نسلہ ٹاور: چند سوالات

چائنا کٹنگ کراچی کا بلا شبہ سنگین مسئلہ ہے لیکن کیا کوئی اس حقیقت سے انکار کرسکتا ہے کہ جب کئی عشروں سے یہ چائنا کٹنگ ہو رہی تھی تو اس وقت ملک کے نظام قانون کی بھی چائنا کٹنگ ہو چکی تھی۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ شہر کے وسط میں قبضہ کر کے عمارات تعمیر کر کے انہیں فروخت کیا جاتا رہا اور کسی  ادارے کو خبر نہیں ہو سکی؟ (تصویر: امر گرڑو)

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں:


سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ کراچی میں واقع نسلہ ٹاور کو ایک ہفتے کے اندر اندر گرا دیا جائے۔ اس معاملے کی قانونی نوعیت تو یقیناً وہی ہوگی جو معزز عدالت نے طے کردی۔ البتہ کچھ سوالات قانون سے ہٹ کر بھی ہیں۔ یہ سوال سماجیات اور عمرانیات سے متعلق ہیں جو معاشرے اور پارلیمان کی توجہ چاہتے ہیں۔

نسلہ ٹاور ناجائز تھا، گرا دیا جائے گا۔ یہ قانونی پہلو ہے۔ سماجی اور عمرانی پہلو یہ ہے کہ اس ٹاور میں کچھ ہنستے بستے خاندان بھی رہ رہے ہیں جنہوں نے اپنی جائز کمائی سے جائز طریقے سے ادائیگی کرکے یہاں اپنے لیے رہائش خریدی۔ دو دن بعد ان کے گھروں کی بجلی اور گیس کاٹ دی جائے گی اور سات دن کے بعد ان کے گھر زمین بوس ہو جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ ان خاندانوں پر کیا بیتے گی اور انہیں یہ سزا کس جرم میں ملے گی؟

اسی سوال سے پھر یہ بحث جنم لیتی ہے کہ شہریوں اور ریاست کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟ ریاست اپنے شہریوں پر محض قانون کا اطلاق کرتی ہے یا ریاست ایک ماں کی طرح اپنے شہریوں کے جائز مفادات کا تحفظ بھی کرتی ہے؟ نیز یہ کہ قانون سماج کے لیے ہوتا ہے یا معاشرہ قانون کے لیے؟

نسلہ ٹاور ایک دن میں نہیں بن گیا۔ ملک کے سب سے بڑے شہر میں مرکزی اور نمایاں جگہ پر ایک کثیر المنزلہ عمارت بنتی ہے۔ سب کے سامنے بنتی ہے۔ جب یہ عمارت بن رہی ہوتی ہے اس وقت ریاست کے تمام متعلقہ ادارے موجود ہوتے ہیں اور کام کر رہے ہوتے ہیں۔ عدالتیں بھی موجود ہوتی ہیں۔ پولیس بھی موجود ہوتی ہے۔  نقشے بھی منظور کیے جاتے ہیں۔ واپڈا والے بجلی کا کنکشن بھی دے دیتے ہیں اور سوئی گیس کا محکمہ گیس بھی پہنچا دیتا ہے۔ علی الاعلان سب کے سامنے ان فلیٹس کو فروخت کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ لوگوں نے جمع پونجی اور گھر کا سونا بیچ کر یہاں فلیٹس لیے ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ ٹاور ناجائز تھا تو یہ بن کیسے گیا؟ بن گیا تو یہاں فلیٹس کیسے فروخت ہو گئے۔ فلیٹس فروخت ہو گئے تو وہاں بجلی اور گیس کیسے آگئے؟

 چائنا کٹنگ کراچی کا بلاشبہ سنگین مسئلہ ہے لیکن کیا کوئی اس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے کہ جب کئی عشروں یہ چائنا کٹنگ ہو رہی تھی تو اس وقت ملک کے نظام تعزیر و قانون کی بھی چائنا کٹنگ ہو چکی تھی اور کسی میں یہ ہمت نہیں تھی کہ اس سلسلے کو روک سکے۔ ریاستی اداروں نے تو گویا یہاں ایک سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ قبضے ہوتے رہے اور متعلقہ ادارے خاموش رہے۔ ایسے میں تعزیر کا کوڑا صرف ان بے گناہ خریداروں کی کمر پر کیوں برسایا جائے جنہوں نے سارے قانونی تقاضے پورے کرکے شہر کے بیچ رہنے کو گھر خریدے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سارے دورانیے میں جن اداروں نے اپنی اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتی، کیا قانون ان کی دہلیز پر بھی دستک دے گا؟ کیا ان کی تنخواہیں اور پینشن بھی ضبط نہیں ہونی چاہیے جو اس ساری واردات کے سہولت کار تھے اور جن کی غفلت کی وجہ سے آج مائیں بہنیں اوربیٹیاں اپنے گھروں کو مسمار ہوتے دیکھ رہی ہیں اور انہیں ہارٹ اٹیک ہو رہے ہیں؟

یہ قبضے کچے کے علاقے میں نہیں ہو رہے تھے کہ کسی کو اس واردات کی خبر نہ ہوسکی، نہ ہی نسلہ ٹاور علاقہ غیر میں تعمیر ہو رہا تھا کہ کراچی میٹروپولیٹن سمیت کسی ادارے کے علم میں نہ آسکا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ شہر کے وسط میں قبضہ کرکے عمارات تعمیر کر کے انہیں فروخت کیا جاتا رہا اور کسی ادارے کو خبر نہیں ہو سکی؟

اس سوال پر بھی غور کرنا چاہیے کہ نظام قانون و تعزیر کا مقصد کیا ہے؟ کیا قانون کا نفاذ مقصود بالذات ہے یا قانون کے نفاذ کا مقصد انصاف کی فراہمی ہے؟نسلہ ٹاور ایک وارداتِ مسلسل کا نام ہے۔ کسی نے ناجائز عمارت تعمیر کی، کوئی اس کا سہولت کار بنا، کسی نے یہاں فلیٹس خریدے۔ اب اس پوری واردات کو مخاطب کیے بغیر صرف معصوم اور بے گناہ خریداروں پر قانون کا نفاذ پوری پارلیمان کی قانونی بصیرت پر سوال اٹھا رہا ہے۔ پارلیمان بدلتے حالات کے مطابق قانون سازی نہ کرسکے تو اس کی افادیت کیا رہ جاتی ہے؟

نسلہ ٹاور کو گرانے کے لیے جدید مشینری کے حصول کے حکم کے ساتھ یہ حکم بھی معزز عدالت نے دیا ہے کہ اس مشینری کا کرایہ سوسائٹی کے مالک سے وصول کیا جائے اور اگر وہ نہ دے تو اس کی جائیداد ضبط کرکے وصول کیا جائے۔ کیا ایسا ہی کوئی اہتمام ان خاندانوں کے لیے نہیں ہو سکتا تھا جن کے فلیٹس مسمار ہونے جا رہے ہیں؟

ان خاندانوں کے بارے میں عدالت نے کہا ہے کہ ان کو ان کی رقم دی جائے اور اگر رقم نہ دی جائے تو وہ متعلقہ عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ’ریکوری سوٹ‘ کرنا، ایک طاقتور کے خلاف کرنا، پھر اس میں کامیاب ہو کر رقم لے لینا کوئی معمولی بات نہیں۔ روایت یہ ہے کہ اس معاملے میں کامیابی کے لیے صبر ایوب درکار ہے۔ کیا معلوم یہ رقم ان لوگوں کو کب ملے اور ملے بھی کہ نہیں؟ کیا یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ یہاں بھی ویسا ہی حکم آ جاتا کہ مالک کی جائیداد ضبط کرکے ایک ہفتے میں متاثرین کو رقم ادا کی جائے اور رقم ادا کرتے ہی ٹاور گرا دیا جائے؟ قانون میں ایسی گنجائش موجود نہیں تو پارلیمان کو ان خطوط پر سوچنا نہیں چاہیے؟

 لوگ سب کچھ بیچ کر اور ساری پینشن لگا کر گھر بناتے ہیں اور پھر جا کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو فراڈ تھا، ایسے میں کیا ان کے لیے حصول انصاف کا کوئی سپیڈی میکنزم نہیں ہونا چاہیے؟ یہ کیسا انصاف ہے کہ غریب پہلے جمع پونجی سے محروم ہو جائے، پھر گھر بھی گرا دیا جائے اور پیسوں کی ریکوری کے لیے اسے ایک طویل اور تکلیف دہ پروسیجر کے حوالے کر دیا جائے؟ لوگوں کے گھر اگر ایک ہفتے میں گرائے جا سکتے ہیں تو قانون ایسے لوگوں کو دو ہفتوں میں ان کی رقم واپس کیوں نہیں دلوا سکتا؟

کچھ ناجائزسوسائٹیوں کو محض جرمانے کرکے معاملہ حل کر لیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ان کی بیرون ملک سے ضبط ہو کر واپس آنے والی رقم بھی مبینہ طور پر انہی جرمانوں میں ایڈجسٹ کرلی جاتی ہے۔ کیا یہی اصول ہر ’بے گناہ خریدار‘ کے معاملے میں بطور قانون لاگو نہیں ہو سکتا یا کم از کم کیا اتنی قانون سازی نہیں ہو سکتی کہ ایسے معاملات میں جب تک بے گناہ خریدار کو ساری رقم واپس نہ دلائی جائے تب تک اس سے چھت نہ چھینی جائے؟

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ