کیویز یا کینگروز، کون ہوگا ٹی 20 ورلڈ کپ کا فاتح ؟

اس ور لڈکپ کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ دو ایسی ٹیمیں فائنل میں پہنچی ہیں جن کے لیے ماہرین کرکٹ زیادہ سے زیادہ سیمی فائنل تک کا سفر گن رہے تھے۔

ٹورنامنٹ کی دو بڑی ٹیمیں آج آمنے سامنے ہوں گے (آئی سی سی ویب سائٹ)

ٹی 20 ورلڈ کپ کا فائنل میچ آج (اتوار) کی شام دبئی میں کھیلا جائے گا جس میں دو روایتی حریف نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہوں گے۔ 

چمچماتی ہوئی آئی سی سی ٹرافی کس کے نصیب میں ہوگی اس کا فیصلہ تو میچ کے اختتام پر ہی ہوگا لیکن دونوں ٹیموں کے لاکھوں شائقین اتوار کی شام اس آس میں ہوں گے کہ ٹرافی ان کے گھر آئے۔ 

اس ور لڈکپ کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ دو ایسی ٹیمیں فائنل میں پہنچی ہیں جن کے لیے ماہرین کرکٹ زیادہ سے زیادہ سیمی فائنل تک کا سفر گن رہے تھے، لیکن دونوں فائنلسٹس نے دو ایسی ٹیموں کو شکست دی جو ہاٹ فیورٹ تھے۔ 

آسٹریلیا تو خیر روایتی طور پر پاکستان کو ہر ناک آؤٹ مقابلے سے باہر کرتا آیا ہے لیکن انگلینڈ کی شکست معنی خیز ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم اس ورلڈ کپ کی سب سے مضبوط ٹیم سمجھی جارہی تھی اور زیادہ تر ماہرین اسے فاتح قرار دے رہے تھے۔ 

اب نیوزی لینڈ کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ آسٹریلیا کو شکست دے کر پہلی دفعہ کوئی ورلڈ کپ جیت سکے۔

نیوزی لینڈ اس سے قبل 2015 کے ورلڈ کپ میں فائنل تک پہنچا تھا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم اُس ورلڈ کپ میں پانچ میچ جیت کر فائنل تک پہنچی تھی اور اس کا رن ریٹ سب سے زیادہ تھا۔  اسے ٹورنامنٹ میں سب سے خطرناک ٹیم سمجھا جارہا تھا جسے کوئی شکست نہیں دے سکا تھا اسی لیے فائنل میں بھی فیورٹ تھی لیکن فائنل میں آسٹریلیا کی بولنگ نے کیویز کا سحر توڑ دیا تھا اور گروپ میچوں میں رنز کا انبار لگانے والے صرف 183 رنز پر ڈھے گئے تھے اور کینگروز نے ایک بار پھر کپ جیت لیا تھا۔ 

اب کیویز کے پاس ایک بار پھر موقع ہے کہ وہ کینگروز کو دھول چٹاسکیں اور 2015 کی شکست کا بدلہ لے سکیں۔

کیویز کی ٹیم میں اب اگرچہ میکولم نہیں ہیں لیکن مچل اور گپٹل جیسے خطرناک بلے باز ہیں۔ مچل نے انگلینڈ کے خلاف یقینی شکست کو فتح میں بدل دیا تھا اور وہی فائنل میں آسٹریلیا کے لیے حقیقی خطرہ ہوں گے۔ 

ان کے ساتھ ولیمسن نیشم اور فلپ بھی ہوں گے جو وقت ضرورت تیز بھی کھیل سکتے ہیں تاہم کیویز کے لیے بری خبر یہ ہے کہ کونوے دستیاب نہیں ہیں۔  ان کی جگہ سائیفرٹ کو موقع دیا جائے گا جو وکٹ کیپر ہیں۔

بولنگ میں سب کی امیدیں بولٹ، ساؤتھی اور سوڈھی سے ہوں گی۔ سوڈھی بھارتی نژاد لیگ سپنر ہیں اور اب تک پانچ میچوں میں نو وکٹیں لے چکے ہیں۔ ان کی بولنگ سب سے اہم ہوگی جبکہ بولٹ 11 وکٹ کے ساتھ سر فہرست ہیں۔ بولنگ میں مڈل اوورز نیشم بہت اچھےکر رہے ہیں ان پر بھی بہت زیادہ ذمہ داری ہوگی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آسٹریلیا کی بیٹنگ نے وقت کے ساتھ خود کو مستحکم کیا ہے۔ ڈیوڈ وارنر نے آخری چار میچوں میں عمدہ بیٹنگ کرکے اپنی فارم حاصل کرلی ہے جبکہ پاکستان کے منہ سے جیت چھیننے والے ویڈ اب ہیرو بن چکے ہیں جس طرح انہوں نے شاہین شاہ کی درگت بنائی تھی اس سے کیویز میں سراسیمگی ہوگی۔ 

آسٹریلیا کی بیٹنگ میں سٹیو سمتھ اور کپتان فنچ سراسر ناکام ہیں اور اگر فائنل میں بھی نہ چلے تو کینگروز پر بہت دباؤ پڑ جائے گا۔

آسٹریلیا کی بولنگ کا سارا زور مچل سٹارک اور زمپا پر ہوگا یہی دو بولر نیوزی لینڈ کو پریشان کرسکتے ہیں۔

اگر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ٹی 20 میچوں کا ریکارڈ دیکھیں تو آسٹریلیا کا پلہ بھاری نظر آتا ہے۔ کل 14 میچوں میں نو میچوں کی فتح کا سہرا آسٹریلیا کے سر ہے جبکہ چار میچ کیویز جیت چکے ہیں جس سے آسٹریلیا کی ٹی 20 میں برتری نظر آتی ہے، تاہم موجودہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کسی طرح بھی کم نہیں ہے اور ٹرافی جیت سکتی ہے۔

کون جیتے گا ٹرافی؟  کس کے سر پر فتح کا تاج سجے گا؟ یہ ایک سوال ہے جو ہر ذہن میں ہے۔ 

دونوں ٹیموں میں گھمسان کا رن پڑنے والا ہے، دونوں اپنے ہتھیار صیقل کرچکے ہیں، بس جنگ کا طبل بجے تو جیت کی دوڑ شروع ہوجائے۔ 

کیویز کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ اس کپ کو جیت کر تاریخ میں اپنا نام نقش کردیں جن کے نامہ اعمال جیت تو بہت ہیں لیکن کوئی ورلڈ کپ نہیں۔ 

یہی وہ دن اور وقت ہے جب تاریخ بدل بھی سکتی ہے اور بگڑ بھی سکتی ہے لیکن اطمینان کی بات یہ ہے کہ جو بھی جیتے ٹراف براعظم آسٹریلیا میں ہی رہے گی۔ 

شاید یہی ایک بات ہوگی جو ٹاس سے پہلے دونوں کپتان آنکھوں ہی آنکھوں میں کہہ رہے ہوں گے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ