آئفل ٹاور جتنا سیارچہ زمین کی جانب رواں دواں

ناسا کے مطابق 330 میٹر چوڑا سیارچہ 11 دسمبر کو زمین سے 24 لاکھ میل (38 لاکھ کلومیٹر) دور سے گزرے گا۔

سیارچہ زمین کے سب سے قریب سے 14 فروری 2060 کو گزرے گا، جب  وہ  7.4لاکھ میل (11 لاکھ کلومیٹر) دور ہوگا (تصویر: پکسابے)

امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ دسمبر میں پیرس کے ایفل ٹاور جتنا سیارچہ زمین کی جانب آئے گا، مگر اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔

ناسا کے سیارچوں کے ٹریکر کے مطابق ’ممکنہ طور پر خطرناک‘ سیارچہ 11 دسمبر کو زمین سے 24 لاکھ میل (38 لاکھ کلومیٹر) دور سے گزرے گا۔

330 میٹر چوڑے سیارچے کا نام ’4660 نیریئس‘ ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں اور یہ آنے والی دہائیوں میں زمین کے قریب سے 12 سے زائد بار گزرے گا۔

سیارچہ زمین کے سب سے قریب سے 14 فروری 2060 کو گزرے گا، جب وہ 7.4 لاکھ میل (11 لاکھ کلومیٹر) دور ہوگا۔

اگر موازنہ کیا جائے تو زمین اور چاند کے درمیان فاصلہ دو لاکھ 39 ہزار میل (3.84 لاکھ کلومیٹر) ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سیارچے کو سائنس دانوں نے 1982 میں دریافت کیا تھا۔ اس تک خلائی جہاز کے ذریعے پہنچنا ممکن ہے کیونکہ اس کا مدار زمین کے کافی قریب ہے۔ تاہم ابھی ایسے کسی مشن کی منصوبہ بندی نہیں ہے، مگر اس پر پہلے غور ہو چکا ہے۔  

ناسا کے روبوٹک مشن، نیئر ارتھ ایسٹرائیڈ رانڈیوو شومیکر (نیئر) اور جاپانی ہیابوسا مشن کو اس سیارچے تک بھیجنے پر غور ہوا تھا، مگر پھر ان کو کہیں اور بھیج دیا گیا۔

تین ممالک سیارچوں پر خلائی جہاز اتار چکے ہیں اور انہیں مستقبل میں کان کنی کے لیے اہم مقامات تصور کیا جاتا ہے۔  

گذشتہ ماہ متحدہ عرب امارات نے سیارچوں کی کھوج کے مشنز کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایسا کرنے والا پہلا عرب ملک ہو گا۔  

اس کا مشن 2028 میں شروع ہو گا اور زہرہ سمیت سات سیارچوں کی کھوج کی جائے گی۔ 2033 میں سیارچوں پر لینڈنگ کی جائے گی۔

سیارچوں کا اپنا مدار ہوتا ہے اور ان کا زمین کے پاس سے گزرنا غیر معمولی نہیں۔ مارچ میں امریکہ کے گولڈن گیٹ برج جتنا سیارچہ زمین کے ساڑھے 12 لاکھ میل (20 لاکھ کلومیٹر) قریب سے گزرا۔

ناسا سیارچوں کو ’ممکنہ طور پر خطرناک‘ تب قرار دیتا ہے جب وہ زمین کے 46.5 لاکھ میل (74 لاکھ کلومیٹر) قریب سے گزرتے ہیں اور جن کے قطر پانچ سو سے زائد فٹ کے ہوتے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس