پاکستان آئی ایم ایف معاہدے میں تاخیر، سرمایہ کار پریشان

پاکستان کا روپیہ گذشتہ ہفتے تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا اور مقامی سٹاک ڈوب گئے کیونکہ آئی ایم ایف کی جانب سے بیل آؤٹ پیکیج کے مستقبل پر غیر یقینی صورت حال کے درمیان سرمایہ کاروں نے ملک کے اثاثوں پر مندی کے رجحان سے کاروبار کا آغاز کیا۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ممکنہ معاہدے پر معروف کارٹونسٹ صابر نذر کی نظر (صابر نذر)

پاکستان کا روپیہ گذشتہ ہفتے تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا اور مقامی سٹاک ڈوب گئے کیونکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے بیل آؤٹ پیکج کے مستقبل پر غیر یقینی صورت حال کے درمیان سرمایہ کاروں نے ملک کے اثاثوں پر مندی کے رجحان سے کاروبار کا آغاز کیا۔

معروف بین الاقوامی نیوز ایجنسی بلوم برگ کے مطابق واشنگٹن کے قرض دہندہ کی طرف سے قرض کی تسلسل کے ساتھ فراہمی اپریل میں بظاہر ایک آسانی سے طے پانے والے معاہدے کے باوجود سات ماہ بعد بھی رکی ہوئی ہے کیونکہ اسلام آباد نے پروگرام کی کچھ شرائط کو نرم کرنے کے لیے بات چیت کرنے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان کے وزیر خزانہ نے منگل کو کہا ہے کہ وزارت قانون آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دے رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف کے کچھ مطالبات اس معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ہیں جس کے بارے میں پاکستانی وزیر خزانہ شوکت ترین نے پانچ نومبر تک کامیابی حاصل کرنے کی توقع ظاہر کی تھی۔

تاہم وزیراعظم عمران خان کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس سے قبل پانچ ’پیشگی اقدامات‘ مکمل کرنے ہوں گے۔ کارپوریٹ فلنتھراپی سروے کے اجرا کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف عملے کے ساتھ تمام معاملات حل ہوگئے ہیں جس کی بنیاد پر انہوں نے ہمیں ’پیشگی مکمل کرنے والے اقدامات‘ کی ایک فہرست مکمل کرنے کو دی ہے تاکہ وہ پاکستان کے حوالے سے بورڈ اجلاس بلا سکیں۔

اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ’مجھ سے تاریخ نہیں پوچھیں لیکن آئی ایم ایف ڈیل ہوچکی ہے۔‘

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ان پیشگی اقدامات میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل، ٹیکس استثنیٰ ختم کرنا اور توانائی کے نرخوں میں اضافہ کرنا شامل ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مطالبات خاص طور پر مرکزی بینک کی اصلاحات سے متعلق ہیں۔

اتنے دن گزر جانے کے بعد کسی معاہدے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے جو روپے کی قدر کو ایشیا کی بدترین حالت پر لانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔ مشیر خزانہ نے دو ہفتے قبل جلد معاہدے کی نوید سنائی تھی لیکن اتنا وقت گزر جانے کے باوجود کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ وزیر اعظم عمران خان کی پریشانیوں میں اضافہ کر رہا ہے جو پہلے ہی خطے کی تیز ترین مہنگائی اور حزب اختلاف کی جانب سے معیشت کو خراب کرنے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔

پاکستان نے بیلنس آف پیمنٹس کے بحران سے بچنے کے لیے 2019 میں آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالرز کا قرض حاصل کیا تھا۔ جس کے صرف ایک سال بعد اس پروگرام کو وبائی امراض کی وجہ سے روک دیا گیا تھا۔

آخر کار قرض دہندہ نے مارچ میں قرض کو دوبارہ جاری کرنے پر اتفاق کیا جب اپریل میں پاکستان کے مقرر کردہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے آسان شرائط کی کوشش کی تھی۔

ان شرائط میں انکم ٹیکس اور بجلی کے نرخوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔ اس کے بعد سے قرض کی اضافی قسطوں کے اجرا کا فیصلہ فریقین کے عہدیداروں کے درمیان کئی بار کے اجلاسوں کے باوجود غیر نتیجہ ثابت ہوئے۔

آئی ایم ایف کے فنڈز معیشت کے لیے ایک ضروری سہارا ہیں کیونکہ یہ کوویڈ کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے نکلنے کا راستہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے معیشت کی بحالی کی رفتار کو بڑھانے کے لیے مہنگائی سے لڑنے کے لیے وبائی دور کے اقدامات کو واپس لینا شروع کر دیا ہے۔

آئی ایم ایف کی پہلی شرط یہ تھی کہ سٹیٹ بینک پر سے وزارت خزانہ کی نگرانی کو ختم کر کے مرکزی بینک کے بورڈ میں وزارت کے نامزد شخص کو ہٹا کر اسے مالیاتی طور پر خود مختار کیا جائے اور قانونی چارہ جوئی سے استثنیٰ دلایا جائے۔

اس مطالبے کو وزارت کے ساتھ ساتھ قانون سازوں کی جانب سے بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور موجودہ صورتحال میں پارلیمنٹ کی منظوری حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے۔

دوسرا اہم نکتہ ٹریژری سنگل اکاؤنٹ میں منتقل ہونا ہے جس کے لیے تمام سرکاری فنڈز بینکوں سے مرکزی بینک میں منتقل کیے جانے ہوں گے۔

کمزور روپیہ

بازار حصص کا بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس جون میں اپنی بلند ترین سطح 5.4 فیصد تک گر گیا تھا یہاں تک کہ اب بھی روپیہ خسارے کا شکار ہے۔ فنچ کی 2022 کی ریٹنگ کے مطابق پاکستانی سکے کی اوسط قدر 180 روپے فی ڈالر متوقع ہے۔

اس کی وجہ ملک کی تجارت کی بگڑتی ہوئی شرائط، سخت امریکی مانیٹری پالیسی اور پاکستان سے افغانستان کی جانب ڈالرز کا بہاؤ ہے۔

پاکستانی وزیر خزانہ شوکت ترین نے گذشتہ ماہ تفصیلات بتائے بغیر کہا تھا کہ آئی ایم ایف اور پاکستان نے مالیاتی حوالے سے اختلافات دور کر لیے ہیں۔ انہوں نے اتوار کو کراچی میں ایک بار پھر کہا کہ بات چیت ایک اعلیٰ مرحلے پر پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے بجلی کے نرخوں کے ساتھ ساتھ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی قابل ذکر اضافہ کیا ہے۔ یہ ایسے فیصلے ہیں جو حکومت کو آئی ایم ایف کے مقرر کردہ مالی اہداف کو پورا کرنے میں مدد کرتے نظر آتے ہیں۔

پاکستان کا مرکزی بینک اگلے ہفتے پالیسی سیٹنگز پر نظرثانی کرنے والا ہے۔ سٹیٹ بینک نے نظام سے اضافی لیکویڈیٹی جذب کرنے کے لیے بینکس کے لیے کیش ریزرو کی ضروریات کو بڑھا دیا ہے۔

حکومتی قرضوں کی تفصیلات

حکومت پاکستان کے اقتصادی امور ڈویژن نے قرضوں سے متعلق تفصیلات جاری کی تھیں جن کے مطابق حکومت نے رواں مالی سال کے تین ماہ میں تین ارب 10 کروڑ ڈالرز کا قرضہ لیا جبکہ اسی دوران 17 ارب روپے کی گرانٹس موصول ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کو جولائی تا ستمبر چین سے سات کروڑ 33 لاکھ روپے قرض ملا تھا۔

حکومت نے باہمی معاہدوں کے تحت سات کروڑ 69 لاکھ ڈالرز قرض لیا جبکہ امریکہ سے پاکستان کو تین ماہ میں دو کروڑ 72 لاکھ ڈالرز قرض ملا۔

اس کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو 45 کروڑ 99 لاکھ ڈالرز قرض فراہم کیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ ملٹی لیٹرل مالی اداروں سے ایک ارب 56 کروڑ ڈالرز قرض لیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ حکومت نے کمرشل بینکس سے 45 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کا قرضہ لیا تھا۔ حکومت کو مختلف ممالک اور ملٹی لیٹرل اداروں سے 10 کروڑ ڈالر کی گرانٹس بھی ملی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت