’سب جانتے ہیں بابراعظم پلیئر آف دا ٹورنامنٹ کے زیادہ حقدار ہیں‘

ورلڈ کپ کی اختتامی تقریب میں ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعلان کیا گیا جو کہ حیران کن طور پر ڈیوڈ وارنر قرار پائے حالانکہ ان کے رنز بابر اعظم سے کم تھے۔ اس کے بعد سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

 بابر اعظم نے میں 60.60 کی اوسط سے مجموعی طور پر 303 رنز بنائے جبکہ دوسرے نمبر پر ڈیوڈ وانر نے48.16 کی اوسط سے 289  رنز بنائے (تصاویر: اے ایف پی)

گذشتہ روز ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے فائنل میں آسٹریلیا کی فتح کے ساتھ جوش اور جذبے سے بھرپور اس ایونٹ کا اختتام ہو گیا ہے۔

یہ ٹورنامنٹ ورلڈ کپ ہونے کے ناطے اہمیت کا حامل تو تھا ہی مگر پاکستانیوں کے لیے اس کی اہمیت اس لحاظ سے بھی زیادہ تھی کہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے اس ٹورنامنٹ کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور نہ صرف پہلے میچ میں دورہ پاکستان چھوڑ کر جانے والی نیوزی لینڈ کی ٹیم کو ہرایا بلکہ بھارت کو 10 وکٹوں سے ہرا کر اہم تاریخی فتح بھی حاصل کی۔ 

اس ایونٹ کے دوران جو چیز سب سے زیادہ قابلِ ذکر رہی وہ پاکستانی ٹیم کی کارکردگی اور بابر اعظم کی کپتانی تھی۔

بطور کپتان نہ صرف انہوں نے اپنی ٹیم کی بہترین قیادت کی بلکہ انفرادی طور پر بھی عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے ورلڈ کپ میں 60.60 کی اوسط سے مجموعی طور پر 303 رنز بنائے اور سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی رہے۔

دوسرے نمبر پر آسٹریلوی کھلاڑی ڈیوڈ وانر نے48.16 کی اوسط 289 رنز بنائے جب کہ 70.25 کی اوسط سے 281 رنز کے ساتھ پاکستان کے محمد رضوان تیسرے نمبر پر رہے۔

ورلڈ کپ کی اختتامی تقریب میں ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعلان کیا گیا جو کہ حیران کن طور پر ڈیوڈ وارنر قرار پائے حالانکہ ان کے رنز بابر اعظم سے کم تھے۔

اس کے بعد سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر اس اعلان پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

آئی سی سی کے اس فیصلے کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ کئی کرکٹرز اور صارفین یہ سمجھتے ہیں کہ آئی سی سی نے بابر اعظم سے کم سکور کرنے والے کھلاڑی کو  پلیئر آف دا ٹورنامنٹ کا ایوارڈ دے کر ناانصافی کی ہے۔

پاکستانی پیسر شعیب اختر نے ٹوئٹر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’مجھے پورا یقین تھا کہ بابر اعظم کو پلیئر آف دا ٹورنامنٹ کا اعزاز دیا جائے گا۔ یقیناً یہ ایک غیر منصفانہ فیصلہ ہے۔‘

ویسٹ انڈیز کے کرکٹر شرفین ردرفورڈ نے ڈیوڈ وارنر کو پلیئر آف دا ٹورنامنٹ قرار نہ دیے جانے پر حیرت اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کی: ’مجھے حیرت ہے کہ بابر اعظم کو ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار نہیں دیا گیا، غلط فیصلہ۔‘

پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین نے بھی بابر اعظم کو ٹاپ سکورر ہونے کے باوجود ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار نہ دیے جانے پر غصے کا اظہار کیا ہے۔ کئی صارفین یہ سمجھتے ہیں کہ آئی سی سی نے بھارتی کرکٹ بورڈ کی وجہ سے ایسا کیا۔

ٹوئٹر صارف وقاص امجد نے لکھا کہ ’بابر اعظم کو بھارتی کرکٹ بورڈ کے تعصب کی وجہ سے ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ نہیں دیا گیا۔‘

عرفان الحق نامی ٹوئٹر صارف نے تحریر کیا: ’مکمل طور پر غیرمنصفانہ فیصلہ ہے، سب جانتے ہیں کہ کون پلیئر آف دا ٹورنامنٹ ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ آپ اپنا اصل چہرہ کیوں دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں؟

’آئی سی سی، ورلڈ کپ کے اعداد و شمار اور کرکٹ لیجنڈز کی بابر اعظم کے بارے میں آرا دیکھیں۔ کرکٹ کا بھارتی خواہشات پر چلنا ختم ہونا چاہیے۔‘

ٹوئٹر صارف عمر ملک نے بھارتی کپتان ویراٹ کوہلی اور پاکستان کے بابر اعظم کے ورلڈ کپ 2016 اور 2021 کا تقابلی جائزہ لے کر تحریر کیا: ’وراٹ کوہلی نے 2016 کے ورلڈ کپ میں 273 رنز بنائے اور ایونٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑیوں میں دوسرے نمبر پر رہے۔ ان کی ٹیم سیمی فائنل میں ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی اور انہیں ’پلیئر آف دا ٹورنامنٹ‘ قرار دیا گیا۔

محمد اویس نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہر کوئی یہ جانتا ہے کہ دنیا کے کسی بھی کھلاڑی سے زیادہ بابر اعظم ’پلیئر آف دا ٹورنامنٹ‘ بننے کے حقدار تھے۔‘

 

 

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ