’لاپتہ اراکین اسمبلی‘، ڈٹے وزیراعلیٰ: بلوچستان کا سیاسی بحران

بلوچستان میں سیاسی بحران بدستور جاری ہے اور لاپتہ ارکان اسمبلی کے الزامات طول پکڑ رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ جام کمال کی قسمت کا فیصلہ 25 اکتوبر کی صبح ہونے والے اسمبلی کے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے ذریعے ہوگا(جام کمال/ٹوئٹر)

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف صوبائی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش ہونے اور اس کے حق میں 33 ارکان کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود سیاسی بحران جاری ہے۔

بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے پارلیمانی لیڈر اور جام کمال کے سیاسی مخالف ظہور بلیدی نے کہا کہ بدھ کو انہوں نے وزیر اعلیٰ کے خلاف اسمبلی اجلاس میں اکثریت ثابت کر دی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہمارے چار لوگوں کو لاپتہ کیا گیا لیکن ہم اپنے موقف پر ڈٹے ہیں۔ لاپتہ ارکان کی ٹویٹس آنے کے بعد ہم ان کے گھروں پر گئے لیکن وہ اپنے گھروں پر موجود نہیں تھے۔‘

تاہم جام کمال ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

بلوچستان کا سیاسی بحران گذشتہ ماہ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی جانب سے وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے سے شروع ہوا۔

اس کا نتیجہ جام کمال کے اپنے پارٹی ارکان کی جانب سے پیش ہونے والی تحریک عدم اعتماد کی صورت میں سامنے آیا۔ 

اس تحریک کو گورنر بلوچستان نے اعتراض لگا کر واپس کردیا گیا تھا جس پر اپوزیشن ارکان نے کوئی اقدام نہیں کیا بلکہ درپردہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض ارکان کو ساتھ ملا کر اکتوبر میں دوبارہ تحریک عدم اعتماد کی قرارداد جمع کرا دی۔ 

 معاملہ اس وقت بگڑ گیا جب حکمران جماعت باپ اور جام کمال سے اختلاف رکھنے والے ان کی جماعت کے ہی لوگوں نے منظر عام پر آکر مخالفت شروع کردی۔ 

جام کمال ابتدا میں کہتے رہے کہ ناراض ارکان کے معمولی مسائل ہیں، جن کو بیٹھ کر حل کرلیں گے۔

اس دوران کبھی بلوچستان میں جام کمال اور ناراض ارکان ملاقاتیں کرتے نظر آئے تو کبھی چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کوئٹہ کا دورے کرتے رہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق جام کمال کی مخالفین میں سے ایک چیئرمین سینیٹ بھی ہیں، جنہوں نے مبینہ طور پر مخالفین کو منانے کی بجائے ان کی مدد اور راستہ ہموار کرنے میں مدد کی۔ 

بشریٰ رند اور جام کمال کے دیگر قریبی سیاسی ساتھیوں کی مخالفت نے دیگر کو بھی بلوچستان عوامی پارٹی میں داخل ہونے کا راستہ دکھایا اور ناراض ارکان کے ساتھ اپوزیشن والے بھی جام مخالف مہم چلاتے نظر آئے۔ 

 یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ جام کمال اور ان کی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی اس کو پی ڈی ایم اور اپوزیشن کی سازش قرار دیتے ہیں۔ 

معاملات جب کوئٹہ میں حل نہ ہوسکے تو ناراض ارکان اور وزیراعلیٰ جام کمال نے اسلام آباد کا رخ کرلیا۔

 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ناراض اراکین کے لیے چیئرمین سینیٹ مبینہ طور پر کام کرتے رہے اور جام کمال نے وزیراعظم سے ملاقات کرکے مدد طلب کی لیکن وزیراعظم نے انہیں معاملہ ان کی جماعت کا اندرونی مسئلہ قرار دے کر معذرت کرلی۔ 

ناراض ارکان اس دورے کے دوران اسلام آباد میں سیاسی قیادت کو اس تمام معاملے میں عدم مداخلت پر قائل کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اکثریت میں سامنے آئیں ان کی حمایت کی جائے۔ 

ناراض ارکان کی طرف سے وزیراعلیٰ کو اعتماد کھونے اور اکثریت حاصل نہ ہونے پر مستعفیٰ ہونے کا مشورہ اور مہلت بھی دی گئی۔ لیکن انہوں نے جواباً اس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی صورت حال میں چاہے وہ تحریک عدم اعتماد ہو سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ 

الٹی میٹم پورا ہونے پر جام کمال کے خلاف ان کی جماعت سمیت 14 ارکان اسمبلی نے بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی، جس پر گورنر بلوچستان نے اجلاس 20 اکتوبر کو طلب کرلیا۔ 

اسمبلی اجلاس کے دوران جب تحریک عدم اعتماد کی قرار داد پیش کی گئی اور اس کی حمایت میں صرف 33 ارکان موجود تھے۔ 65 ارکان کی اسمبلی میں یہ مطلوبہ تعداد بھی ہے۔ 

تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرنے والے ارکان، جو حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھتے، نے الزام لگایا کہ ان کے پانچ ارکان لاپتہ ہیں، جن میں سے ایک رکن لالہ رشید بعد میں اسمبلی پہنچ گئے تھے۔ 

تحریک پیش کرنے والے رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے الزام عائد کیا کہ ’ہمارے حمایتی ارکان کو وزیراعلیٰ جام کمال نے لاپتہ کردیا ہے۔‘ 

یہ معاملہ اجلاس کے بعد بھی ختم نہیں ہوا۔ ناراض اراکین نے اجلاس کے بعد اسمبلی میں بیٹھنے اور اپنے لاپتہ ارکان کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ 

اس حوالے سے ناراض ارکان اور اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس گذشتہ روز ہوا جس میں اس تمام صورت حال پر غور کیا گیا۔

اس حوالے سے بلوچستان عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ظہور بلیدی نے کہا کہ ’جام کمال کے ہتھکنڈوں کی وجہ سے گھر میں محصور ہو گئے ہیں۔‘ 

انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد میں ہمارے 34 ارکان موجود تھے۔ ہماری تین خواتین اور ایک مرد رکن اکبر آسکانی لاپتہ ہیں، جن کے اہل خانہ بہت پریشان ہیں۔ 

 ظہور بلیدی کے مطابق: ’اس تمام صورت حال پر اجلاس میں بحث کے بعد ہم نے ڈٹے رہنے کا فیصلہ کیا ہے، غیر جمہوری رویہ اپنایا گیا ہے، ادارے کردار ادا کریں۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ارکان کے لاپتہ ہونے کے بعد سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو کے گھر میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

بدھ کو ہونے والی صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں ’مسنگ پرسنز‘ کی بازگشت سنائی دی۔

تحریک عدم اعتماد پیش کرنے والے اراکین نے اپنے پانچ ارکان کو ’مسنگ‘ قرار دیا، جن میں سے ایک بعد میں اجلاس میں حاضر ہوگیا۔ چار آخر تک اجلاس میں شریک نہ ہوسکے۔ 

روایتی بلوچی شلوار قمیض اور واسکٹ کے ساتھ بلوچی ٹوپی پہنے وزیراعلیٰ جام کمال اجلاس کے دوران ایسے نظر آئے جیسے تحریک عدم اعتماد ان کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔  

اسمبلی کے اجلاس سے قبل میڈیا سے بات چیت کے دوران ان کے لہجے سے نہیں لگا کہ انہیں تحریک عدم اعتماد سے کوئی خطرہ ہے بلکہ انہوں نے کہا کہ سپیکر کو قرارداد پر ووٹنگ کے لیے الگ دن مقرر کرنا چاہیے۔ 

وزیراعلیٰ جام کمال نے اجلاس کے دوران اپنے خطاب کے دوران سابق وزیر خزانہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک بار ان کی ایوان میں غیر موجودگی کا تذکرہ کیا۔ تاہم بعد میں وہ موجود رہے۔ 

جام کمال نے اپنے خطاب میں واضح کردیا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ ’تحریک عدم اعتماد کے پیش ہونے کے بعد میں استعفیٰ دے دوں گا تو ایسا نہیں ہوگا۔ اگر مجھے ایوان سے دو ووٹ ملے تو میں مقابلہ کروں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پہلے ناراض بلوچ تھے اب ناراض ایم پی ایز بھی آگئے اور دوسری طرف ایم پی ایز کے نام کے آگے لاپتہ بھی لگا دیا گیا۔‘ 

اس دوران سپیکر اسمبلی نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ممبران کو غیر حاضر کیا گیا، جس پر جام کمال نے کہا کہ بغیر تحقیقات کے ایسی باتیں چیئر سے جانا ٹھیک نہیں۔ سپیکر نے جواب دیا کہ میں تحقیقات کے بعد بات کر رہا ہوں۔ 

دوسری طرف لاپتہ مبینہ طور پر ایم پی ایز میں سے ایک بشریٰ رند نے بعد میں ٹویٹ میں بتایا کہ وہ علاج کے لیے اسلام آباد میں ہیں۔  

اس پر جام کمال نے جواباً ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس قدر افسوس کی بات ہے کہ پہلے ہی پی ڈی ایم نے الزام لگایا کہ باپ کے ممبر لاپتہ ہیں اور ایک بار جب وہ اسمبلی میں واپس آئے تو انہوں نے ایک اور الزام لگایا کہ باپ کی خواتین لاپتہ ہیں۔ 

 وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’ان کے تمام جھوٹ اور الزامات کا کوئی جواب نہیں، خدارا یہ جھوٹ اور منفی پروپیگنڈا بند کریں۔‘ 

وزیر اعلیٰ جام کمال کی قسمت کا فیصلہ 25 اکتوبر کی صبح ہونے والے اسمبلی کے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے ذریعے ہوگا۔

صورت حال میں آئے روز ہونے والی تبدیلی پر وزیراعلیٰ جام کمال نے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔

جام کمال نے کہا: ’جیسا کہ گذشتہ ایک مہینے میں آپ نے دیکھا ہوگا بلوچستان عوامی پارٹی، بلوچستان کی حکومت کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کیا گیا۔‘  

انہوں نے اعتراف کیا کہ سیاسی مسائل موجود ہیں لیکن مخالفین کی طرف سے سوشل میڈیا پر جو خبریں چلائی گئیں جس میں وفاداری تبدیل کرنے کے علاوہ وزیراعظم عمران کی کوئٹہ آمد کی خبریں چلانا انتہائی غیر مناسب طریقہ ہے۔ 
 
انہوں نے کہا کہ جب تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں پیش ہوئی تو کہا گیا کہ کچھ اراکین اسمبلی لاپتہ ہیں، کوئی اپنی مرضی سے نہیں آتا تو ان پر لاپتہ ہونے کا الزام لگایا جائے؟‘ 

جام کمال نے کہا کہ اب تو جن خواتین کو انہوں نے لاپتہ کہا ہے ان میں سے بشریٰ رند کی ٹویٹ آچکی ہے کہ وہ علاج کے لیے اسلام آباد میں ہیں۔ 

دوسری طرف انہوں نے پارلیمانی لیڈر کی تبدیلی کے لیے جو درخواست اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی ہے، اس پر ان اراکین کے دستخط بھی موجود ہیں جن کو یہ لوگ لاپتہ کہہ رہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا ’یہ عجیب طریقہ ہے۔ جو ظہور بلیدی اور اس کے ساتھی اپنائے ہوئے ہیں۔ سیاست کے بھی کچھ اصول ہوتےہیں۔ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ جھوٹ پر اپنی سیاست کی بنیاد رکھی ‘

جام کمال نے کہا کہ اگر ان لوگوں کو اپنے ساتھیوں پر اعتماد ہے تو وہ 25 اکتوبر کا انتظار کریں جب سب کچھ واضح ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے والے ارکان اسمبلی نے آئی جی پولیس بلوچستان کو درخواست دی ہے, جس میں انہوں نے اپنے چار اراکن اسملبی تین خواتین اور ایک مرد کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے خط میں لکھاکہ 20اکتوبر کے اجلاس میں ان ارکان نے حاضر ہو کر تحریک عدم اعتماد میں شامل ہونا تھا، ’لیکن وزیراعلیٰ جام کمال نے ان کو حبس بےجا میں رکھا ہے، جو قابل مواخذہ جرم ہے۔‘

انہوں نے استدعا کی کہ ان کے لاپتہ ساتھی اراکین اسمبلی کو بازیاب کرایا جائے۔

سیاسی تجزیہ کار رشید بلوچ سمجھتےہیں کہ اصولاً وزیراعلیٰ جام کمال کو اسمبلی کا اعتماد حاصل نہیں رہا لیکن وہ ووٹنگ تک استعفیٰ نہ دینے کی بات اس لیے کررہے کہ شاید کوئی غیبی مدد مل جائے اور وہ اپنی کرسی بچا سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست