی تو سب نے دستخط کیے لیکن ذاکر جعفر اور عصمت جعفر نے چارج شیٹ پر دستخط کرنےسے انکار کر دیا۔

مرکزی ملزم ظاہر جعفر، ذاکر جعفر، عصمت آدم، افتخار، اُن کے ملازمین جمیل، جان محمد اس کے علاوہ تھیراپی ورکس کے طاہر ظہور سمیت چھ ملزمان پر بھی فرد جرم عائد ہو گئی۔

 عدالت نے استغاثہ کے گواہ 20 اکتوبرکو طلب کر لیے۔

 ہائی کورٹ کے حکم پر دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کے حکم پر عمل در آمد کا آغاز ہو گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان