سوات کے شہری جو بچھو اور سانپ کھاتے ہیں

سوات کے رہائشی منیر خان نے بتایا کہ پہلے وہ صرف سانپ پکا کر کھایا کرتے تھے لیکن جب یہ بات مقامی لوگوں کو پتہ چلی تو ان پر شدید تشدد کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے سانپ کھانا چھوڑ کر بچھو کھانے شروع کردیے۔

سوات کے علاقے شموزئی کے رہائشی منیر خان پیشے کے لحاظ سے کسان ہیں اور بچپن سے سانپ، کیڑے مکوڑے وغیرہ کھاتے ہیں، جب کہ بچھو ان کی پسندیدہ خوراک ہے۔

منیر خان کے مطابق ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے ایک ساتھ 60 سانپوں کو کھا لیا تھا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں منیر خان نے بتایا کہ وہ بچپن سے سانپ، بچھو اور دیگر کیڑے مکوڑے کھاتے ہیں اور جب یہ نہیں کھاتے تو گزارا مشکل ہوتا ہے۔

’بہت سے لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تم یہ کیوں کھاتے ہو تو میں جواب دیتا ہوں کہ دلی سکون اور جسم کی تھکاوٹ کو دور کرنے کے لیے ایسا کرنا پڑتا ہے۔‘

منیر خان کا کہنا ہے کہ پہلے وہ صرف سانپ پکا کر کھایا کرتے تھے۔ ’جب یہ بات مقامی لوگوں کو پتہ چلی تو مجھ پر شدید تشدد کیا گیا، جس کے بعد میں نے سانپ کھانا چھوڑ کر بچھو کھانا شروع کردیا۔ بچھو کھانے کے بعد یہ میری پسندیدہ خوراک بن گئی اور اب میں صرف بچھو ہی کھاتا ہوں۔‘

انہوں نے بتایا کہ لوگ جب بچھو پکڑ لیتے ہیں تو میرے پاس لے آتے ہیں۔

منیر خان کا کہنا تھا: ’میں ایک وقت میں ایک سے لے کر 20 تک زندہ بچھو کھاتا ہوں جنہیں کھانے سے مجھے طاقت ملتی ہے اور میرے جسم پر پسینہ آنا شروع ہوجاتا ہے۔ جب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے جسم میں طاقت آگئی ہے تو پھر میں ہر کام انتہائی جوش و جذبے کا ساتھ سرانجام دیتا ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ وہ گھر میں دیگر لوگوں کے ساتھ سالن اور سبزیاں وغیرہ بھی عام روٹین میں کھاتے ہیں ’لیکن ان سے وہ ذائقہ پیدا نہیں ہوتا۔ جب میں بچھو کھاتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے جسم کی غذائی کمی پوری ہو گئی ہے۔ اب بہت سے لوگ میرے بارے میں جان گئے ہیں اور ملک کے طول وعرض سے لوگ میرے پاس آتے ہیں اور مجھ سے ملتے ہیں۔‘

سردیوں کے موسم میں بچھو اور دیگر کیڑے مکوڑے غائب ہوجاتے ہیں اور انہیں حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس حوالے سے منیر نے بتایا: ’میں اپنے لیے سردیوں کے موسم میں سٹاک جمع کرتا ہوں، ادھر ادھر سے بچھو وغیرہ جمع کرکے ان کے لیے ایک جگہ بنا لیتا ہوں اور ان کے لیے زیادہ والیٹج والا بلب اور خوراک کا انتظام کر لیتا ہوں، پھر وقتاً فوقتاً انہیں کھاتا رہتا ہوں۔‘

منیر خان غیر تعلیم یافتہ ہیں اور بچپن سے کھیتی باڑی کا کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’میں ان چیزوں کو بہت پہلے سے کھا رہا ہوں، جس کی وجہ سے اب میرا جسم ان چیزوں کا عادی ہو چکا ہے۔‘

انہوں نے دیگر لوگوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہر کوئی یہ چیزیں کھانے سے اجتناب کرے کیونکہ یہ جان لیوا ہو سکتا ہے۔ ’ہر کسی کا جسم اس کو ہضم نہیں کر پاتا کیونکہ یہ جسم میں گرمائش پیدا کرتا ہے جس سے انسان کی جان جا سکتی ہے۔‘

منیر خان کی اس انوکھی خوراک کے حوالے سے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے جسم کا پورا سسٹم ان چیزوں سے امیون ہوچکا ہے (یعنی  (قوت مدافعت پیدا کرچکا ہے) اور اب انہیں کسی قسم کا خطرہ نہیں، البتہ دیگر لوگ یہ تجربات کرنے سے گریز کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا