لاہور میں سموگ: ’حکومت کو ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دینی چاہیے‘

لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں آج دوسرے نمبر پر رہا۔ ایسے میں شہر کی انتظامیہ میں شہر کو سموگ سے بچانے کے لیے سپیشل اینٹی سموگ سکواڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حکومت پنجاب نے سموگ کو آفت قرار دے کر عوام کی آگاہی کے لیے میڈیا کے ذریعے اشتہاری مہم کا آغاز کیا ہے (اے ایف پی)

پنجاب کے سب سے بڑے شہر لاہور میں گذشتہ کئی روز سے سموگ چھائی ہوئی ہے اور اتوار کو دن 12 بجے کے قریب شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 248 ریکارڈ کیا گیا جس کے باعث لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں آج دوسرے نمبر پر رہا۔

یہ انڈیکس ہر ایک گھنٹے کے بعد اپ ڈیٹ ہوتا ہے جس سے اے کیو آئی بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

 شہر میں بڑھتی ہوئی سموگ کو ماہر ماحولیات جہاں انسانی صحت کے لیے خطرناک قرار دے رہے ہیں وہیں صوبائی وزیر برائے محکمہ تحفظ ماحولیات محمد رضوان کے ایک بیان کے مطابق انہوں نے لاہور کو سموگ فری قرار دیا ہے۔

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور حکومت پنجاب نے سموگ کو آفت قرار دے کر عوام کی آگاہی کے لیے میڈیا کے ذریعے اشتہاری مہم کا آغاز کیا ہے۔

کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد عثمان نے ہفتے کو سموگ کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس میں شہر کو سموگ سے بچانے کے لیے سپیشل اینٹی سموگ سکواڈ قائم کرنے کا اعلان کیا۔

کمشنر لاہور نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پانچ سپیشل اینٹی سموگ سکواڈ شہر بھر کی انڈسٹریز کو آلودگی کے حوالے سے چیک کریں گے۔

’سکواڈ میں پولیس، ماحولیات کے انسپیکٹر، واسا، ایم سی ایل، ضلعی انتظامیہ اور لیسکو اہلکار شامل ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور عمر شیر چٹھہ نے متعلقہ ڈیپارمنٹس کو نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے جس میں ٹیموں کی ذمہ داریاں بھی وضع کر دی گئی ہیں۔

’ہر سکواڈ روزانہ 12 اور ایک ہفتے میں 60 صنعتی یونٹس کو چیک کرے گا۔‘

ان کے مطابق دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو چیک کرنے کے لیے دو ٹیمیں الگ سے تشکیل دی گئی ہیں جبکہ زگ زیگ پر منتقل بھٹوں اور تمام فیکٹریوں کی بھی بیکنگ کی جائے گی۔

کمشنر لاہور کے حکم کے مطابق اینٹی سموگ سکواڈ بوائلرز اور فرنیسسز استعمال کرنے والی 305 انڈسٹریز کو بھی چیک کرے گا۔

دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق نومبر کا پورا مہینہ خشک رہنے کا امکان ہے اور بارشیں بہت کم ہوں گی جبکہ دسمبر میں شدید دھند پڑنے والی ہے۔

شہر سے سموگ کے خاتمے کے لیے پنجاب پولیس بھی سرگرم ہے۔ آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان کی ہدایت پر صوبے بھر میں سموگ کا باعث بننے والی ماحول دشمن سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

آئی جی آفس کی جانب سے جاری اعدادو شمار کے مطابق یکم نومبر سے اب تک پنجاب بھر میں سموگ کا سبب بننے والے کاموں میں ملوث افراد کے خلاف 1992 مقدمات اور 2141 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

کیا یہ اقدامات لاہور کو سموگ سے پاک کر دیں گے؟

ماہر ماحولیات رافع عالم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’میرے خیال میں تو اس وقت پبلک ہیلتھ ایمرجنسی نافذ ہوجانی چاہیے تھی کیونکہ سموگ کی صورت حال کے تحت دہلی میں ایک ہفتے کے لیے سکول بند کر دیے گئے ہیں، لیکن یہاں ہم ٹیمیں تشکیل دے رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے یہ اقدامات بے کار ثابت ہوں گے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ پنجاب پولیس نے جو ایک ماہ میں ایک ہزار ایف آئی آر درج کی ہے اس سے ماحول میں کیا فرق نظر آیا؟

’ایک ہزار اور کر لیں اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ یہ سموگ فصلیں یا کچھ اور جلانے کی وجہ سے نہیں ہورہی۔ یہ ہمارے پٹرول اور بجلی کی پیداوار کی وجہ سے ہو رہی ہے جس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا۔‘

حکومت کو کرنا کیا چاہیے؟

رافع عالم کے مطابق: ’سب سے پہلے حکومت کو مانیٹرز لگوانے چاہییں۔ پنجاب میں وہ مشینیں ہی نہیں جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ فضائی آلودگی کی شدت کتنی ہے اور یہ کون کون سے کیمیکلز پر مشتمل ہے۔

’اس وقت لاہور میں صرف دو مانیٹر لگے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔ایکشن لینے سے پہلے ہم یہ تو جان لیں کی یہ آلودگی آ کہاں سے رہی ہے؟‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس گذشتہ چند سالوں کی کچھ رپورٹس ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس دھوئیں کے اندر ہے کیا؟

’ان رپورٹس کے مطابق 45 فیصد سالانہ فضائی آلودگی ٹرانسپورٹ سیکٹر کے پٹرول کی وجہ سے ہوتی ہے۔

’اگر ہم اس سے بڑھ کر اپنے شہروں کی ہوا کی تحقیق کریں تو اس میں تعمیراتی گرد، گھروں میں پکنے والے کھانوں کے دھویں پر بھی ہمیں تحقیق کرنی چاہیے۔‘

رافع عالم کے مطابق اس وقت پنجاب میں ایسے چھ پلانٹس ہیں اور گذشتہ برس حکومت پنجاب نے 20 اور سیمنٹ پلانٹس لگانے کا این او سی جاری کیا ہے یعنی تین گنا سے زیادہ سیمنٹ پلانٹ اگلے پانچ سال میں صوبے کے اندر لگیں گے جو کوئلے پر چلیں گے۔

اور ہم سموگ سے لڑنے کے لیے سکواڈ بنا رہے ہیں جو ایک مذاق ہے۔‘’

سموگ کے صحت پر مضر اثرات

سموگ کی وجہ سے آج کل بیشتر لوگ ناک، کان یا گلے کی خرابی کی شکایت کر رہے ہیں۔

 پلمنالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر جاوید حیات نے، جو حکومت پنجاب کی کرونا ایڈوائزری کمیٹی کے رکن بھی ہیں، بتایا کہ سموگ کی وجہ سے زیادہ تر لوگ کھانسی، گلے کی خرابی جیسی شکایات کر رہے ہیں۔

’لیکن ان علامات کے ساتھ زیادہ تر لوگ ہسپتالوں میں نہیں آتے جب تک کہ خرابی زیادہ نہ ہو جائے اس لیے صحیح تعداد بتانا ممکن نہیں۔

’اس وقت سموگ کی وجہ سے بیمار ہونے والے یہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ شاید انہیں کرونا ہو گیا ہے لیکن وہ دراصل سموگ کی وجہ سے بیمار ہو رہے ہیں۔‘

 ڈاکٹر جاوید کے مطابق سموگ سے گلا خراب ہو گا، کھانسی ہوگی، سر درد ہوگا اور اگر کسی کو دمہ ہے تو ان کی معمول کی علامات ہی بگڑیں گی بخار اس کی علامات میں شامل نہیں۔

کیا حکومت نے سموگ کا تدارک دیر سے کیا؟

پروفیسر ڈاکٹر جاوید حیات کے مطابق: ’ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب آپ کی 36 لاکھ گاڑیاں سڑکوں پر ہوں گی تو فضا آلودہ ہو گی۔

’ ہماری 35 فیصد فضائی آلودگی ٹریفک کی وجہ سے ہے، اس میں حکومت کیا کر سکتی ہے؟‘

شہری کیا احتیاط کریں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میو ہسپتال لاہور میں ماہر امراض چشم ڈاکٹر سدرہ لطیف نے بتایا کہ فی الحال ہسپتال میں سموگ سے ہونے والی آنکھوں کی الرجیز کے ساتھ بہت زیادہ مریض رپورٹ نہیں ہو رہے۔

’البتہ دسمبر اور جنوری، جس میں سموگ مزید بڑھے گی تب مریضوں کی تعداد بھی بڑھے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ لوگ آنکھوں کے انفیکشن سے بچنے کے لیے گاڑی یا موٹر سائیکل چلاتے ہوئے چشمے کا استعمال کریں۔‘

ڈاکٹر سدرہ کے مطابق اگر آنکھ میں مسلسل چبھن محسوس ہو تو سادہ پانی سے آنکھوں کو بار بار دھوئیں۔

’اگر آنکھیں سرخ ہو جائیں اور ان سے پانی بہنے لگے تو ڈاکٹر کی بتائی اینٹی الرجی یا اینٹی بائیوٹک استعمال کریں۔‘

 ڈاکٹر سدرہ کا کہنا ہے کسی بھی صورت میں آنکھوں کو نہ ملیں کیونکہ اس سے آنکھ کا کورنیا متاثر ہو سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات