’ہم ماحولیاتی بحران کے حل کا حصہ ہیں‘: کوپ 26 میں پاکستانی نوجوان

پاکستان سے بھی ماحولیات پر کام کرنے والے رضاکار نوجوانوں نے دو ہفتے کی کلائمٹ کانفرنس میں حصہ لیا۔ ان میں زیادہ تر حکومتی نہیں بلکہ مختلف نجی اداروں کی مدد سے گلاسگو پہنچے اور ڈسکشنز، پروگرامز اور پویلینز پر پاکستان کی نمائندگی کی۔

 دائیں سے بائیں: لاہور کی مہوش کریم، کراچی کے درلبھ اشوک اور سارہ اسلم ہیں۔

برطانیہ کے شہر گلاسگو میں موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کی سالانہ کانفرنس آج اپنے اختتام کو پہنچنے والی ہے۔ آیا یہ 2015 کی طرح کسی تاریخی معاہدے پر ختم ہوگی یا گذشتہ سالوں کی طرح کسی معنی خیز نتیجے کے بغیر، اس پر سے بردہ اٹھنا باقی ہے لیکن اس سال یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ دنیا بھر کے نوجوان موحولیاتی بحران پر متحرک ہو رہے ہیں۔

اس سال کانفرنس آف پارٹیز (کوپ) 26 کا اہم مقصد گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو 2050 تک نیٹ زیرو تک پہنچانا ہے یعنیٰ فضا میں کاربن کا اخراج کم ترین سطح پر پہنچانا تاکہ دنیا کے اوسط درجہ حرارت کو صنعتی انقلاب سے پہلے کے دور سے 1.5 سیلسیئس پر ہی محدود رکھنا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ ممالک سے ترقی پذیر اور غیر ترقی یافتہ ممالک کے لیے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے 100 ارب ڈالرز کی فنڈنگ کو یقینی بنانا ہے اور تاریخی پیرس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے قواعد بنانے ہیں۔ اس سب پر تمام ممالک کے اعلیٰ سطح پر مذاکرات جاری ہیں۔ 

موسمیاتی بحران پر سائنسدانوں کی تشویش، بڑے ممالک کے بڑے بڑے وعدے، متاثرہ ممالک کے موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے مطالبے (جسے لاس اینڈ ڈیمج کہتے ہیں)، مظاہرین کے ترقی یافتہ ممالک سے اور زیادہ ایکشن کے مطالبے، یہ سب تو ہر سال ہی ہوتا ہے۔ تاہم اس سال کچھ ایسا دیکھنے میں آیا ہے جو گذشتہ سالوں سے مختلف ہے یعنی بڑی تعداد میں نوجوانوں کی شرکت، جو نہ صرف سرکاری سطح پر ممالک کی وفود کا حصہ رہے بلکہ بڑے پیمانے پر مظاہروں میں بھی پیش پیش بھی نظر آئے۔

سویڈش رضاکار گریٹا ٹونبرگ نے گذشتہ ہفتے گلاسگو میں ایک ایسے ہی مظاہرے کی سربراہی کی جس میں انہوں نے اس اجلاس کو ناکام قرار دیا اور سیاست دانوں اور عالمی رہنماؤں کو اس مسئلے کو سنجیدہ نہ لینے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

پاکستانی نوجوانوں کے تجربے

پاکستان سے بھی ماحولیات پر کام کرنے والے رضاکار نوجوانوں نے دو ہفتے کی کلائمٹ کانفرنس میں حصہ لیا۔ ان میں زیادہ تر حکومتی نہیں بلکہ مختلف نجی اداروں کی مدد سے گلاسگو پہنچے اور ڈسکشنز، پروگرامز اور پویلینز پر پاکستان کی نمائندگی کی۔  

کراچی سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ درلبھ اشوک گذشتہ چار سال سے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی آگاہی بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔ وہ اپنے ادارے یوتھ ایمبسی کے ذریعے اس موضوع پر کئی ورک شاپس، سمینارز اور ہیکاتھونز منعقد کروا چکے ہیں۔

کوپ 26 میں ذاتی شرکت کا یہ ان کا پہلا تجربہ تھا اور انہوں نے تین پینل ڈسکشنز میں حصہ لیا جن میں انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں کے کردار پر بات کی۔

سائنس دانوں کے مطابق دنیا میں درجہ حرارت بڑھانے والی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج تشویش ناک سطح پر پہنچ چکا ہے جسے جلد سے جلد روکنے کی ضرورت ہے۔ بڑھتے درجہ حرارت سے دنیا کے کئی نظام متاثر ہوں گے؛ کہیں سمندر کی سطح میں اضافہ تو کہیں قحط سالی، خشک سالی یا اور بھی شدید موسمی طوفان اور ہیٹ ویوز۔ انہی اخراج کو کم کر کے نیٹ زیرو پر لانا اب ایک ہم ہدف بن چکا ہے۔

پاکستان کا گرین ہاؤس گیسز کا اخراج صرف ایک فیصد ہے، مگر یورپی ادارے جرمن واچ کے مطابق یہ ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے 10 ممالک میں سے ایک ہے۔ جنوری میں امریکی تھنک ٹینک مک کنزی گلوبل انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق آنے والی تین دہائیوں میں پاکستان کے کچھ حصے انسانوں کے لیے ناقابل رہائش ہو جائیں گے۔

درلبھ کہتے ہیں کلائمٹ چینج پاکستان کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ بدلتے موسم سے ملک میں پانی کی قلت، خشک سالی، غذائی قلت، شدید ہیٹ ویوز اور سیلابی ریلوں کا خطرہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کلائمٹ مائگریشن بھی ایک اہم مسئلہ بننے والا ہے، کیونکہ بدلتے موسم کی وجہ سے لوگوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا ناگزیر ہو جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ماحولیاتی تبدیلی پر اور بھی متحرک ہونے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ دور کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلیں بھی اس سے بہت متاثر ہونے والی ہیں۔ انہوں نے موجودہ حکومت کے موحولیاتی تبدیلی پر کام کو سراہا، مگر کہا کہ پاکستان میں اب بھی نوجوانوں کی اس گفتگو میں کمی ہے جس پر حکومت کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔

کوپ 26 میں کامیاب مذاکرات کے کیا امکانات ہیں؟

اس سوال کے جواب میں درلبھ نے کہا کہ ان کے خیال میں اس کانفرنس میں پیرس جیسی کامیابی شاید نہ ہو مگر یہ آنے والے اجلاسوں کے لیے اہم ثابت ہوگا کیونکہ اس میں نوجوانوں نے بڑے پیمانے پر اپنی آواز اٹھائی ہے اور حکومتوں پر زور ڈالا ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کو سنجیدگی سے لیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی 37 سالہ مہوش کریم برطانیہ میں شیوننگ سکالرشپ پر تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ وہ سماجی اور ماحولیاتی کارکن ہیں اور اقوام متحدہ کے سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ گولز کی جانب پیش قدمی پر پاکستان میں کام کرتی ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ چونکہ وہ برطانیہ میں ہی تھیں تو انہوں اس سال اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ ماحولیاتی تبدیلی ان کے قریب ایک بہت بڑا مسائلہ ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ پاکستان میں سموگ، اربن فلڈنگ، گلیشئرز کے پھٹنے اور ٹڈی دل کے حملے جیسے واقعات کی وجہ ان میں موحولیات پر کام کرنے کا جذبہ بڑھا۔

مہوش کسی سرکاری وفد کا حصہ نہیں تھیں انہوں نے رضاکارانہ طور پر ایک ماحولیاتی کارکن کی حیثیت سے کوپ 26 کی سائیڈ لائنز پر ہونے والے دیگر پروگرامز میں شرکت کی تھی جن میں سے ایک کا موضوع تھا کہ مذہبی تنظیمیں اور رہنما کیسے ماحولیاتی تبدیلی پر کام کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ہفتے کو ہونے والی کلائمٹ مارچ میں بھی شرکت کی تھی۔  

 

مہوش کریم نے بتایا کہ جہاں کوپ میں رضاکار اور سماجی تنظیموں کے لیے بنے گرین زون میں ماحول کھلا اور مثبت رہا وہیں بلیو زون جہاں سرکاری وفود، پالیسی ساز اور مذاکرات کار رہے، وہ کافی دور محسوس ہوا، کیونکہ اس طرف سے لوگوں نے گرین زون کی تقاریب میں زیادہ شرکت نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا: ’نوجوانوں کو محسوس ہوا کہ پالیسی سازوں نے کارکنوں سے فاصلہ اختیار کیے رکھا۔ یہ ایک خلا تھا جسے پر کرنے کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حکومت ماحولیاتی تبدیلی پر کام کر رہی ہے مگر آگاہی کی اب بھی بہت کمی ہے۔ اسے پُر کرنے کے لیے انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی اور اس سے نمٹنے کے لیے افدامات کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانا ضروری ہے، تاکہ چھوٹی عمر سے اس کے بارے میں آگاہی ہو۔

درلبھ اور مہوش دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ دیگر ممالک کی طرح حکومت کو نوجوانوں کو اپنے سرکاری وفد میں شامل کرنے کی ضرورت ہے جو ابھی نہیں ہو رہا۔

’گھر سے شروع کریں‘

ماحولیاتی ریسرچ کنسلٹنٹ سارہ اسلم نے کوپ 26 میں پاکستان کے پویلین پر ماحولیاتی تبدیلی اور نوجوانوں کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب میں خطاب کیا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اپنی طرح ماحولیاتی تبدیلی پر کام کرنے والے دوسرے ممالک کے نوجوانوں سے مل کر انہیں اچھا لگا، جو بحران سے نمٹنے کے لیے نئے خیالات کے ساتھ آئے تھے۔ ان کے مطابق مستقبل میں حکومتوں کا ان نوجوانوں کو ساتھ لے کر چلنا بہت اہم ہے۔   

سارہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی گرین ہاؤس گیسز کا اخراج مخص ایک فیصد ہے مگر ماحولیاتی تبدیلی سے شدید متاثرین ممالک میں سے ایک ہے۔ ’ہم مسئلے کی وجہ نہیں، مگر ہم حل کا حصہ ضرور ہیں۔‘

انہوں نے بھی موحولیاتی تبدیلی کو قومی نصاب میں شامل کرنے اور آگاہی بڑھانے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا: ’نوجوان بہت سے طریقوں سے ماحولیاتی تبدیلی سے لڑ سکتے ہیں۔ کہتے ہیں خیرات گھر سے شروع ہوتی ہے، تو ہم بھی اپنی روزمرہ کی زندگی میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں لا سکتے ہیں، جیسے کمرے سے جاتے ہوئے لائٹیں بند کرنا، سنگل یوز پلاسٹک کا استعمال کم کرنا، ری سائیکلنگ، درخت لگانا، یہ سب مددگار ہو سکتا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ ذاتی سطح پر شروع ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ٹری پلانٹیشن ڈرائیوز کو کوپ میں اعلیٰ سطح پر بھی سراہا گیا، اور  کلائمٹ فنانس اور اداروں سے فنڈنگ کی مدد سے پاکستان اپنے منصوبے اور بھی بڑھا سکتا ہے۔

سارہ نے کوپ 26 میں ہونے والی پیش رفتوں کو حوصلہ کن قرار دیا، خاص طور پر سو سے زائد ممالک کے اس تہیے کو کہ 2020 سے 2030 کے درمیان گرین ہاؤس گیز میتھین کے اخراج میں 30 فیصد کمی لائی جائے گی۔

تاہم انہوں نے زور دیا کہ اب باتوں سے زیادہ کام ضروری ہے۔ ’ہمیں پتہ ہے کہ ہم کیا غلط کر رہے ہیں اور اب ہمیں اس کو درست کرنے کی ضرورت ہے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔‘

سارہ کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک روس اور چین کے صدور کا کوپ 26 میں نہ شرکت کرنا مایوس کن تھا۔

’وجود کو خطرہ‘

پاکستان کے صوبے بلوچستان سے کوپ 26 میں شرکت کرنے والے 17 سالہ ماحولیاتی کارکن یوسف بلوچ نے بھی تعلیمی نصاب میں ماحولیاتی تبدیلی کے موضوع کو شامل کرنے پر زور دیا۔

گودار سے تعلق رکھنے والے یوسف نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو قریب سے دیکھا ہے، ان کے خاندان کو کئی بار سیلابوں کی وجہ سے نقل مکانی کرنی پڑی۔ وہ پانچ سال کے تھے جب 2008 میں مکران کے علاقوں میں سیلاب میں ان کا گھر، مویشی اور فصلیں تباہ ہوگئیں۔

یوسف بلوچستان میں ماحولیاتی مہم ’ فرائڈیز فار فیوچر‘ چلاتے ہیں۔ یہ وہی ہم ہے جس کا آغاز گریٹا ٹونبرگ نے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی بحران میں ترقی یافتہ ممالک کا سب سے بڑا ہاتھ ہے، مگر اس کے اثرات سب سے زیادہ جنوب میں غیر ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک کو بھگتنے پڑ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس کوپ میں شرکت کے لیے ان کی مہم ایک سال سے تیاری کر رہی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اس سال کے اجلاس میں اہم پالیسیاں اور فیصلے لیے جائیں گے مگر ابھی تک ایسا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔

مذاکرات اور اجلاس کے ماحول پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتوں اور سیاست دانوں سے کوئی خاص امید نظر نہیں آ رہی۔ ’مجھے نہیں لگ رہا کہ کوئی ایسی پالیسی بنے گی جس پر دنیا کام کر سکے گی، لیڈر بس خالی وعدے کر رہے ہیں۔‘

اقوام متحدہ کے موحولیاتی ادارے یو این ایف سی سی کی یوتھ تنظیم ’ یونگو‘  سے منسلک پاکستانی نوجوان جواد سہیل گذشتہ کئی سالوں سے ماحولیات پر کام کر رہے ہیں۔ 28 سالہ جواد کا تعلق جیو سائنسز سے تھا اور پیٹرولیم انڈسٹری میں کام کر چکے ہیں، مگر جب ماحولیاتی بحران کے بارے میں معلومات میں اضافہ ہوا تو انہوں نے اس شعبے سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

وہ زیادہ تر  ماحولیاتی تبدیلی پر آگاہی بڑھانے اور  ایڈوکیسی پر کام کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ کوپ میں شرکت ’یونگو‘ کی مدد سے کر رہے ہیں اور اس سال کوپ 26  میں نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی تاہم پاکستان سے شرکت پھر بھی محدود رہی حلانکہ اس کی آبادی ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

جواد کا کہنا تھا کہ  ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کے وجود کے لیے خطرہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے پالیسی سازی میں نوجوانوں کو شامل کرنا اور انہیں عالمی سطح پر اہم اجلاس میں سرکاری وفود کا حصہ بنایا ضروری ہے جو ابھی نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے کلائمٹ چینج پر حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ان میں مزید سٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’جو تبدیلی ہم لانا چا رہے ہیں اس لیے نوجوانوں کو پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں شامل کرنا بہت ضروری ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات