سوڈان میں ’فوجی بغاوت‘: وزیر اعظم زیر حراست، عوام سڑکوں پر

سوڈان کی وزارت اطلاعات نے فیس بک پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ افواج نے حکومتی کونسل کے سویلین اراکین اور وزرا کو بھی حراست میں رکھا ہوا ہے۔

افریقہ کے ملک سوڈان کی وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ ملک کی افواج نے وزیراعظم کو ’فوجی بغاوت‘ کی حمایت نہ کرنے پر حراست میں رکھا ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، سول اور فوجی اداروں کے درمیان ہفتوں سے جاری تناؤ کے بعد صورت حال اس نہج تک جا پہنچی ہے، جو کہ اپریل 2019 میں آمر عمر البشیر کے اقتدار سے نکالے جانے کے بعد سے پہلا واقعہ ہے۔

وزارت اطلاعات نے فیس بک پر جاری ایک بیان میں کہا کہ افواج نے سوڈان کی حکومتی کونسل کے سویلین اراکین اور وزرا کو بھی حراست میں رکھا ہوا ہے۔ ’بغاوت کی حمایت نہ کرنے پر آرمی فورس نے وزیراعظم عبداللہ حمدوک کو حراست میں لے کر ایک نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔‘

پیغام میں یہ بھی بتایا گیا کہ انٹرنیٹ سروسز کو بھی معطل کردیا گیا ہے اور دارالحکومت خرطوم سے منسلک پل اور سڑکیں بھی بند کردی گئیں ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فوجی بغاوت پر شہری مشتعل ہو کر سڑکوں پر نکل آئے اور ٹائر جلائے۔

سوڈان سے آنے والی اطلاعات پر بین الاقوامی برادری کا ردعمل بھی سامنے آنا شروع ہوگیا ہے۔ 

امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے قرن افریقہ جیفری فیلٹ مین نے ایک بیان میں کہا: ’امریکہ کو عبوری حکومت پر فوجی قبضے کی خبروں پر گہری تشویش ہے۔‘

ٹوئٹر پر ایک بیان میں انہوں نے مزید کہا: ’یہ آئینی ڈکلیریشن کے خلاف ہے [جوعبوری نظام کو واضح کرتی ہے] اور سوڈانی عوام کی جمہوری روایات کے بھی۔‘ 

ان کے مطابق: ’عبوری حکومت میں کوئی بھی جبری تبدیلی امریکی معاونت کے لیے خطرناک ہے۔‘

اس سال ستمبر 21 کی بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد اکتوبر میں ٹینشن ایک بار پھر زور پکڑ گئی اوراختلافات بڑھنے لگ گئے۔ گذشتہ ہفتے ہزاروں کی تعداد میں سوڈانی مختلف شہروں میں سڑکوں پر آگئے اور یہ مطالبہ کیا کہ طاقت کا اختیار سویلینز کے پاس ہو۔
اس کا ایک اور مقصد صدارتی محل کے سامنے ہونے والے مظاہرے کی مخالفت کرنا تھا جن کا مطالبہ ’ملٹری‘ حکومت کی واپسی تھا۔
ہفتے کے روز حمدوک نے کابینہ میں تبدیلیوں کی افواہ کو جھٹلاتے ہوئے کہا کہ ایسے خبریں ’صحیح نہیں ہیں‘۔

سوڈان میں طاقت میں کون ہے؟
سوڈان میں جمہوریت کی طرف منتقلی ایک عوامی بغاوت اور صدر عمر البشیر کے نکالے جانے کے بعد 2019 سے جاری ہے۔

عمر البشیر نے تین دہائیوں تک حکومت کی مگر ان کو مغرب میں غیر مقبولیت کا سامنا تھا۔
اگست 2019 کے معاہدے کے تحت، سوڈانی فوج ذمہ دار ہے کہ سویلین پولیٹیکل گروپس کی طرف سے قائم شدہ ساورین کاونسل یا خود مختار کاونسل کے منتخب عہدیداروں کے ساتھ مل کر حکومت کرے اور 2023 تک ملک کو انتخابات کی طرف لے کر جائے۔

بغاوت کی مخالفت میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر آکر سویلین جمہوریت مظاہرہ کیا اور خرطوم میں فوجی ہیڈکوارٹر کے قریب گن فائر کا سامنا کیا۔

خبر رساں ادارے روئیٹرز کے مطابق، وزارت اطلاعات نے ایک بیان میں کہا کہ سوڈانی عوام کو ہدایت کی گئی ہے ’کہ وہ ملٹری کی جمہوریت مخالف کوششوں کے آگے ڈٹ جائیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی افریقہ