کالعدم تنظیمیں اور نیا قومی نصاب برائے تبدیلی

ایک نقصان ہوا کہ مخالفین کو خوار کرتے کرتے ریاست کی عزت اور اس کی رٹ کا کچومر نکال دیا گیا۔ یہ نہیں سوچا گیا کہ فتوؤں کا سیلاب بے قابو ہو کر ان کے گھروں میں بھی داخل ہو جائے گا جو بڑی فصیلوں کے پیچھے رہتے ہیں۔

راستہ ہی روکنا ہے تو کس کا؟ اسلام آباد میں مزدور ایک سڑک بند کرنے کی کوشش میں مصروف (اے ایف پی)

کوئی زمانہ تھا جب سیاسی تبدیلی لانے کے لیے خاص پاپڑ نہیں بیلنے پڑتے تھے۔ اگر کسی سویلین حکومت کی ادا پسند نہیں آتی تو وزیراعظم تبدیل کر کے کسی دوسرے کو موقع دے دیتے۔

50 کی دہائی میں وزیراعظم کی کرسی گھوم گھوم کر چکرا گئی تھی۔ ہر چھ ماہ بعد اس پر کوئی نیا چہرہ نظر آتا۔ اس طریقے کا فائدہ یہ تھا کہ ایک آدھ دھکہ ہی نتائج حاصل کرنے کے لیے کافی ثابت ہوتا۔ نہ توانائی صرف ہوتی اور نہ وقت ضائع ہوتا۔

دوسرا طریقہ زیادہ جامع مگر پھر بھی سہل تھا۔ ناپسندیدہ حکمرانوں کے خیمے اکھاڑ کر اپنا محل تعمیر کر لیں، ایوب خان نے یہی کیا۔ پہلے دوسروں کے ذریعے کھیلتے رہے پھر ان کو ہٹا کر خود سے کھیلنا شروع کر دیا۔ وہ تو بیماری نے آن لیا ورنہ عین ممکن ہے کہ ابھی تک کھیل رہے ہوتے۔ ہمارے ہاں منہ میں دانت رہے نہ پیٹ میں آنت مگر کرسی چھوڑنے کا دل نہیں کرتا۔

ضیا الحق اس طریقے میں جدت لائے۔ خود کو طاقت میں لانے کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی خطرات کی گردن بھی مروڑ دی۔ مزید تبدیلی یہ کی کہ لسانی اور مذہبی بنیادوں پر ملک کو دھڑوں میں بانٹ دیا۔ سب آپس میں لڑتے رہے اور مرد حق مزے کرتے رہے۔

ان کے بعد یہ سوچا گیا کہ خون خرابا زیادہ ہو گیا ہے، آئین میں ایک پرزہ ایسا لگا دینا چاہیے جس سے تمام واردات مکمل طور پر قانونی لگے۔ آٹھویں ترمیم مرحوم غلام اسحاق خان نے ایسے چلائی کہ جیسے بچے پھلجھڑیاں چلاتے ہیں، جب دل میں آتا حکومت رخصت کر دیتے اور نئے انتخابات کے ذریعے ایک اور شکار کو اپنے نشانے پر لے آتے۔

وہ بھی اللہ کو پیارے ہو گئے ورنہ شاید ابھی بھی ہمارے محبوب صدر کے طور کسی نہ کسی آئینی ترمیم کے ذریعے ضرور موجود ہوتے۔ بہرحال مرحوم سردار فاروق خان لغاری نے ایک اچھے شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور آٹھویں ترمیم کے ذریعے وہ سب کچھ کیا جو ایوب خان نے بوٹ اور ضیا الحق نے پھانسی گھاٹ کے ذریعے کیا۔

اگلے مرد آہن جنرل پرویز مشرف نے تبدیلی کا نیا ایڈیشن جاری کیا۔ جس میں انہوں نے خود کو ایک بین الاقوامی نظریاتی جنگ میں مسیحا کے طور پر متعارف کروایا۔ ملک میں اچھے اور برے نظریے کی لکیر کھینچی اور اپنے ساتھ ان تمام جماعتوں کو ملا لیا جو طویل سیاسی یتیمی کے باعث دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی تھیں۔

جو نہیں مانے ان کا بازو موڑ کر محب وطن یعنی ’پٹریاٹ‘ بنا دیا۔ زیادہ پیچیدہ سیاسی معاملات کو بیرونی امداد سے طے کیا اور پہلی مرتبہ پاکستان کی سیاست میں جلاوطنی کے تصور کو متعارف کروایا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک ایسی چابی کے طور پر استعمال کی گئی جس سے ہر سیاسی تالا باآسانی کھول دیا جاتا۔ اور جس دھات سے یہ کنجی بنائی گئی اسی سے ہتھکڑیاں اور بیڑیاں ڈھالیں جو میڈیا کے ہاتھوں اور عدلیہ کے پاؤں میں بلاخوف و خطر کس دی گئیں۔

سب سے پہلے پاکستان کا ورد کرتے ہوئے خود کو پاکستان سے اوپر بلند ہوئے اور وہاں سے دوبئی نکل گئے۔ جاتے وقت تک یہ ضرور کہتے سنے گئے کہ میں ناگزیر ہوں۔ بہرحال تبدیلی کے لیے جنرل مشرف کا طریقہ کار سب سے پیچیدہ اور مشکل تھا۔ مگر چونکہ بش کے لاڈلے تھے لہذا بیرونی امداد نے ان کی طاقت بھی بچائی اور آخر میں جان بھی۔

دور حاضر میں سیاسی تبدیلی لانے، مخالفین کو دیوار سے لگانے اور مزے اڑانے کا ماڈل ماضی کے تمام تجربات سے کہیں زیادہ مشکل اور خطرناک ہے۔ نجانے وہ کون سا موڑ تھا جب ہمارے ناخداؤں نے آسان راستے چھوڑ کر نئے طریقوں کو اپنا لیا یعنی کان سے پکڑ کر نکالنے کو ناکافی سمجھتے ہوئے مخالفین کو مکمل طور پر ذلت و رسوائی کا شکار کر کے عبرت کا نشان بنانے کی ٹھانی۔

ظاہر ہے یہ کام ہاتھ سے نہیں ہوتا اس کے لیے فتوؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاید یہ سمجھا گیا ہو کہ ذات کی تباہی سے کہیں زیادہ موثر ساکھ کی تباہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگانے سے بہتر تھا کہ اس کو ذاتی طور پر صفر کر دیا جاتا، اس کو بدعنوان، بھارت کا دوست یا بےعقیدہ قسم کا شخص بنا کر جلا وطن کر دیا جاتا تو شاید وہ آج شہادت کے رتبے پر فائز نہ ہوتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایسا نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے سیاست دانوں کے بارے میں ایسے فتوے صادر نہیں کیے گئے، یقینا کیے گئے لیکن وہ ایک بڑے لائحہ عمل کے ایک جزوی پلان کے طور پر کیا گیا۔ موجودہ دور میں اصل پلان ہی فتوؤں کی مار مارنا ہے۔ ایسے فتوے جو صرف علما کے گروپس کی طرف سے ہی جاری نہ کیے جائیں بلکہ ہر گلی محلے کے لاوڈ سپیکروں سے بار بار دہرائے جائیں۔

ایسا کرنے کے لیے کچھ ایسی تنظیموں کی ضرورت پڑی جو بیچ چوراہے کھڑے ہو کر سیاسی قیادت کے عقائد کو کیچڑ میں تبدیل کر دیں۔ 2014 سے پاکستان میں دھرنوں کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ اس لائحہ عمل کی ایک عملی شکل تھی۔ اس کاوش کو بانتیجہ کرنے کے لیے کسی کو کینیڈا سے بلوایا اور کسی کو مرید کے سے۔

سب نے مل کر سڑکیں بند کیں، سینکڑوں ٹی وی کیمروں کے ذریعے کروڑوں عوام تک اپنے فتوؤں کی بوچھاڑ پہنچائی، مخالفین، ان کی حکومت،سب کچھ اس طوفان نے بہا دیا۔ نئے پاکستان کے لیے میدان صاف ہو گیا۔ نہ کسی کو ٹھڈا مارنا پڑا، نہ جلاد کو زحمت دی، نہ آئینی بحث میں الجھے، نہ ٹینک بھیجنے پڑے، نہ ہی دیواریں پھلانگی گئیں۔ سب کچھ خاموشی اور آسانی سے ہو گیا۔

لیکن ایک نقصان ہوا کہ مخالفین کو خوار کرتے کرتے ریاست کی عزت اور اس کی رٹ کا کچومر نکال دیا گیا۔ یہ نہیں سوچا گیا کہ فتوؤں کا سیلاب بے قابو ہو کر ان کے گھروں میں بھی داخل ہو جائے گا جو بڑی فصیلوں کے پیچھے رہتے ہیں۔

آج جو لوگ ریاست کی مسخ شدہ رٹ کی بحالی کی بات کر رہے ہیں ان کو ادراک ہو گیا ہے کہ اب وہ اپنے بنائے ہوئے سیلاب کی زد میں ہیں۔ ایسا تو ہوتا ہے ایسے کاموں میں۔

نوٹ: یہ مضمون مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ